چین میں جہازوں کی ’سپر مارکیٹ‘
4 اپریل 2013
’’چین میں جہاز فروخت کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا گوبھی فروخت کرنا‘‘، یہ کہنا تھا ایک فرانسیسی ہیلی کاپٹر میں کھڑے ہوئے اس ’سپر مارکیٹ‘ کے منیجر ژینگ شانگیی Zhang Changyi کا۔
چینی دارالحکومت بیجنگ کے ایک سرے پر مختلف عمارتوں اور فارم کی زمینوں میں گھرے جہاز فروخت کرنے والی ڈیلر شپ کا آغاز رواں ہفتے ہی ہوا ہے۔ یہاں کاروباری سربراہوں کے لیے ایسے چھوٹے ہوائی جہاز فروخت کے لیے رکھے گئے ہیں جن کی قیمت 50 ملین یوآن تک ہے۔ یہ رقم 8 ملین امریکی ڈالرز کے قریب بنتی ہے۔
چین میں ہوا بازی کی صنعت پر پابندیوں کے باوجود چینی ارب پتیوں میں ذاتی جہاز رکھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ژینگ کو روشن کاروبار کی امید ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ژینگ کا کہنا تھا، ’’ہم نے پچھلے چار روز میں تین جہاز فروخت کیے ہیں۔‘‘ گلائیڈرز اور ہلکے جہازوں سے بھرے ہوئے ویئر ہاؤس میں ژینگ کا مزید کہنا تھا، ’’ہمارے آئیڈیل گاہک لسٹڈ کمپینیوں کے سربراہ ہیں۔‘‘
چین میں ارب پتی افراد کی تعداد اندازوں کے مطابق ایک ملین کے قریب ہے مگر وہاں پرائیویٹ جہاز رکھنے والوں کی تعداد امریکا کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق 2011ء کے دوران ایسے 150جہاز رجسٹر کیے گئے۔
ژینگ کے مطابق جہاز بنانے والی غیر ملکی کمپنیاں چین کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں داخل ہونی کی شدید خواہش مند ہیں: ’’میں تقریباﹰ روازنہ ہی غیر ملکی جہاز ساز کمپنیوں کی طرف سے ٹیلیفون کالز وصول کرتا ہوں، یہ چین میں اپنے جہاز فروخت کرنے کو بے تاب ہیں۔‘‘
چینی ایئراسپیس یا ہوا بازی پر فوج کا کنٹرول ہے اور وہاں پرائیویٹ جہاز اڑانے والوں کو ایک پیچیدہ نظام کے تحت اجازت ملتی ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت نےکم اونچائی پر پرواز پر عائد پابندی کو بتدریج کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور رواں برس ملک کے سات شہروں میں ایسی پروازوں کی اجازت دے دی جائے گی۔
aba/ai (AFP)