1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
جرائمپاکستان

پنجاب میں مسلح پولیس مقابلے: سی سی ڈی کا موقف

23 فروری 2026

پاکستانی صوبہ پنجاب کی پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تیز رفتار اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

سی سی ڈی کے ترجمان اور لاہور میں اس ادارے کے علاقائی سربراہ آفتاب احمد پھلروان
سی سی ڈی کے ترجمان اور لاہور میں اس ادارے کے علاقائی سربراہ آفتاب احمد پھلروانتصویر: Tanvir Shahzad/DW

پاکستان میں پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مطابق یہ کارروائیاں منظم جرائم پیشہ افراد، ڈرگ مافیا اور کرائے کے قاتلوں کے گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں، جو ماضی میں بڑی حد تک قانون کی گرفت سے باہر تھے۔

اس بارے میں ڈی ڈبلیو کی شائع کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے بعد سی سی ڈی کے متعدد سینئر افسران نے اس جرمن پبلک براڈکاسٹر کے ساتھ پہلی مرتبہ تفصیلی گفتگو میں اپنے ادارے کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے سی سی ڈی کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے مفصل جواب دیے۔ ڈی ڈبلیو نے اس سے قبل پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ کی روشنی میں سی سی ڈی کی کارروائیوں پر اٹھنے والے سوالات اور اس سلسلے میں عوامی تشویش کو اجاگر کیا تھا۔

کمزور نظام انصاف اور بے خوف مافیا

ڈی ڈبلیو کے ساتھ اس نشست میں سی سی ڈی کے ترجمان اور لاہور کے سربراہ آفتاب احمد پھلروان، ڈی آئی جی وقاص الحسن، ایس ایس پی ڈاکٹر عبدالحنان اور ایس پی شاہ میر شریک تھے۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب میں منظم جرائم پیشہ گروہ اس حد تک طاقتور ہو چکے تھے کہ قتل، ڈکیتی اور منشیات جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ضمانتوں پر رہا ہو جاتے تھے۔

ان افسران کے مطابق کمزور نظام انصاف، گواہوں کا خوف کے باعث مقدمات کی پیروی سے دستبردار ہو جانا اور بعض معاملات میں قوانین کے غلط استعمال نے جرائم پیشہ عناصر کی بے خوفی میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں کرائے کے قاتل گروہوں اور منظم مافیا گروپوں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھتی رہی تھیں۔

پنجاب نے تحریک لبیک پر پابندی کے لیے سمری وفاق کو بھجوا دی

پنجاب پولیس کے ذیلی شعبے سی سی ڈی کا لوگوتصویر: Tanvir Shahzad

سی سی ڈی کے قیام کی وجہ

پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق جرائم کے بعد ملزمان یا تو ملک سے فرار ہو جاتے تھے یا دوسرے صوبوں کے دور دراز علاقوں میں جا چھپتے تھے، جس سے ان کے خلاف مؤثر کارروائی مشکل ہو جاتی تھی۔ دوسری جانب روایتی پنجاب پولیس محرم، ربیع الاول، بسنت اور دوسرے مواقع پر دیگر سکیورٹی ذمہ داریوں میں اس قدر مصروف رہتی تھی کہ بعض علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کا مسلسل تعاقب ممکن نہیں رہتا تھا۔

اسی پس منظر میں صوبے میں سنگین اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا۔ ایس ایس پی ڈاکٹر عبدالحنان کے مطابق سی سی ڈی وی وی آئی پیز کی سکیورٹی، گھریلو جھگڑوں، مالی تنازعات، محرم کی ڈیوٹیوں یا حادثات کے واقعات میں ملوث نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دائرہ کار صرف منظم جرائم تک محدود ہے۔ ان کے بقول سی سی ڈی ڈکیتیوں، قتل کے سلسلے وار واقعات، ڈرگ مافیا اور خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا تعاقب کرتی ہے۔

پولیس مقابلوں میں اضافے کا اسباب

سی سی ڈی کے قیام کے بعد پولیس مقابلوں میں اضافے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آفتاب پھلروان نے بتایا کہ پنجاب میں پہلے بھی سالانہ 500 سے 600 تک پولیس مقابلے ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال ان میں 15 سے 20 فیصد اضافہ اس لیے ہوا کہ منظم مافیا اور سنگین جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشنز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

کیا جنسی جرائم کا حل نیفے میں پستول کا ’اچانک‘ چل جانا ہے؟

انہوں نے شیخوپورہ کے علاقے فیروز والا کے قریب واقع گاؤں غازی ککا میں منشیات کا دھندہ کرنے والوں کے خلاف حالیہ کارروائی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ گاؤں منشیات کی فروخت کا بڑا مرکز بن چکا تھا، جہاں لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر منشیات خریدتے تھے۔ ان کے مطابق وہاں کارروائی کے دوران پولیس پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی۔

آفتاب پھلروان کے بقول سی سی ڈی کے اہلکار اپنی اور اپنے خاندانوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم جرائم میں کمی کے نتیجے میں عام شہریوں کو ملنے والے تحفظ پر سماجی سطح پر عموماﹰ کم توجہ دی جاتی ہے، جبکہ جرائم کی طویل تاریخ رکھنے والے ملزمان کے حق میں آوازیں بھی مقابلتاﹰ زیادہ سنائی دیتی ہیں۔

سی سی ڈی کے ترجمان اور لاہور میں اس ادارے کے علاقائی سربراہ آفتاب احمد پھلروان ڈی ڈبلیو کے رپورٹر تنویر شہزاد سے گفتگو کرتے ہوئےتصویر: Tanvir Shahzad/DW

پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی کم تعدادکا پس منظر

ڈی ڈبلیو کے اس سوال پر کہ پولیس مقابلوں میں زیادہ تر ہلاکتیں مبینہ ملزمان کی ہی کیوں ہوتی ہیں، سی سی ڈی کے ایس پی شاہ میر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پولیس کو جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا۔ ان کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران پولیس کے ڈیڑھ درجن سے زائد اہلکار اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔

'سی سی ڈی‘ پولیس: کیا عوامی تاثر بدل سکے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ بہتر حفاظتی انتظامات ہیں۔ پولیس اہلکار اب لائف جیکٹس اور اسٹیل ہیلمٹس استعمال کرتے ہیں، جدید تربیت اور جدید اسلحے سے لیس ہیں۔ ان کے مطابق اگر جرائم پیشہ افراد کے پاس تین سے چار سو میٹر تک فائر کرنے والا اسلحہ ہے تو پولیس اہلکار ساڑھے چھ سو میٹر تک فائر کرنے والی جی تھری رائفلیں استعمال کر رہے ہیں۔

جرائم کی شرح میں کمی کے دعوے

سی سی ڈی کے اعلیٰ افسران کے مطابق پچھلے نو ماہ کے دوران قتل کے مقدمات میں 24 فیصد، اقدام قتل کے واقعات میں 18 فیصد، ڈکیتی کی وارداتوں میں 60 فیصد اور نقب زنی کی وارداتوں میں 27 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جرائم میں اس کمی کے پیچھے سی سی ڈی کی کارروائیوں کے علاوہ دیگر عوامل بھی کار فرما رہے ہیں۔

پولیس کے دعووں کی تصدیق کا طریقہ

سرکاری اعداد و شمار کی ساکھ کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ایک سوال پر ڈی آئی جی وقاص الحسن نے کہا کہ سی سی ڈی کے دعووں پر یقین کرنے کے لیے صرف پولیس کے اپنے بیانات پر انحصار کرنا ضروری نہیں۔ ان کے مطابق پچھلے نو ماہ میں ون فائیو ہیلپ لائن پر جرائم سے متعلق کالوں میں کمی بھی خود اس بات کا ثبوت ہے، جبکہ صوبے بھر میں نئی ایف آئی آرز کا ریکارڈ بھی پولیس کے ایسے دعووں کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اگر کسی کو اس بارے میں شک ہو، تو وہ عام لوگوں سے بھی ان کی رائے پوچھ سکتا ہے۔‘‘

کون سے شہر زیادہ متاثر تھے؟

ڈی آئی جی وقاص الحسن کے مطابق اگرچہ سی سی ڈی کی موجودگی تمام اضلاع میں ہے، تاہم لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، سرگودھا، ملتان اور گوجرانوالہ امن و امان کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر تھے۔ ان کے بقول اب ان شہروں میں صورتحال واضح طور پر بہتر ہو چکی ہے۔

لاہور: طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو درجن طلبا زخمی

سی سی ڈی کے اہلکار صوبائی محکمہ پولیس کے لیے کام کرتے ہوئے امن عامہ کی ان روایتی ذمے داریوں کا حصہ نہیں بنتے، جو عام پولسی اہلکار انجام دیتے ہیں، جیسے کہ اس تصویر میں پولیس اہلکار احتجاجی طلبہ کو بدامنی سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیںتصویر: W. K. Yousafzai/AP Photo/picture alliance

قانون، نگرانی اور جواب دہی

سی سی ڈی حکام کے مطابق یہ ادارہ مکمل طور پر قانون کے تحت قائم کیا گیا اور قانون ہی کے مطابق کام کرتا ہے۔ آفتاب پھلروان کے مطابق سی سی ڈی کا سربراہ انفرادی فیصلے نہیں کرتا بلکہ تمام اہم معاملات سی سی ڈی بورڈ کی مشاورت سے طے پاتے ہیں۔

ان کے بقول سی سی ڈی کی جوڈیشل نگرانی بھی ہوتی ہے اور ہر پولیس مقابلے کے بعد مجسٹریٹ کی سطح پر انکوائری اور عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے علاوہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی نگرانی بھی رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کے پاس بھی سی سی ڈی کے بعض کیسز زیر سماعت ہیں، اس لیے بھی اس ادارے کو ہر قدم پر انتہائی محتاط رہنا پڑتا ہے۔

ایف آئی آرز کا تقریباﹰ ایک سا متن

پولیس مقابلوں کے حوالے سے درج کردہ ایف آئی آرز کے متن اور واقعات میں یکسانیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آفتاب پھلروان نے کہا کہ پولیس مقابلوں کی نوعیت اکثر ایک جیسی ہوتی ہے، جیسے مخبری، ریڈ، ملزمان کی فائرنگ اور جوابی فائرنگ۔ ان کے مطابق کئی بار قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ایف آئی آر مخصوص انداز میں لکھی جاتی ہے۔

پاکستان: ’تحریک لبیک پاکستان‘ پر پابندی عائد

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ایک واقعے میں متاثرہ خاندان کو ہلاک ہونے والے کی نماز جنازہ کے بعد میت کی جلد تدفین کے لیے کہا گیا تھا، تاہم ''اس کی وجہ بھی امن و امان کی صورتحال ہی تھی، نہ کہ کوئی بدنیتی۔‘‘

ایک اہم قانونی نکتہ

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ نظام عدل کی کمزوریوں اور مقدمات کی عدم پیروی کے باوجود کسی بھی ادارے کو انسانی جان لینے کا اختیار حاصل نہیں، اور قانون کی بالادستی ہی تمام جرائم کے دیرپا خاتمے کا واحد راستہ ہے۔

ادارت: مقبول ملک

پنجاب پولیس کی ٹرانس جینڈر پولیس آفیسر

04:09

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں