پہلی عالمی جنگ کے آغاز کو سو برس ہو گئے، یورپی سربراہی اجلاس
26 جون 2014
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں آج سے یورپی یونین کے رکن ممالک کے حکومتی اور ریاستی سربراہان کا ایک در روزہ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں دیگر بین الاقوامی اور علاقائی موضوعات کے علاوہ یوکرائن کے بحران کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سمٹ کے شرکاء یوکرائن کے بحران میں مزید خرابی کی صورت میں روس پر پابندیوں میں اضافے سے متعلق مشورے کریں گے۔
یوکرائن کا بحران یورپی سطح پر تو باعث تشویش ہے ہی لیکن بھی اس تناظر میں روس اور اُس کے مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ آج سے برسلز میں شروع ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب لاراں فابیوس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا، ’’یہ معاملہ اب روس کے لیے نہایت سنگین ہو گیا ہے۔ ماسکو کو اگلے چند گھنٹوں کے اندر اندر یہ دکھانا ہوگا کہ وہ علیحدگی پسندوں کو غیر مسلح کرنے، ہتھیار پھینکنے کے عمل میں اُن کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں ایک قانونی سیاسی عمل کا حصہ بننے پر آمادہ کر رہا ہے۔‘‘ جان کیری نے مزید کہا، ’’ہم سب اس امر پر اتفاق کرتے ہیں کہ روس کے خلاف مزید پابندیوں کی تیاری مکمل رہنی چاہیے تاہم یہ ہماری ترجیح نہیں ہوگی۔‘‘
یورپی یونین کے اس سربراہی اجلاس کے موقع پر اس بلاک کے رہنما آج جمعرات کو بیلجیم کے تاریخی شہر ژیپرن (Ypern) میں اکٹھا ہو کر ایک صدی قبل شروع ہونے والی پہلی عالمی جنگ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے اس مغربی شہر کو پہلی عالمی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ اس شہر کے ہرے بھرے باغات فوجی مورچوں اور میدان جنگ میں تبدیل ہو گئے تھے۔ جرمن گولہ بارود سے یورپ کا یہ قدیم تجارتی شہر تباہ ہو گیا تھا۔
آج کے اجلاس کے پروگرام کے مطابق شرکاء جمعرات کی سہ پہر پہلے ژیپرن کے ایک تاریخی ہال میں جمع ہوں گے، جہاں کبھی کپڑے کا کاروبار ہوا کرتا تھا۔ جنگ کے بعد دوبارہ تعمیر ہونے والی اس عمارت میں اب ایک میوزیم قائم ہے، جہاں جنگ کی بھیانک یادیں تازہ کرنے والی اشیاء ایک ملٹی میڈیا نمائش کی صورت میں رکھی گئی ہیں۔ یہ میوزیم ٹاؤن ہال کے پہلو میں واقع ہے تاہم پہلی عالمی جنگ کی یاد میں مرکزی تقریب کا اہتمام بیلجیم کے اس قدیم شہر کے ایک کونے پر واقع ایک میموریل گیٹ ’مینن ٹور‘ کے سامنے ہوگا۔
ہلکے رنگ کے پتھروں سے تعیمر کردہ یہ میموریل گیٹ 1927ء سے لاپتہ برطانوی دولت مشترکہ کے 54 ہزار 896 فوجیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ آج رات گئے تک جاری رہنے والی ان تقریبات کے بعد کل جمعے کو یورپی یونین کے رکن ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت اپنی سمٹ کے لیے برسلز میں یونین کی کونسل کی عمارت میں جمع ہوں گے۔