پولینڈ: نئی پارٹی کے پیچھے روس کا ہاتھ؟
12 مارچ 2015
بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی اس نئی جماعت کے بانیوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ عام آدمی کے مفادات کی ترجمان ہے۔ اس کا منشور یہ ہے کہ دفاعی بجٹ کی بجائے سماجی شعبے کے لیے زیادہ پیسہ مختص کیا جائے۔ مزید یہ کہ پولینڈ کو یورپ پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے نکل جانا چاہیے۔ کچھ حلقے ان ساری باتوں کو نمائشی قرار دیتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ اس جماعت کی صورت میں دراصل روس درپردہ پولینڈ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پولستانی زبان میں اس جماعت کا نام Zmiana یعنی ’تبدیلی‘ ہے اور اتفاق سے اس کا دفتر بھی دارالحکومت وارسا کے وسط میں اُسی عمارت میں ہے، جہاں پولستانی سوویت دوستی کی انجمن کا سابق دفتر ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ ابھی اس جماعت کے ارکان کی تعداد محض پچیس سو ہے لیکن پولینڈ کے سابق وزیر انصاف ژاروسلاو گووِین کے خیال میں یہ جماعت ایک بہت بڑی اشتعال انگیزی کے مترادف ہے: ’’یہ پولینڈ میں روس کے ٹروئے کے ایک گھوڑے کی مانند ہے۔‘‘
’سَمیانا‘ کے اڑتیس سالہ بانی ماتیوش پِسکورسکی اس طرح کے الزامات کو رَد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن کی جماعت نہ تو ماسکو حکومت کی جانب دوستانہ رویہ رکھتی ہے اور نہ ہی پوٹن کے اشاروں پر چلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُن کی جماعت کا واحد مقصد پولینڈ کو خوب سے خوب تر بنانا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’’پولینڈ میں ابھی تک ایک ایسی سیاسی تنظیم کی کمی تھی، جسے عمومی طور پر امن کی جماعت قرار دیا جا سکے، مثلاً ایک ایسی جماعت، جو یوکرائن کے ساتھ تنازعے کے پُر امن حل کے لیے کوشاں ہو۔ ایک ایسی جماعت، جو ہماری سرحدوں سے باہر کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت کی اصولی طور پر مخالفت کرے۔‘‘
پولستانی ماہرِ سیاسیات ماریک میگالسکی کے مطابق حقیقت میں اس جماعت کو ماسکو سے چلایا جا رہا ہے:’’پِسکورسکی کی طرح کے سیاستدان، جن کا مقصد یورپی یونین اور نیٹو کو کمزور کرنا ہے، یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ یہ لوگ ان ملکوں میں پوٹن اور ماسکو نواز پراپیگنڈا پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہ ووٹروں کو فریب دے رہے ہیں تاکہ ماسکو حکومت کی نظریاتی، اقتصادی اور فوجی توسیع کو آسان بنایا جا سکے۔‘‘
جواب میں پِسکورسکی کہتے ہیں کہ وہ بہرحال ایک ایسے یورپ میں نہیں رہنا چاہتے، جس کی باگ ڈور امریکی یا دوسرے لفظوں میں روس مخالف ہاتھوں میں ہو۔ وہ ایک ایسے یورپ کے حامی ہیں، جس میں روس کے ساتھ اقتصادی اشتراکِ عمل پر توجہ مرکوز کی جائے نہ کہ اُس کے ساتھ تنازعات پر۔ وہ کہتے ہیں کہ پولینڈ کو سوچنا ہو گا کہ اُس کا فائدہ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے میں ہے یا گیارہ ارب ڈالر کی روسی منڈی سے محروم ہونے میں۔
پِسکورسکی کہتے ہیں:’’ہم فیصلہ کن طور پر اس حق میں ہیں کہ پولینڈ نیٹو سے نکل جائے۔ نیٹو دفاعی اتحاد جارحانہ خصوصیات کے حامل ایک فوجی اتحاد کی شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ نیٹو امریکا کا آلہٴ کار ہے۔ مَیں نہیں چاہتا کہ یورپی سرزمین پر امریکی فورسز تعینات کی جائیں۔ یورپ کو اپنی دفاعی پالیسیاں خود بنانا چاہییں۔‘‘
زیادہ سے زیادہ اس سال موسمِ خزاں میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں یہ بات واضح ہو کر سامنے آ جائے گی کہ درحقیقت کتنی بڑی تعداد میں پولستانی شہری ’تبدیلی‘ کے حق میں ہیں۔ تب تک وارسا میں زیادہ تر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ نئی جماعت زیادہ سے زیادہ روسی خفیہ سروس کے لیے ہی دلچسپ ہو گی لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو یہ کم خطرناک بات نہیں ہے۔