1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین: بسوں میں حجاب اور داڑھی پر پابندی

کشور مصطفیٰ6 اگست 2014

چین کے شورش زدہ شمالی صوبے سنکیانگ کے ایک شہر میں ہیڈ اسکارف یا حجاب کا استعمال کرنے والی خواتین اور داڑھی والے مردوں کے لیے بسوں میں سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

China Uiguren vor Execution 16.06.2014
تصویر: Reuters/CCTV

ناقدین اسے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی کھُلی مثال قرار دے رہے ہیں۔ سنکیانگ ایغور نسل کے مسلمانوں کا آبائی علاقہ ہے۔ ایغور باشندے ’ترکش‘ زبان بولتے ہیں جو 25 مختلف زبانوں سے مل کر بنی ہے۔

سنکیانگ کئی سالوں سے عدم استحکام اور شورش کا شکار ہے اور بیجنگ حکومت اس کا ذمہ دار اسلامی عسکریت پسندوں کو ٹھہراتی ہے جو اس علاقے کو ایک علیحدہ اور خود مختار خطہ بنانے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ریاستی میڈیا کے مطابق چینی حکومت نے سنکیانگ کے شہر کارامے میں پانچ طرح کے مسلمانوں کے بس میں سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نقاب پوش خواتین، ہیڈ اسکارف پہننے والی عورتوں، جلباب یا بہت ہی کھُلا اور لمبا سا چوغہ پہننے والی خواتین، ایسے لباس میں ملبوس افراد جس پر کریسنٹ یا ہلال اور ستارے بنے ہوں اور داڑھی والے یا با ریش مردوں کو آئندہ شمال مغربی شہر کارامے میں بسوں پر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

بہت سے مسلمان ملکوں میں ہلال اور ستارہ اسلامی علامات کے طور پر قومی پرچموں کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کا جو گروپ چین کے بقول مشرقی ترکستان کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتا ہے، وہ بھی ہلال اور ستارے کو اپنی علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

ایغور مسلمانوں کا سب سے بڑا گروپ اُرمچی میں آباد ہےتصویر: AP

چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری اخبار کارامے ڈیلی میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مذکورہ قوانین کا اطلاق 20 اگست سے شروع ہونے والے ایتھلیٹک ایونٹ کے پس منظر میں ہو گا۔ سکیورٹی اہلکار اس موقع پر امن عامہ کی صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھنے کے لیے ان قوانین پر عمل درآمد کروائیں گے۔ اخبار کے مطابق "جن پانچ قسم کے مسلمان باشندوں کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے اُن میں سے کسی کی طرف سے اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اُس شخص کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائی جائے گی"۔

ابھی جولائی میں سنکیانگ حکام نے صوبائی دارالحکومت اُرمچی میں بس مسافروں کو سگریٹ سے لے کر دہی اور پانی جیسی عام اشیاء بسوں میں لے جانے سے منع کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پُرتشدد حملوں کے خلاف حفاظتی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا۔

ایغور باشندوں کے حقوق کے لیے سرگرم رابعیہ قادیرتصویر: Kazuhiro Mpgo/AFP/Getty Images

اُدھر جلا وطن ایغور باشندوں کے گروپوں اور ہیومن رائٹس کے لیے سرگرم عناصر کی طرف سے چینی حکومت پر سنکیانگ میں مسلمانوں کو دبانے، اُن کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس علاقے میں بدامنی اور شورش کی اصل وجہ حکومت کے اسی طرح کے اقدامات ہیں۔

ایغور نسل سے تعلق رکھنے والی خواتین چین کی دیگر عورتوں جیسا ہی لباس پہنتی ہیں۔ محض چند ایغور خواتین ایسی ہیں، جنہوں نے اب برقعہ پہننا شروع کر دیا ہے۔ برقعہ سنکیانگ سے کہیں زیادہ دراصل پاکستان اور افغانستان میں رائج ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں