ٹرمپ سے اختلاف کے باوجود میرس امریکہ سے اچھے روابط کے خواہاں
6 مئی 2026
جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ چھ مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والے جرمن چانسلر میرس نے کہا کہ ان کا پختہ یقین ہے اور وہ اس بات کے لیے مسلسل کوشاں بھی ہیں کہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات بہت اچھے رہنا چاہییں۔
ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے ورنہ پہلے سے بھی شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ
جرمنی کی دونوں قدامت پسند یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کی سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر بنائی گئی وسیع تر مخلوط حکومت کے سربراہ کے طور پر فریڈرش میرس نے بدھ کے روز ملکی نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''(صدر ٹرمپ اور میں) ہمارے درمیان اختلاف ہے، لیکن میں اس اختلاف رائے کے ساتھ اچھی طرح زندہ رہ سکتا ہوں۔‘‘
فریڈرش میرس کے الفاظ میں، ''ہماری فون پر باقاعدگی سے بات چیت ہوتی ہے۔ لیکن ایک اچھی شراکت داری کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ فریقین کے مابین اختلاف رائے کو بھی بخوبی برداشت کر سکے۔‘‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی نئی امریکی کوششوں کا آغاز
میرس کا متنازعہ بیان اور ٹرمپ کی تنقید
امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ جس ایران جنگ کا آغاز ہوا تھا اور جس میں اس وقت توسیع شدہ لیکن غیر معینہ فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے، اس کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ نیٹو کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یورپی ممالک بھی اس جنگ میں واشنگٹن کا ساتھ دیتے۔
برطانوی بادشاہ چارلس کا امریکی کانگریس سے اہم خطاب
لیکن یورپی ممالک نے اجتماعی طور پر ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں یورپی یونین سے باہر کا یورپی ملک اور یورپ میں امریکہ کا روایتی طور پر قریب ترین اتحادی برطانیہ بھی شامل تھا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی طرف سے لندن کے ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکار پر امریکی صدر نے برطانیہ اور اسٹارمر دونوں پر کڑی تنقید بھی کی تھی۔
ایران جنگ: ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
جہاں تک جرمنی کا تعلق ہے، تو اس نے بھی فرانس، اسپین اور اٹلی کی طرح ایران جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
پھر جرمن چانسلر میرس نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ واشنگٹن کی تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جو بات چیت ہو رہی ہے، اس میں ایران امریکہ کی 'سبکی‘ کا باعث بن رہا ہے۔
جرمن سربراہ حکومت کا یہ بیان تجزیہ کاروں کے فوری اندازوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو پسند نہیں آیا تھا۔
اسی لیے اس پر اپنے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے جرمن چانسلر پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریڈرش ''میرس نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘
ادارت: شکور رحیم