چینی صدر کا دورہ ء امریکا
6 جون 2013
چینی صدر شی جن پنگ کا یہ دورہ جہاں امریکا اور چین کے مابین باہمی تعلقات کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے وہیں اس دورے کو امریکا کی اس امیر ترین ریاست کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کے حوالے سے بھی انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
کیلی فورنیا کے گورنر جیری براؤن نے اپریل میں چین کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران 1.5 بلین ڈالر مالیت کی ایک ایسی ڈیل کو حتمی شکل دی گئی تھی، جس کے تحت اس اہم امریکی ریاست میں لگژری ہائی رائز رہائشی ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔ اس تعمیراتی منصوبے کو کیلی فورنیا کی ترقی کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دورہء چین کے دوران جیری براؤن کے وفد میں شامل ایک وکیل ڈین فیلک کا کہنا ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین اور امریکا کی ایک اہم ریاست کیلی فورنیا کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے دور رس مثبت نتائج دیکھے جا سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ ڈیل نہ صرف اقتصادی حوالے سے اہم ہے بلکہ اس کے سیاسی فوائد بھی برآمد ہوں گے۔
ڈین فیلک کے بقول ریاست کیلی فورنیا، امریکا اور چین کے مابین قریبی تعلقات کو قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیلی فورنیا کو اس کے فائدے بھی حاصل ہو رہے ہیں۔
کیلی فورنیا کی حکومت چاہتی ہے کہ وہاں برق رفتار بلٹ ٹرین سروس کے لیے بیجنگ حکومت نہ صرف سرمایہ کاری کرے بلکہ تکنیکی مشاورت بھی فراہم کرے۔ یہ مجوزہ ٹرین سروس لاس اینجلس اور سان فرانسسیکو کو بھی ملا دے گی۔ کیلی فورنیا کی یہ کوشش بھی ہے کہ آئی فون، وائنز اور دیگر آلات کے ساتھ ساتھ امریکا میں بنائے جانے والی دیگر زرعی مصنوعات کی رسائی چینی متوسط طبقے تک آسان بنا دی جائے۔
اس امریکی ریاست کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ چینی سیاح جائیں اور رقوم خرچ کریں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا جانے والے ہر دو سیاحوں میں سے ایک کیلی فورنیا کا رخ کرتا ہے جبکہ ہر تین میں سے ایک لاس اینجلس جاتا ہے۔
کیلی فورنیا کے چیمبر آف کامرس کے مطابق گزشتہ برس چین سے تعلق رکھنے والے پانچ لاکھ افراد نے کیلی فورنیا کا رخ کیا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں کی مقامی معیشت کو 1.5 بلین امریکی ڈالر کی تحریک ملی تھی۔ ڈین فیلک کہتے ہیں کہ کیلی فورنیا نے چین کو یہ کھلا پیغام دیا ہے کہ وہ تجارت کے لیے تیار ہے۔
(ab/ia(dpa