پیرس حملے میں شریک مشتبہ لڑکی شام میں داخل، ترکی
12 جنوری 2015
ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اوگلو سرکاری نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں گروسری مارکیٹ کے حملہ آور کی گرل فرینڈ حیات بُومدین میڈرڈ سے استنبول پہنچی اور اس نے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ ترک وزیر خارجہ کے مطابق حیات بُومدین پیرس حملوں سے پہلے ہی ترکی پہنچ چکی تھی جبکہ آٹھ جنوری کو وہ ترک سرحد عبور کرتے ہوئے شامی علاقے میں داخل ہو گئی جبکہ اس وقت اس کے باقی عسکریت پسند ساتھی مفرور تھے۔
فرانس پولیس کے مطابق چھبیس سالہ حیات بُومدین مشرقی پیرس کی مارکیٹ پر حملہ کرنے والے امیدی کُولی بالی (Amedy Coulibaly) کی پارٹنر بھی ہے۔ یہ خاتون اب فرانسیسی پولیس کو انتہائی مطلوب ہے۔ حیات بُومدین کے حوالے سے پولیس نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اِس سے یقینی طور پر محتاط رہیں کیونکہ اِس خاتون کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی وجہ سے وہ خطرناک ہو سکتی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ حیات بُومدین کے بارے میں اطلاعات ملتے ہی پیرس حکام کو تمام تر معلومات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
حساس مقامات کی حفاظت
دریں اثناء فرانس نے ملک کے حساس مقامات کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر اضافی پندرہ ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں ملک بھر میں موجود یہودی اسکولوں کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں قائم 700 یہودی اسکولوں کے لیے 5000 اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ پیرس کے جنوبی حصے میں واقع ایک یہودی اسکول میں والدین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ بیرنار کازینیوو کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر فوجیوں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔ فرانس میں گزشتہ ہفتے تین مختلف دہشت گردانہ واقعات میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دریں اثناء پیرس میں اسرائیلی سفارت کار نے کہا ہے کہ ان کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو آج اس گروسری مارکیٹ کا دورہ کریں گے، جہاں حملے کے دوران چار یہودی بھی مارے گئے تھے۔
گزشتہ روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں یکجہتی ریلی میں درجنوں عالمی رہنماؤں سمیت ایک ملین سے زائد افراد نے شرکت کی۔ فرانس کی تاریخ کے اس سب سے بڑے اجتماع میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کے ساتھ دنیا بھر سے 40 سے زائد رہنماؤں نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر مارچ کیا۔ یکجہتی ریلی کا انعقاد پیرس میں دہشت گردانہ واقعات میں 17 افراد کی ہلاکت کے تناظر میں کیا گیا جن میں پیرس کے ایک اخبار شارلی ایبدو پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما کو اس ریلی میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔