چینی روبو ٹیکسیاں انسان ڈرائیوروں کو کیسے متاثر کرسکتی ہے؟
17 اگست 2024چین کے شہر ووہان سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ لیویی ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ لیویی پہلے تعمیراتی شعبے سے وابستہ تھے، جس میں سست روی کے پیش نظر انہوں نے جز وقتی ٹیکسی چلانا شروع کی لیکن اس شعبے میں بھی اب انہوں نے بحران کی پیش گوئی کی ہے۔
روئٹرز کے صحافیوں سے گفتگو میں لیویی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اپولو گو کی روبوٹیکسی کا استعمال عام ہوگیا تو ووہان کے تمام ٹیکسی ڈرائیور بھوکے رہ جائیں گے۔
چین کے کم از کم 19 شہروں میں خود کار ٹیکسی اور بس کے تجربات جاری ہیں۔ جن میں سے سات شہروں میں ایسے تجربات کی اجازت دی گئی ہے، جن میں حفاظتی نگرانی یقینی بنانے کے لیے انسان ڈرائیوروں کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔ ان شہروں میں اپولو گو، پونی.اے آئی، وی رائیڈ، آٹو ایکس اور ایس اے آئی سی موٹر نامی کمپنیاں ان تجربات کو سر انجام دے رہی ہیں۔
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر آگوستین ویگشائیڈر نے کہا کہ چین میں خودکار گاڑیوں کے لائسنس کے اجراء میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ امریکہ میں یہ عمل بتدریج انجام دیا جا رہا ہے۔
الفابیٹ کی ویمو واحد امریکی کمپنی ہے، جو خود کار ٹیکسی سروس کی فراہمی کے بدلے مسافروں سے کرایہ وصول کرتی ہے۔ اس کے پاس سان فرانسیسکو، لاس اینجلس اور فینکس میں 1,000 سے زائد گاڑیاں ہیں، اور ایک ذرائع کے مطابق یہ تعداد کئی ہزار تک بڑھ سکتی ہے۔
چین میں روبو ٹیکسی میں سفر کرنے کے حوالے سے حفاطتی خدشات موجود ہیں لیکن اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے حکام ان گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ جانچ کی منظوری دے رہے ہیں۔ گزشتہ برس صدر شی جن پنگ نے 'نئی پیداواری قوتوں' کی ضرورت پر زور دیا، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اس کی ٹیسٹنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
بیجنگ نے جون کے مہینے میں کچھ مخصوص علاقوں میں ٹیسٹنگ کا آغاز کردیا تھا جبکہ گوانگ ژو میں اسی ماہ شہر بھر میں خود کار گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
آن لائن ٹیکسی سروس سے وابستہ ڈرائیوروں کے لیے نئی مشکلات
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں مختلف ایپس کے ذریعے مسافروں کو سفر کی سہولت پیش کرنے والے ڈرائیوروں کی تعداد سات ملین ہے جبکہ دو سال پہلے یہ تعداد 4.4 ملین تھی۔ اقتصادی سست روی کے دوران یہ آن لائن ٹیکسی سروس بے روز گاری کا شکار لوگوں کو ملازمت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم خود کار ٹیکسیوں میں اضافے کے باعث ان افراد کا روز گار متاثر ہونے کے امکان کے پیش نظر چینی حکومت اس کے تیز رفتار پھیلاؤ کو سست کر سکتی ہے۔
چین میں امریکی کمپنی ٹیسلا بھی ایسی خود کار گاڑیاں متعارف کروانے والی ہے جسے چلانے کے لیے حفاظتی وجوہات اور تکنیکی حدود کے باعث انسان ڈرائیور کی ضرورت ہو گی۔ لیویی کو خدشہ ہے کہ ان گاڑیوں کے آنے سے ان جیسے تمام افراد کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
ووہان سے تعلق رکھنے والے ایک اور آن لائن ٹیکسی سروس کے ڈرائیور 63 سالہ وانگ گوکیانگ ان گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو پہلے سے مالی طور پر کمزور افراد کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
وہ اس سروس سے وابستہ دیگر افراد کے لیے کہتے ہیں کہ 'اگر آپ اس انڈسٹری کو ہی ختم کردیں گے تو ان کے پاس کیا رہ جائے گا؟'
خودکار گاڑیوں کی پیداوار میں عالمی رہنمائی
پیکنگ یونیورسٹی کے معاون پروفیسر تانگ یاو نے کہا کہ قلیل مدتی طور پر نئی ملازمتوں کے تخلیق اور پرانی ملازمتوں کے درمیان توازن بر قرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم پہلے سے ہی سب سے آگے ہیں۔'
ایسٹرن پاینئیر ڈرائیونگ اسکول نے 2019 سے اپنے انسٹرکٹر کی تعداد نصف سے کم کر کے تقریباً 900 کر دی ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر انہوں نے بیجنگ کے کنٹرول سینٹر میں ایسے اساتذہ مقرر کیے ہیں، جو سنٹر میں رہ کر ہی مختلف گاڑیوں میں موجود کُل 610 طلباء کی نگرانی کرتے ہیں۔ طلباء کی رہنمائی کے لیے ان گاڑیوں میں کمپیوٹر سسٹم نصب ہیں۔
گاڑیوں میں نصب یہ کمپیوٹر ہر عمل کو ریکارڈ کرتے ہیں، جیسے کہ اسٹیئرنگ وہیل موڑنا یا بریک لگانا اور طلباء کو ان کی کارکردگی کے مطابق اسکور بھی دیے جاتے ہیں۔ یہ ان طلباء کو جگہ جگہ مڑنے والی شہر کی اندرونی سڑکوں پر بھی معاونت فراہم کرتے ہیں جبکہ بڑی بڑی اسکرینیں طلباء کی کارکردگی کا فوری تجزیہ بھی دکھاتی ہیں مثلاً ایک طالب علم کی سڑک کنارے دو دوسری گاڑیوں کے درمیان اپنی گاڑی کو درست طریقے سے کھڑا کرنے کی شرح 82 فیصد رہی۔
اس اسکول میں تربیت میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم اور بہتر بنانے کے ذمہ دار ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹڑ ژانگ یانگ کہتے ہیں کہ ان مشینوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ح ف / ش ر (روئٹرز)