چین میں اقتدار کی منتقلی
5 مارچ 2013
نیشنل پیپلز کانگریس ایک رسمی اجلاس ہے، جس میں آئندہ دس برسوں کے لیے اہم سرکاری عہدوں پر تبدیلیوں کی حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ اس اجلاس میں دس سال کے عرصے کے بعد حکومت کی باگ ڈور نئے نامزد وزیر اعظم لی کیچیانگ کے حوالے کی جائے گی۔
ایک اندازے کے مطابق وین جیا باؤ نے اجلاس میں شریک تین ہزار مندوبین سے خطاب کیا۔ ایک سو منٹ دورانیے کی تقریر میں اپنی سبکدوش ہونے والی حکومت کی اقتصادی کامیابیوں کی بھرپور طریقے سے تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’گزشتہ پانچ برسوں میں چینی قیادت نے بڑے چیلنجوں اور پیچیدہ بین الاقوامی اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے۔ انہی فیصلوں کی بدولت چین ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوا، جو بیرونی دنیا کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔ تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے فیصلے مکمل طور پر درست تھے۔‘‘
تعریف کے ساتھ ہی چینی وزیر اعظم نے تنقید سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی سالانہ شرح ترقی ابھی تک غیر مستقل، بے ربط اور ناپائیدار ہے۔ موجودہ سال کے لیے انہوں نے اقتصادی ترقی میں 7.5 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وعدہ کیا کہ نئی حکومت تحفظ ماحول کے لیے بھی مزید کام کرے گی۔
آئندہ حکومت کی توجہ بدعنوانی کے خلاف جنگ پر بھی مرکوز رہے گی تاہم اس مقصد کے لیے سیاسی اصلاحات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومت نے موجودہ سال کے لیے اپنے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافے کا بھی اعلان کیا ہے۔ فوجی بجٹ میں دس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وین جیاباؤ کا کہنا تھا، ’’ہمیں مسلح افواج کو جدید بنانے کا عمل تیز تر کرنا ہو گا تاکہ چین کی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ہمیں خود مختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور پرامن ترقی کو برقرار رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔‘‘
نیشنل پیپلز کانگریس کے تقریباﹰ دو ہفتے کے سیشن کے دوران موجودہ وزیر اعظم وین جیا باؤ کی جگہ نائب وزیر اعظم لی کیچیانگ سنبھال لیں گے جبکہ ملکی صدر ہو جن تاؤ کی جگہ پارٹی کے نئے صدر اور فوجی سربراہ شی جن پنگ بن جائیں گے۔
ia / aa (AFP,Reuters)