چینی خلائی پروگرام کے لیے امیدوار، دو پاکستانی خلاباز منتخب
22 اپریل 2026
نیوز ایجنسی روئٹرز کی بیجنگ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق دونوں منتخب کردہ پاکستانی خلاباز اب تربیت کے لیے چین جائیں گے، جہاں بعد میں ان میں سے ایک خلاباز ایک اسپیس فلائٹ مشن میں پےلوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر شامل ہو گا۔
روس کا چاند پر جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ
سی سی ٹی وی نے بتایا کہ یہی پاکستانی خلاباز پھر پاکستان سے تعلق رکھنے والا لیکن ایسا پہلا غیر ملکی خلاباز بن جائے گا، جو بیجنگ کے ایک اسپیس مشن کا حصہ بن کر چینی خلائی اسٹیشن پر جائے گا اور وہاں کام کرے گا۔
چین اور روس کا چاند پر ایٹمی بجلی گھر بنانے کا منصوبہ کیا ہے؟
ایک پاکستانی امیدوار ریزور خلاباز
رپورٹوں کے مطابق چینی اسپیس پروگرام کے لیے بیجنگ کے دیرینہ حلیف، ہمسایہ اور قریبی دوست ملک پاکستان سے امیدواروں کے طور پر انتخاب تو دو خلابازوں کا کیا گیا ہے، لیکن ان میں سے خلا میں صرف ایک ہی سائنس دان جائے گا اور وہ چین کے ایک انسان بردار اسپیس مشن کا حصہ بنے گا۔
چین نے اپنے خلائی اسٹیشن کے لیے شینزو 17 مشن روانہ کر دیا
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے ان دونوں پاکستانیوں کے ابتدائی انتخاب کو ایک ایسی 'سنگ میل کامیابی‘ قرار دیا ہے، جو چینی خلائی اسٹیشن کی سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال بھی ہے۔
شنہوا نے ان دونوں منتخب کردہ پاکستانی خلابازوں کے نام محمد ذیشان علی اور خرم داؤد بتائے ہیں، جو دونوں اس لیے چین جائیں گے کہ ان میں سے ایک وہاں ریزو خلاباز کے طور پر اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر ہر طرح کی عملی تربیت میں حصہ لے گا۔
چین کے پہلے خلائی اسٹیشن کی تعمیرکے لیے چینی خلا باز روانہ
شنہوا نے مزید لکھا کہ بیجنگ کے انسان بردار خلائی مشن کے لیے پہلے غیر ملکی خلاباز امیدواروں کے طور پر ان دونوں پاکستانی سائنس دانوں کا حتمی انتخاب رواں ماہ کے اوائل میں کیا گیا۔
ادارت: جاوید اختر