پیسوں کے بدلے میں یورپی یونین میں رہائش
24 ستمبر 2013
لیٹویا کے بینکرز اور جائیداد کی خرید و فروخت سے منسلک افراد ’کیش کے بدلے میں رہائش‘ دینے کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق اس اسکیم کی بدولت دنیا کے امیر افراد اپنی دولت سمیت ان کے ملک میں آ رہے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کہتے ہیں کہ اس طرح سابق سویت یونین کے کئی مشکوک تاجر،جو کالا دھن رکھتے ہیں، یورپی یونین میں داخل ہو رہے ہیں۔
لیٹویا میں کم ازکم 50 ہزار لاتس ( 71 ہزار یورو یا 96 ہزار ڈالر) مالیت کی پراپرٹی خریدنے کے عوض یورپی یونین کا پانچ سالہ رہائشی پرمٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون سن 2010ء میں نافذ العمل ہوا تھا اور اس کے بعد سے تقریباﹰ سات ہزار غیرملکی یورپی یونین کا رہائشی پرمٹ حاصل کر چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت ان کے ملک میں تقریباﹰ 600 ملین یورو کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ اعدا د وشمار کے مطابق سن 2015ء تک یہ سرمایہ کاری بڑھ کر 1.7 ارب تک پہنچ جائے گی۔
حکومت کے مطابق اس غیر ملکی سرمایہ کاری سے نہ صرف ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو فائدہ پہنچا ہے بلکہ ان کا ملک کساد بازاری کے عالمی بحران سے نکلنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رہائشی پرمٹ حاصل کرنے والے زیادہ تر غیرملکیوں کا تعلق روس، یوکرائن اور قازقستان سمیت سابق سویت یونین کے ممالک سے ہے۔
لیٹویا شینگن زون کا حصہ ہے اور جس کے پاس بھی اس ملک کا رہائشی پرمٹ ہوگا وہ شینگن زون میں شامل تمام 26 یورپی ملکوں میں بغیر کسی ویزے کے سفر کر سکتا ہے۔ لیٹویا کی قدامت پسند جماعت نیشنل الائنس اور یورپی پارلیمان کے رکن روبرٹ سیلی کا کہنا ہے کہ لٹویا آنے والے زیادہ تر غیرملکیوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ یورپی ممالک تک رسائی حاصل کر سکیں۔ و کہتے ہیں، ’’ وہ لیٹویا میں گھر نہیں بلکہ شینگن زون تک رسائی خرید رہے ہیں۔‘‘
روبرٹ سیلی کا کہنا تھا کہ نئے آنے والے غیرملکیوں کو رہائشی پرمٹ تو لیٹویا حکومت دیتی ہے لیکن زیادہ تر افراد رہائش کسی دوسرے ملک میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کی وجہ سے پورپی کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ میں ان کے ملک کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔