1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پوٹن جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے سے علیحدہ

21 فروری 2023

روسی صدر نے یوکرین کے معاملے پر مغرب کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے دوطرفہ معاہدہ سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یوکرین پر روسی حملے کا ایک برس مکمل ہونے سے کچھ دن پہلے مغرب کو اس جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹنتصویر: Sergei Karpukhin/TASS/IMAGO

روسی صدر نے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دا نیشن‘ خطاب ہمسایہ ملک یوکرین میں روسی حملے کا ایک برس مکمل ہونے سے چند دن ہی قبل کیا۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور ملٹری کمانڈرز سے کیے گئے اس خطاب میں پوٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ مغرب 'یوکرین تنازعے کو بھڑکانے‘ کا ذمہ دار ہے۔

پوٹن نے امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے دو طرفہ معاہدے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اسٹریٹیجک سسٹمز کو جنگی ذمہ داری پر لگا دیا گیا ہے اور یہ کہ ماسکو اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات بھی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ روس کی فوجی اور سیاسی اشرافیہ سے اپنے خطاب میں پوٹن نے کہا کہ مغرب کی اشرافیہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ روس کو میدان جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں ہے۔

روسی فوج 24 فروری 2022ء کو یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک وہاں کوئی  قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ یہ جنگ اب تک ہزاروں انسانی جانیں لے چکی ہے، کئی ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ کئی شہر اور گاؤں ملبے کےڈھیر بن چکے ہیں۔

جنگ کے بارے میں پوٹن کے خیالات

پوٹن نے  اس جنگ کے بارے میں جسے ماسکو 'اسپیشل ملٹری آپریشن‘ کا نام دیتا ہے، کہا کہ روس لوگوں کو 'آزادی دلانے‘ کے لیے یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی عوام 'اپنی ہی حکومت کے یرغمال‘ ہیں۔

روسی سربراہ نے ماسکو کی طرف سے شروع کی جانے والی جنگ کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا، ''قدم بقدم احتیاط اور طریقے سے ان مسائل کا حل کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔‘‘

ولادیمیر پوٹن نے یوکرین تنازعے کو ہوا دینے کا الزام مغرب پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سربراہی میں مغربی ممالک عالمی معاملات میں 'لامحدود طاقت‘ حاصل کرنے کی کوشش میں تھے۔

یوکرین کو ٹینک کیوں چاہیے ہیں؟

04:57

This browser does not support the video element.

پوٹن کے بقول، ''یوکرین تنازعے کو ہوا دینے، اس میں اضافے، متاثر ہونے والوں کی تعداد اور اس سب کی ذمہ داری مکمل طور پر مغربی اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

مغربی ممالک  طویل عرصے سے پوٹن کے اس دعوے کی ترید کرتے آئے ہیں اور مسلسل اس نکتہ نظر پر قائم ہیں کہ روس کی یوکرین میں جنگ 'بلا اشتعال‘ تھی۔

اپنے اس خطاب میں پوٹن نے مزید کہا کہ ماسکو نے ''ہر ممکن کوشش کی، واقعی ہر ممکن چیز کہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے۔ مگر ہماری پیٹھ پیچھے ایک بالکل ہی مختلف منظرنامہ تیار کیا جا رہا تھا۔‘‘

انہوں نے 2014ء میں کریمیا کو روس میں ضم کرنے کے بعد مغربی ممالک کی طرف سے امن کی کوششوں کو بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ نارمنڈی فارمیٹ اور منسک معاہدہ 'حقیقی یا کھرے نہیں ہیں۔‘‘

معاشی صورتحال

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا یہ خطاب ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب روسی معیشت یورپی یونین اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے سبب شدید دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عوام میں غیر یقینی بڑھی ہے۔

اپنے خطاب میں اس حوالے سے روسی صدر کا کہنا تھا، ''ہم نے وفاق کے ان نئے حصوں (یوکرین کے روس میں ضم کیے گئے حصے) میں سماجی اور معاشی بحالی اور تعمیر وترقی کا کام پہلے ہی شروع کر دیا ہے اور اس کا دائرہ کا بڑھانے پر کام جاری رکھیں گے۔‘‘

''ہم بحیرہ آزوف کی بندرگاہوں کاروباروں اور ملازمتوں کی بحالی کی بات کر رہے ہیں، جو دوبارہ مرکزی روس کا حصہ بن گئے ہیں اور ہم وہاں جدید سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں، جیسا ہم نے کریمیا میں کیا تھا۔‘‘ 

وفاقی روسی پارلیمان سے پوٹن کا اس نوعیت کا یہ 18وں خطاب تھا ، جس کا مقصد ملکی صورتحال کی وضاحت کرنا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپریل 2021ء میں ایسا خطاب کیا تھا جو یوکرین میں جنگ شروع کرنے سے پہلے کی بات ہے۔ انہوں نے 2022ء میں تاہم یہ خطاب نہیں کیا تھا۔

پوٹن کے  اس تازہ خطاب کو روس کے صدارتی انتخابات کی تیاری کے ایک حصے کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے، جس میں اب ایک برس سے بھی کم باقی رہ گیا ہے۔ روسی آئین میں تبدیلیوں کے بعد اس وقت 70 سالہ ولادیمیر پوٹن 2036ء تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

میدان جنگ میں ناکامیاں

یوکرین میں جنگ شروع کرنے کے بعد سے روسی فورسز میدان جنگ سے تین مقامات پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئیں مگر اب بھی  یوکرین کا قریب 20 فیصد علاقہ روسی فورسز کے قبضے میں ہے۔

پوٹن قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ روس مغرور مغرب کے ساتھ اپنے وجود کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے، جو روس کے حصے بخرے کر کے اس کے قدرتی ذرائع چوری کرنا چاہتا ہے۔

پیر کے روز جیل میں قید روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی نے ولادیمیر پوٹن پر اپنے عزائم کے لیے روس کے مستقبل کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ تاریخ میں فاتح زار کے طور پر جانے جانا چاہتے ہیں۔‘‘

یوکرین جنگ سے منافع کون حاصل کر رہا ہے؟

03:01

This browser does not support the video element.

ا ب ا/ش ر (روئٹرز، ڈی پی اے)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں