1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چلی کے ہمبولٹ پینگوئنز کو درپیش معدومیت کا خطرہ اب شدید تر

مقبول ملک ، روئٹرز کے ساتھ
15 نومبر 2025

چلی کے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہمبولٹ پینگوئنز کی نسل کو درپیش معدومیت کا خطرہ زیادہ اور شدید تر ہو گیا ہے۔ پانی اور خشکی دونوں جگہوں پر رہنے والے ان سمندری پرندوں کی دنیا بھر میں آبادی اب مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

لندن کے چڑیا گھر میں رکھے گئے ہمبولٹ پینگوئنز اور وہاں ان پینگوئنز کی دیکھ بھال پر مامور ایک خاتون کارکن ان میں سے ہر پرندے کا سالانہ بنیادوں پر وزن ریکارڈ کرتے ہوئے
لندن کے چڑیا گھر میں رکھے گئے ہمبولٹ پینگوئنز اور وہاں ان پینگوئنز کی دیکھ بھال پر مامور ایک خاتون کارکن ان میں سے ہر پرندے کا سالانہ بنیادوں پر وزن ریکارڈ کرتے ہوئےتصویر: HENRY NICHOLLS/AFP

چلی کے جزیرے کاچاگوآ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ ہمبولٹ پینگوئنز کی دنیا بھر میں تعداد تیزی سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں نے اس نسل کے پینگوئنز کو معدوم ہو جانے کے خطرے کا شکار حیوانی انواع میں شامل کر رکھا ہے۔

انٹارکٹیکا مین لینڈ میں پہلی بار ایک مہلک برڈ فلو کی موجودگی کی تصدیق

زمین پر پائی جانے والی آبی جانوروں کی طرح طرح انواع میں سے ہمبولٹ پینگوئنز ایسے جانداروں کی ان چند گنی چنی انواع میں شمار ہوتے ہیں، جو پہاڑی ساحلی خطوں اور مقابلتاﹰ زیادہ درجہ حرارت والے علاقوں میں رہتے ہیں۔

دنیا کے اسّی فیصد ہمبولٹ پینگوئنز صرف چلی کے ساحلی علاقوں میں

ہمبولٹ پینگوئنز کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان کی جتنی بھی آبادی ہے، اس کا 80 فیصد حصہ چلی کے بحرالکاہل سے جڑے ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

چلی کے ایک جزیرے پر کئی ہمبولٹ پینگوئنز اپنے قدرتی ماحول میں ایک چٹان پر کھڑے ہوئےتصویر: Kevin Schafer/Nature Picture Library/IMAGO

چلی کی یونیورسٹی آف کونسیپسیون کے حیاتیاتی ماہرین کے مطابق 1990ء کی دہائی میں وہاں ان کی مجموعی آبادی تقریباﹰ 45 ہزار بنتی تھی، جو اب نصف سے بھی کم رہ گئی ہے اور صرف قریب 20 ہزار بنتی ہے۔

تحفظ ماحول اور تحفط انواع کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ان پینگوئنز سے متعلق ہر طرح کی تجارتی مصروفیات پر پابندی ہونا چاہیے کیونکہ آبی جانداروں کی یہ نسل واقعی معدوم ہو جانے کے خطرے کا شکار ہے۔

کئی ملین سال پرانے پینگوئین کا ڈھانچا دریافت

اسی وجہ سے چلی کی وزارت تحفظ ماحول نے بھی گزشتہ ماہ سمندری پرندوں کی اس نسل کو دوبارہ باقاعدہ طور پر ''معدومیت کے خطرے کا شکار‘‘ قرار دے دیا تھا۔

لیکن ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ ان پرندوں سے متعلق یہ حکومتی موقف بھی ان کی نسل کو بچانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو گا اور خدشہ یہی ہے کہ ایسے پینگوئنز کی مجموعی آبادی مسلسل کم ہوتی جائے گی۔

جنوبی افریقہ کے ایک ساحل پر ہمبولٹ پینگوئنز کی آبادیتصویر: Jeannette Rudloff/Zoonar/picture alliance

آبادی میں کمی کے بڑے اسباب

حیاتیاتی اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمبولٹ پینگوئنز کی مجموعی آبادی میں کمی کے رجحان کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔ ان میں تجارتی ماہری گیری کی وجہ سے ایسے سمندری پرندوں کے لیے خوراک کی دستیابی کے حوالے سے پیدا ہو جانے والی مقابلہ بازی بھی شامل ہے اور ماحولیاتی آلودگی، ان کے ماحولیاتی نظام کی تباہی اور برڈ فلو جیسے بیماریاں بھی۔

کنگ پینگوئن ناپید ہونے کے قریب

اس بارے میں چلی کے قومی چڑیا گھر سے منسلک سمندری حیاتیات کے ماہر گیلیرمو کیوبیوس نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ''ان پینگوئنز کی نوع کو درپیش خطرات کا ایک پورا سلسلہ ہے، جس میں گزشتہ برسوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘

کیوبیوس نے بتایا، ''اگر یہ کئی متنوع خطرات آئندہ بھی موجود رہے، تو پینگوئنز کی اس نسل کو 'معدومیت کے خطرے کا شکار‘ سے 'معدومیت کے شدید خطرے کا شکار‘ قرار دینا پڑ جائے گا۔ ایسے کسی مقام پر پہنچ جانے کے بعد جانداروں کی کوئی بھی نسل اپنے حتمی طور پر ناپید ہو جانے کے دہانے پر آ جاتی ہے۔‘‘

برطانیہ کے ایک چڑیا گھر میں تین ہمبولٹ پینگوئنز اپنا اپنا وزن کروانے کے بعد قطار بنائے واپس پانی کی طرف جاتے ہوئے اور ان کے قریب ہی متجسس فوٹوگرافروں کا ہجومتصویر: HENRY NICHOLLS/AFP/Getty Images

سخت قانون سازی کی ضرورت

ہمبولٹ پینگوئنز پر تحقیق کرنے والی ماہر حیاتیات پاؤلینا آرکے کہتی ہیں کہ ایسے بہت سے پینگوئن تجارتی ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں اور بڑی کشتیوں کی طرف سے سمندر میں پھینکے گئے جالوں میں پھنس کر بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں بہت بڑے پینگوئن کے فوسلز کی دریافت

اس صورت حال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ ایسی سخت قانون سازی کی جائے جو صنعتی اور چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری، دونوں کو زیادہ ماحول دوست اور دیرپا بنائے جانے کو یقینی بنائے۔

دنیا بھر میں ہمبولٹ پینگوئنز کی جتنی بھی آبادی ہے، اس کا 80 فیصد حصہ چلی کے بحرالکاہل سے جڑے ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہےتصویر: Jearu/Zoonar/picture alliance

اس خاتون سائنسدان نے کہا کہ اب تک جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ مؤثر طور پر کام نہیں کر رہے۔

سمندری حیات کی سب سے بڑی پناہ گاہ قطب جنوبی میں ہو گی

پاؤلینا آرکے کے الفاظ میں، ''ان سمندری پرندوں کو دوبارہ خطرات کا شکار نوع قرار دینا اس وقت تک بالکل بے نتیجہ رہے گا، جب تک کہ ایسے حالات کو یقینی نہ بنایا جائے، جن میں یہ نوع اپنے قدرتی ماحول میں پھل پھول سکے اور اس کے لیے کافی خوراک بھی موجود ہو۔‘‘

پاؤلینا آرکے نے کہا، ''فطرت کی انسانوں کے ساتھ اس بقائے باہمی کے لیے سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

پینگوئن انتہائی تیز سوئمنگ کیسے کرتی ہیں؟

01:49

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں