پنجاب میں بروقت انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا؟
11 فروری 2023پاکستان کے سب سے بڑے صوبےپنجاب میں لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود آئین کے مطابق نوے دنوں میں الیکشن کے انعقاد کے امکانات روشن دکھائی نہیں دیتے۔ سیاسی ماہرین آئینی حکم کی خلاف ورزی کے لئے پیش کی جا نے والی تاویلوں کو ایک نئے 'نظریہ ضرورت‘ کا نام دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر ایک بار معمولی وجوہات پر الیکشن ملتوی کرنے کی روایت بن گئی تو پھر مستقبل میں بروقت انتخابات کا انعقاد مشکل ہو جائے گا۔
ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ماہر سیاسیات ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت جو سیاسی رجحان نظر آ رہا ہے اس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق الیکشن کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ '' میرے خیال میں الیکش کے التوا کے لئے جو وجوہات بیان کی جا رہی ہیں وہ تو ستمبر میں بھی موجود رہیں گی اس لئے حکومت نے ایک مرتبہ آئین کو نظر انداز کر دیا تو پھر ستمبر یا اکتوبر میں قومی اسمبلی کی مدت کی تکمیل کے بعد ہونے والے عام انتخابات کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ پھر الیکشن اس سال نہ ہو سکیں۔‘‘
نوے دن میں انتخابات
ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے اور اسی لیے الیکشن کا شیڈول فوری طور پر جاری کیا جائے۔
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں اپنی نوعیت کے اس اہم ترین فیصلے میں کہا گیا تھا ''الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صوبے کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نوٹیفکیشن کے ساتھ فوری کرے اور یقینی بنائےکہ انتخابات آئین کی روح کے مطابق 90 روز میں ہوں۔‘‘
اس فیصلے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوں تو پھر ہی یہ منصفانہ اور آزادانہ ہوں گے اور یہ کہ ان کے نتائج میں وزن ہوگا ورنہ بقول ان کے انتخابات کے نتائج کو نہ ماننے کی صورت میں اگر ایک فریق دھرنا دے کر بیٹھ گیا تو پھر ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکے گا۔
اردو کے ایک قومی روزنامے سے وابستہ سینئر صحافی چوہدری خادم حسین نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود پنجاب میں یہ انتخابات نوے دنوں میں نہیں ہو سکیں گے۔ ان کے خیال میں یہ معاملہ انٹراکورٹ اپیل سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک جائے گا کیونکہ وفاقی حکومت سمیت کئی اہم سٹیک ہولڈرزنہیں چاہتے کہ یہ الیکشن نوے دنوں میں ہو جائیں۔ '' جب تک وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی اس وقت تک الیکشن کروانے کا مطلب پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانا ہے اور یہ بات ان سب کو قبول نہیں ہے۔‘‘
بروقت انتخابات لازمی
سینئر تجزیہ کار سید ارشاد احمد عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ واضح عدالتی حکم کے بعد الیکشن نہ کروانا آئین کی خلاف ورزی، قانون شکنی اور جمہوریت سے انحراف ہوگا۔ ان کے بقول آئین کی الیکشن والی شق کا پس منظر یہ ہے کہ قانون سازی کرنے والوں نے بہت سوچ بچار کے بعد جب یہ دیکھا کہ سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں اسمبلی توڑنے کے بعد الیکشن کے حوالے سے تاخیری حربے اپنائے جا رہے ہیں تو انہوں نے اسمبلی توڑے جانے کی صورت میں واضح طور پر نوے دنوں کے اندر نئے انتخابات کروانے کا قانون پاس کیا۔'' اس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ پولیس اور عملہ دستیاب نہیں ہوتا تو الیکشن نہ کروائے جائیں۔ ‘‘
یاد رہے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ محکمہ تعلیم کا عملہ خانہ شماری میں مصروف ہے اور مارچ میں بچوں کے امتحانات بھی ہوں گے اس لئے الیکشن کی تاریخ سے پہلے ان حقائق کو بھی سامنے رکھا جانا چاہئے۔
ارشاد عارف کے مطابق الیکشن کمیشن پورا سال کام کرتا ہے۔ اس کے اہلکار بھاری تنخواہیں لیتے ہیں ان کو الیکشن کرانے کی آئینی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے اپنے اختیارات کو سختی کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر عسکری کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو اداروں سے تعاون کا پوچھنے کی بجائے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرکے انہیں وسائل اور مدد فراہم کرنے کا حکم جاری کرنا چاہیے کیونکہ آئین الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے اور ادارے اس کی بات ماننے کے پابند ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ارشاد احمد عارف کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب کا یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ انہوں نے اسمبلیاں نہیں توڑیں اس لئے وہ الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا،’’ جناب والا اگر آپ نے اسمبلیاں نہیں توڑیں تو پھر نگران حکومت سے حلف کیسے لے لیا ؟‘‘
سینئر صحافی چوہدری خادم حسین کا خیال ہے کہ اس ملک میں سیاسی معاملات کو عدالت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان درست نہیں ہے۔ ان کے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے اپنی پارٹی کے مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ''ہمارے عمران خان صاحب کا رویہ یہ رہا ہے کہ اگر میری بات مانی جاتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم سے امید نہ رکھی جائے، ان حالات میں ملک کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔‘‘
سید ارشاد احمد عارف سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں الیکشن سے پاکستان مسلم لیگ نون کا بھاگنا اس کا ووٹ کو عزت نہ دینے کے مترادف ہے۔ جو لوگ آئین پر خود عمل نہیں کر رہے وہ آئین شکن آمروں کو کیسے تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔