چین میں جھڑپیں، اکیس افراد ہلاک
24 اپریل 2013
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بدھ کے دن چینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نسلی بنیادوں پر تقسیم چین کے علاقے سنکیانگ میں منگل کے دن ہوئی ان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں پندرہ افراد یا تو پولیس اہلکار تھے یا پھر سماجی کارکنان۔
ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کاؤ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا ہے کہ ان جھڑپوں میں ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ تحقیقاتی عمل سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مشتبہ گینگ ممبرز دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اے ایف پی نے صوبائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ لڑائی اُس وقت شروع ہوئی، جب پولیس نے Bachu نامی ایک کاؤنٹی میں مشتبہ افراد کے گھروں میں چھاپے مارنا شروع کیے۔ ان افراد پر ناجائز اسلحہ رکھنے کا شبہ تھا۔
اطلاعات کے مطابق چین کے اس مسلم اکثریتی علاقے میں بھڑکنے والے تشدد کی وجہ سے مزید چھ 'گینگ ممبرز' مارے گئے جبکہ آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق گرفتار شدگان ایغور نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
’آزادی رائے پر قدغن کا بہانہ‘
رقبے کے لحاظ سے ترکی سے دو گنا بڑے علاقے سنکیانگ میں 9 ملین ایغور آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر چینی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہیں مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں اکثر اوقات ہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔
حکومتی عہدیدار اور سرکاری میڈیا اس علاقے میں تشدد کے واقعات کے لیے 'دہشت گردوں' پر الزامات عائد کرتے ہیں لیکن کچھ ماہرین کے بقول ریاستی ادارے اس تناظر میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکے ہیں کہ اس علاقے میں منظم دہشت گرد سکیورٹی کی صورتحال کے لیے خطرہ ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اس علاقے میں تشدد کی ایک اہم وجہ حکومتی پالسییوں کے خلاف مقامی باشندوں میں پایا جانے والا غصہ ہے۔
بیجنگ حکومت نے ایغوروں پر بارہا الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ مارچ میں ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے بیس مشتبہ افراد پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم ایغوروں کے بقول حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات اظہار رائے پر پابندیاں لگانے کا ایک بہانہ ہیں۔
(ab/aa(AFP