چینی اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات
26 جولائی 2013
چین میں صنعتی امور سے متعلق وزارت نے فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت یہ کمپنیاں بند کی جارہی ہیں۔ کمیونسٹ حکومت کے مطابق اضافی پیداوار کی وجہ سے اشیاء کے دام گرانے کا منفی مقابلہ زور پکڑ رہا تھا جو مجموعی طور پر معیشت کے لیے اچھا نہیں۔ گزشتہ مالی کوارٹر میں چینی اقتصادی نمو دو دہائیوں کی نچلی ترین سطح یعنی مجموعی قومی پیداوار کے سات اعشاریہ پانچ فیصد کے برابر رہی تھی۔ اس باعث پالیسی ساز حکمت عملی بدلنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہوئے۔
چینی ماہر اقتصادیات ژوائی ژھانگ کے بقول حکومت معیشت کی ری اسٹرکچرنگ بابت سنجیدہ ہے اور اس کے لیے ’ناگزیر درد‘ سہنے کو بھی تیار ہے۔ چین میں کئی صنعتی شعبوں میں جیسا کہ شمسی بجلی پیدا کرنے والے پینلز کی پیداور کے لیے حکومت کی سبسڈیز اور بے دریغ سرمایہ کاری سے اس قدر پراڈکشن ہوگئی کہ اسے فروخت کرنے کے لیے قیمت گراتے گراتے بعض اوقات لاگت سے بھی کم دام پر اشیاء فروخت کرنا پڑیں۔ رواں برس Suntech نامی کمپنی کا دیوالیہ ہونا اس کی ایک مثال ہے۔
ماہرین اقتصادیات پہلے ہی طویل مدت کے لیے چین کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔ بالخصوص ریٹیل سیکٹر اور فیکٹری آؤٹ پٹ میں کمزور نمو اور دیگر اشاریے اس کا سبب ہیں۔ رواں ماہ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے چین میں 2013ء کے لیے اقتصادی نمو کی پیشن گوئی کو آٹھ اعشاریہ ایک سے کم کرکے ساتھ اعشاریہ آٹھ کیا ہے۔ نجی شعبے کی پیشن گوئی کے مطابق اگلی مالیاتی ششماہی میں اقتصادی نمو کی شرح سات فیصد تک بھی گر سکتی ہے۔
خود وزیر اعظم لی کی چیانگ نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ حکمراں کمیونسٹ جماعت رواں برس کے لیے سات اعشاریہ پانچ فیصد کی نمو پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چینی اخبارات میں ان کے بیان کے مطابق نچلی حد سات فیصد ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق چینی کابینہ نے چھوٹے پیمانے کا کاروبار کرنے والوں کے لیے شرح سود میں کمی کا جو اعلان کیا ہے وہ ملکی معیشت کے مخصوص شعبے کو بہتر کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، تاکہ وسیع پیمانے پر مہنگے اقدامات اٹھانے سے بچا جاسکے۔
واضح رہے کہ اضافی پیداوار کی جو مشکل اس وقت چین میں سامنے آئی ہے اس کی ایک وجہ دراصل 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران سے بحالی کے لیے ملکی اقتصادی ڈھانچے میں داخل کیے اربوں ڈالر بھی ہیں۔ نئے حکم کے تحت جو فیکٹریاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں کیلشیئم کاربائیڈ، المونیم، زنک، کاغذ، الکحل، چمڑے، پرنٹنگ اور ڈائنگ اور بیڑی سے متعلق فیکٹریاں شامل ہیں۔