پوٹن کے مجوزہ دورہ بھارت میں ’حیران کن اعلانات‘ متوقع
28 نومبر 2025
بھارتی وزارتِ خارجہ نے آج بروز جمعہ ایک بیان میں کہا کہ صدر پوٹن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر چار سے پانچ دسمبر تک بھارت کا دورہ کریں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پوٹن کا یہ دورہ بھارت اور روس کو اپنے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔
بیان کے مطابق یہ سرکاری دورہ بھارت اور روس کی قیادت کو ’’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وژن طے کرنے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلۂ خیال کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘
یہ 2021 کے بعد صدر پوٹن کا بھارت کا پہلا دورہ ہو گا۔ وہ 23 ویں سالانہ بھارت-روس سمٹ میں روسی وفد کی قیادت کریں گے۔
پوٹن کے دورے کی اہمیت
یہ دورہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت کی روسی توانائی کی درآمد اور بالخصوص امریکی صدر کی جانب سے اگست میں بھارت پر تعزیری پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد سے بھارت اورامریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں روسی امور کی ماہر پروفیسر ارچنا اُپادھیائے نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوٹن کا دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ بھارت کی سب سے مضبوط اور پائیدار شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نےکہا، ''کسی بھی دوسرے ملک نے بھارت کے ساتھ اس طرح کا بامقصد اور دیرپا تعلق قائم نہیں کیا، جو روس سے ہے، اور یہ تعلق سوویت دور سے چلا آرہا ہے۔‘‘
پروفیسر اپادھیائے کا مزید کہنا تھا، ’’یہ دورہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین-روس تنازع کے حل کے لیے 28 نکاتی نیا امن فارمولا پیش کیا ہے، جس کے تحت کییف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ کچھ علاقے روس کے حوالے کرے اور یوکرین کی فوج کا حجم محدود کیا جائے۔‘‘
’روس نے کبھی بھارت کو لیکچر نہیں دیا‘
پروفیسر ارچنا اُپادھیائے کا کہنا ہے کہ روس بھارت کا بھروسہ مند شراکت دار رہا ہے۔ ''جہاں تک بھارت کے اندرونی معاملات کا تعلق ہے، روس نے کبھی بھارت کو لیکچر نہیں دیا۔ اور میں یہ اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ ہمارا نوآبادیاتی تجربہ رہا ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی نصیحت یا ڈانٹ ڈپٹ، خاص طور پر مغرب کی طرف سے، کے بارے میں نہایت حساس ہیں۔ چاہے وہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں ہوں، مذہبی آزادی کا مسئلہ ہو یا جمہوریت کی نوعیت پر سوال ہو۔‘‘
اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''بھارت کو روس اور سوویت یونین سے ہمیشہ حمایت ملی ہے، اور آج بھی اگر آپ دیکھیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم مسائل پر،خاص طور پر کشمیر کے معاملے پر، روس بھارت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔‘‘
کیا بھارت یوکرین جنگ کے خلاف ہے؟
اس سوال کے جواب میں کہ بھارت یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کرتا؟ پروفیسر ارچنا اُپادھیائے کا کہنا تھا، ''جنگ کی مذمت؟ دیکھیں، بھارت کے پاس اپنے احساسات اور مؤقف کو بیان کرنے کے مختلف طریقے ہیں، اور بھارت کا مؤقف اس بارے میں بالکل واضح رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''جب بھارتی وزیراعظم نے سمرقند میں صدر پوٹن کے سامنے بیٹھ کر کہا کہ 'یہ جنگ کا دور نہیں ہے‘، وہ بھارت کا مؤقف صاف ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح جب وہ ماسکو میں تھے، تو انہوں نے مختلف انداز میں یہ خواہش ظاہر کی کہ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ جنگ میں کسی کی حقیقی فتح نہیں ہوتی۔ لہٰذا کون سا لفظ یا فقرہ استعمال ہونا چاہیے، یہ بھارت خود طے کرے گا۔‘‘
دفاعی تعلقات
بھارت گوکہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی کوشش کر رہا ہے مگر آج بھی اس کے دفاعی سازوسامان کا تقریباً 37 فیصد حصہ روس سے آتا ہے۔
روسی امور کی ماہر کے مطابق دفاع کے معاملے میں روس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، بھارت کا روس پر انحصار برقرار ہے، خاص طور پر خود انحصار بھارت کے دفاعی منصوبے میں۔ روسی کمپنیاں سرمایہ کاری بھی کر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بھی تیار ہیں۔
’’یہاں تک کہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے سلسلے میں بھی یہ امکان ہے کہ صدر پوٹن کے دورۂ بھارت کے دوران کچھ معاہدہ طے پا سکے۔‘‘
ارچنا اُپادھیائے کے مطابق یہ یقیناً ایک عام یا روایتی دورہ نہیں ہے۔ بہت سی باتیں پہلے سے واضح ہیں، لیکن کچھ حیران کن اعلانات بھی ہو سکتے ہیں۔
ادارت: شکور رحیم