پولیس تشدد’جرمنی بھی کم نہیں‘
18 ستمبر 2019
جرمنی کی رُوہر یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے غیر ضروری تشدد کے بے شمار واقعات رپورٹنگ کے بغیر ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غیر اعلانیہ پولیس تشدد کے واقعات معلومہ تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔
رُوہر یونیورسٹی کی یہ ریوٹ علم جرائم کے تین ماہرین نے مرتب کی ہے۔ اس ٹیم کی سربراہی پروفیسر ٹوبیاس زینگیلن شٹائن کر رہے تھے۔ اس ریسرچ ٹیم نے کم از کم تین ہزار تین سو افراد سے سوالات کیے۔ یہ تین ہزار تین سو افراد وہ تھے، جو پولیس تشدد کا سامنا کر چکے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2018 میں صرف دو ہزار افراد کو پولیس کی جانب سے تفتیشی عمل کے دوران تشدد کا سامنا رہا تھا۔ یہ تعداد دفتر استغاثہ نے مرتب کی تھی اور ان واقعات میں پولیس نے قانون کے نفاذ اور تفتیشی عمل کے دوران غیرقانونی انداز میں تشدد کیا تھا۔
رُوہر یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم میں شامل دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں ایک لیلی عبدالرحمان اور دوسری حنا ایشپن گراؤ تھیں۔ لیلیٰ کے مطابق اس ریسرچ کے دوران لوگوں کے ردعمل نے اُنہیں حیرت زدہ کر دیا تھا اور یہ معلومات بھی سامنے آئی کہ پولیس تشدد کے بے شمار واقعات کو متاثرہ افراد نے کسی بھی سطح پر رپورٹ نہیں کیا۔
لیلیٰ عبدالرحمان نے مزید کہا کہ اس ریسرچ کے دوران یہ حیران کن معلومات بھی حاصل ہوئی کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تشدد کے تناظر میں دفتر استغاثہ اور متاثرین نے داد رسی کے لیے بہت کم دعوے عدالت کے سامنے لائے۔
ریسرچ کے مطابق سیاسی مظاہروں کے دوران پولیس کے تشدد کی شرح نو فیصد ہے ایسے تشدد کے حوالے سے انتہائی کم لوگوں نے انصاف طلب کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب جرمن فٹ بال میچوں کے دوران ہونے والی ہلڑ بازی اور پولیس کی کارروائی کے حوالے سے ہونے والی عدالتی کارروائی کی شرح سولہ فیصد ہے۔
ایسی عدالتی کارروائیوں میں صرف سات فیصد مقدمات میں متاثرین کے دعوووں سے عدالت متفق ہوئی ہے جبکہ انہتر فیصد دعوے بےبنیاد اور عدم ثبوتوں کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔ لیلیٰ عبدالرحمان کے مطابق فٹ بال میچوں کی ہلڑ بازی کے کئی مقدمات اس لیے بھی خارج کر دیے گئے کیونکہ متاثرین ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے اور اس کا بھی خدشہ تھا کہ دعویٰ کرنے والوں کو الٹا عدالت کی جانب سے سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کیٹ مُون مارٹیئر (عابد حسین)