1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پیٹریاٹ میزائل سسٹم: اولین جرمن فوجی دستوں کی ترکی میں تعیناتی

8 جنوری 2013

وفاقی جرمن فوج ترکی میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تنصیب کے سلسلے میں اپنے اولین فوجی دستے آج منگل کے دن سے ترکی میں تعینات کر رہی ہے۔ ابتدائی جرمن دستہ قریب دو درجن فوجیوں پر مشتمل ہے۔

تصویر: Detmar Modes/BMVg/dapd

یہ جرمن فوجی منگل کی صبح ہالینڈ کے شہر Eindhoven سے اپنے ڈچ ساتھیوں کے ایک دستے کے ساتھ ترکی میں اِنچِیرلِک کے لیے پرواز کر گئے۔ شام کے خونریز تنازعے کے پس منظر میں ترک سرحدی علاقے پر گرنے والے شامی بموں کے تناظر میں نیٹو نے اس مغربی دفاعی اتحاد کے رکن مختلف ملکوں سے جو پیٹریاٹ میزائل ترکی میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے تحت جرمن پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی آج ہی ترکی روانہ کر دیا جائے گا۔

ترکی میں جرمن پیٹریاٹ میزائل شامی سرحد سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر نصب کیے جائیں گےتصویر: Deutsche Bundeswehr/Getty Images

نیٹو کے رکن متعدد ملکوں نے یہ اقدامات کر کے دفاعی حوالے سے انقرہ حکومت کی ایک فوری عسکری خواہش پوری کر دی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد ترکی میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم نصب کر کے اپنے رکن اِس ملک کو اُس کے جنوبی ہمسایہ ملک شام میں بدامنی کے اثرات سے متاثر ہونے سے بچانا چاہتا ہے۔

اس اقدامات میں جرمنی کی شمولیت کے سلسلے میں برلن میں وفاقی حکومت یہ واضح کرنے کی کوششوں میں ہے کہ ترکی میں شامی سرحد کے قریب جرمن فوجی دستوں کا یہ مشن کوئی جنگی مشن نہیں ہے اور نہ ہی جرمن فوجی کسی صورت شام میں جاری خانہ جنگی میں ملوث ہوں گے۔

جرمن وزیر دفاع ترکی میں جرمن پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تنصیب کے سلسلے میں اس مشن کے اس پہلو پر خاص طور پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ وفاقی جرمن وزیر دفاع ٹوماس دے میزیئر کا کہنا ہے، 'اس مشن کا مقصد صرف نیٹو کے علاقے کی حفاظت کے لیے احتیاطی طور پر وہاں دفاعی اقدامات کرنا ہے اور اس معاملے میں یہ علاقہ ترکی کا ریاستی علاقہ ہے‘۔

ان میزائلوں کی ترکی میں تنصیب کی وجہ ہمسایہ ملک شام میں جاری خونریز خانہ جنگی بنیتصویر: dapd

آج جرمن اور ڈچ فوجیوں پر مشتمل ایک ابتدائی دستے کی ترکی روانگی کے ساتھ ہی جرمنی سے پیٹریاٹ ڈیفینس سسٹم کی ترکی منتقلی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہ جرمن پیٹریاٹ میزائل Travemünde کی بندرگاہ سے ایک مال بردار بحری جہاز کے ذریعے ترکی بھیجے گئے۔ اس مشن کے دوران جرمنی کا مرکزی فوجی دستہ 350 تک سپاہیوں پر مشتمل ہو گا جن کی ترکی میں تعیناتی کا عمل آئندہ ہفتے شروع ہو جائے گا۔

وفاقی جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کے مطابق یہ فوجی مشن ترکی کے ساتھ یکجہتی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ ویسٹر ویلے کہتے ہیں، ’ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ ترکی میں شام سے کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اس پس منظر میں ترکی اگر تشویش کا اظہار کر رہا ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ شامی حکومت ابھی اور کیا کچھ کر سکتی ہے، تو یہ بات قطعی طور پر قابل فہم ہے‘۔

جرمنی ترکی میں اپنے پیٹریاٹ میزائل شامی سرحد سے قریب 100 کلو میٹر کے فاصلے پر نصب کرے گا۔ ماضی میں کئی بار کی کامیاب مشقوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جرمن پیٹریاٹ میزائل حقیقی حالات میں عملی طور پر نصب کیے جا رہے ہیں اور باقاعدہ استعمال میں بھی لائے جا سکتے ہیں۔

L. Stebe, mm / K. Jansen, ah

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں