1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین میں جھڑپیں، اکیس افراد ہلاک

24 اپریل 2013

چین کے علاقے سنکیانگ میں خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں اکیس افراد مارے گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں پولیس افسران اور سماجی کارکنان بھی شامل ہیں۔

China Unruhen in Xinjiang Polizei und Armee
تصویر: AP

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بدھ کے دن چینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نسلی بنیادوں پر تقسیم چین کے علاقے سنکیانگ میں منگل کے دن ہوئی ان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں پندرہ افراد یا تو پولیس اہلکار تھے یا پھر سماجی کارکنان۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کاؤ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا ہے کہ ان جھڑپوں میں ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ تحقیقاتی عمل سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مشتبہ گینگ ممبرز دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اے ایف پی نے صوبائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ لڑائی اُس وقت شروع ہوئی، جب پولیس نے Bachu نامی ایک کاؤنٹی میں مشتبہ افراد کے گھروں میں چھاپے مارنا شروع کیے۔ ان افراد پر ناجائز اسلحہ رکھنے کا شبہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق چین کے اس مسلم اکثریتی علاقے میں بھڑکنے والے تشدد کی وجہ سے مزید چھ 'گینگ ممبرز' مارے گئے جبکہ آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق گرفتار شدگان ایغور نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

’آزادی رائے پر قدغن کا بہانہ‘

سنکیانگ میں 9 ملین ایغور آباد ہیںتصویر: picture-alliance/Christoph Mohr

رقبے کے لحاظ سے ترکی سے دو گنا بڑے علاقے سنکیانگ میں 9 ملین ایغور آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر چینی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہیں مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں اکثر اوقات ہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

حکومتی عہدیدار اور سرکاری میڈیا اس علاقے میں تشدد کے واقعات کے لیے 'دہشت گردوں' پر الزامات عائد کرتے ہیں لیکن کچھ ماہرین کے بقول ریاستی ادارے اس تناظر میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکے ہیں کہ اس علاقے میں منظم دہشت گرد سکیورٹی کی صورتحال کے لیے خطرہ ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اس علاقے میں تشدد کی ایک اہم وجہ حکومتی پالسییوں کے خلاف مقامی باشندوں میں پایا جانے والا غصہ ہے۔

بیجنگ حکومت نے ایغوروں پر بارہا الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ مارچ میں ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے بیس مشتبہ افراد پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم ایغوروں کے بقول حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات اظہار رائے پر پابندیاں لگانے کا ایک بہانہ ہیں۔

(ab/aa(AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں