چینی وزیر اعظم کی روسی صدر سے ملاقات آج
14 اکتوبر 2014
یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی مسلح کارروائیوں اور اس مشرقی یورپی ملک کے کریمیا کے علاقے کی ملک سے علیحدگی کے اعلان کے بعد روس کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماسکو پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف یوکرائنی باغیوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کر رہا ہے بلکہ ان عسکریت پسندوں کی فوجی امداد بھی کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں روس کی خواہش ہے کہ مغربی یورپی ممالک پر انحصار کم کر کے چین جیسے ملکوں سے روابط کو مزید مستحکم بنایا جائے۔
اس پس منظر میں آج منگل کے روز روس کے دورے پر گئے چینی وزیر اعظم روسی حکام، بالخصوص روسی صدر پوٹن سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پیر کے روز ان دو ممالک نے توانائی اور اقتصادیات سے متعلق درجنوں معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کو یورپی یونین کے مقابل ایک نئے بلاک کے طور پر کھڑا کرنے کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ لی کیچیانگ کا روس کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
پیر کو لی کیچیانگ کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدیف نے کہا کہ دونوں ممالک کو ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ابھی ابھی وزیر اعظم لی کیچیانگ نے مجھے بتایا کہ چین اور روس میں بہت سی باتیں مشترک ہیں، جیسا کہ ہمارے ملکوں کے عوام شطرنج کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ اور جو مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں وہ اچھا کھیلتے ہیں۔‘‘
لی نے بھی اس موقع پر استعاروں سے کام لیتے ہوئے بات کی اور کہا کہ روس کی مشہور ’’گڑیا‘‘ باہمی مواقعوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ ماتریوشکا چین اور روس کے درمیان وسیع تعاون کی علامت ہے۔ دونوں ممالک پرعزم ہیں کہ باہمی دوستی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ خطے اور دنیا کے امن اور استحکام کا تحفظ کیا جا سکے۔‘‘
آج منگل کے روز چینی وزیر اعظم روسی صدر سے ملاقات کے علاوہ ماسکو میں روسی وزیر اعظم کے ہمراہ ایک اقتصادی فورم میں بھی شریک ہوں گے۔ دونوں ممالک نے اگلے برس دوسری جنگ عظیم کے موقع پر ستر برس قبل نازیوں کی شکست کی تقریبات کا بھی مشترکہ اہتمام کریں گے۔