چین میں مسجد کے انہدام کے منصوبے کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج
10 اگست 2018
ایک مغربی چینی علاقے میں سینکڑوں مسلمانوں نے ایک مسجد کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ مسلمان اس مسجد کے انہدام کے حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
تصویر: Getty Images/J. Eisele
اشتہار
چین کے مغربی نیم خود مختارعلاقے نِنگ شا کے ہُوئی نسل کے مسلمانوں نے ایک مسجد کو مسمار کرنے کے مجوزہ حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ یہ مسجد اس علاقے میں اپنے میناروں اور گنبدوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس کا انداز تعمیر مشرق وسطیٰ کی مساجد جیسا ہے۔
وائی ژُو شہر کی مشہور قدیمی جامعہ مسجد کو گرانے کا حکومتی نوٹس تین اگست کو جاری کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس مسجد کی کمیٹی کو مطلع کیا تھا کہ تعمیر سے قبل اس مسجد کے لیے کوئی باضابطہ تعمیری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اس مسجد کے آج دس اگست کو گرا دیے جانے کا امکان ہے۔
مسجد کی انتظامی کمیٹی اور شہری انتظامیہ کے درمیان اس حوالے سے بات چیت کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ انتظامی کمیٹی نے مسلمانوں کو تجویز دی ہے کہ مسجد کے گنبدوں کو مشرقِ وسطیٰ کی مساجد کی طرز کے بجائے چین میں پگوڈا کے دائرہ نما گنبدوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے یہ تجویز قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ہوُئی نسل کے مسلمان اپنی ایک مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئےتصویر: Getty Images/J. Eisele
نیوز ایجنسی روئٹرز کو کئی مقامی لوگوں نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ اس مسجد کی انتظامی کمیٹی اور شہری انتظامیہ مزید مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کو عینی شاہدین نے بتایا کہ وائی ژُو شہر کے قریبی دیہات کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سینکڑوں مسلمان آج جمعہ دس اگست کی صبح سے وائی ژُو میں جمع ہیں۔
مقامی مسلمانوں کی ایک سماجی تنظیم نے روئٹرز کو یہ بھی بتایا کہ حکومت واضح طور پر اس مسجد کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی خواہاں ہے اور اس کی تزئین اپنی مرضی کے مطابق چاہتی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مقامی مسلمانوں اور حکومت کے درمیان مسجد کے حوالے سے ایک مفاہمت ہو گئی ہے لیکن صورت حال ابھی پوری طور پر واضح نہیں ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز نے وائی ژُو شہر کی انتظامیہ سے رابطے کی کوشش کی لیکن انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی جواب دینے سے گریز کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق چینی میں سرکاری طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عوام کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن حالیہ برسوں میں مسلم انتہا پسندی کے فروغ کے تناظر میں حکومت نے مسلم اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی بڑھا رکھی ہے اور اس مناسبت سے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلم آبادی کو بھی سخت سکیورٹی انتظامات کا سامنا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ اُسے اپنے مغربی علاقے سنکیانگ میں مسلمان انتہا پسندی کے ایک سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ بیجنگ حکومت کا الزام ہے کہ ایغور مسلم اقلیت ہان چینی اکثریت کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔
تصویر: Reuters/T. Peter
مغربی چینی علاقے سنکیانگ میں حفاظتی انتظامات سخت تر
چین کی قدیم شاہراہِ ریشم پر واقع شہر کاشغر میں دن میں تین بار الارم بجتا ہے اور دکاندار حکومت کی طرف سے دیے گئے لکڑی کے ڈنڈے تھامے فوراً اپنی دکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس کی نگرانی میں منظم کی جانے والی ان انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے دوران یہ دکاندار چاقو لہرانے والے فرضی حملہ آوروں کے خلاف لڑتے ہیں۔
تصویر: Reuters/T. Peter
’وَن بیلٹ، وَن روڈ پروگرام‘
ایغور نسل کا ایک شہری صحرائے تکلامکان میں امام عاصم کے مقبرے کو جانے والے راستے پر جا رہا ہے۔ کاشغر نامی شہر کو، جو پہلے ایک تاریخی تجارتی چوکی ہوا کرتا تھا، صدر شی جن پنگ کے ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ نامی اُس اقتصادی پروگرام میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ چین کو ایشیا، مشرقِ وُسطیٰ اور اُس سے بھی آگے واقع خطّوں کے ساتھ جوڑ دینا چاہتے ہیں۔
چین کو ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ سمٹ میں خلل کا اندیشہ
خود مختار علاقے سنکیانگ ایغور میں ایک شخص اپنی بھیڑیں چرا رہا ہے۔ چین کے بدترین خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی بہت بڑے پیمانے کا حملہ بیجنگ میں اُس ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ سمٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ علاقائی صدر مقام اُرمچی میں 2009ء میں ہونے والے نسلی ہنگاموں کے بعد سے سنکیانگ خونریز پُر تشدد واقعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تصویر: Reuters/T. Peter
چین میں نسلی اقلیت
ایک خاتون صحرائے تکلامکان میں امام عاصم کے مقبرے کے قریب ایک قبر پر دعا مانگ رہی ہے۔ ایغور ترک زبان بولنے والی اقلیت ہے، جس کے زیادہ تر ارکان سنی مسلمان ہیں۔ ایغوروں کا شمار چین میں سرکاری طور پر تسلیم شُدہ پچپن اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ایغور مجموعی طور پر ایک قدرے معتدل اسلام پر عمل پیرا ہیں لیکن کچھ ایغور جا کر مشرقِ وُسطیٰ میں مسلمان ملیشیاؤں میں شامل ہو گئے ہیں۔
تصویر: Reuters/T. Peter
کمیونسٹ پارٹی کا دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم
چینی میڈیا کے مطابق کسی دہشت گردانہ حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے اور اسی لیے کمیونسٹ پارٹی نے بھی مسلمان انتہا پسندوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مثلاً چینی حکام نے مسلمان کمیونٹی کے رسم و رواج پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دی ہیں۔ ریاستی پراپیگنڈے کو ’رَد کرنا‘ غیر قانونی قرار دیا گیا حالانکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکام اس ضابطے کو نافذ کیسے کریں گے۔
تصویر: Reuters/T. Peter
سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب
بہت سے مقامی باشندوں کے خیال میں انسدادِ دہشت گردی کی مشقیں ایک ظالمانہ سکیورٹی آپریشن کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ چند مہینوں سے سنکیانگ کے ایغور علاقوں میں یہ آپریشن تیز تر کر دیا گیا ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی سے زیادہ بڑے پیمانے پر نگرانی کرنا ہے۔ کاشغر میں ایک دکاندار نے بتایا:’’ہماری کوئی نجی زندگی نہیں رہ گئی۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔‘‘
تصویر: Reuters/T. Peter
مسلمانوں کی مخصوص روایات پر پابندی
مردوں پر لگائی گئی سب سے نمایاں پابندی یہ ہے کہ وہ اپنی ’داڑھیاں غیر معمولی طور پر نہ بڑھائیں‘۔ خواتین پر نقاب پہننے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ خاص طور پر ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں جیسے عوامی مقامات میں برقعہ کرنے والی خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور فوراً پولیس کو مطلع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
تصویر: Reuters/T. Peter
سکیورٹی عملے کے چوکس ارکان
حکام نے ایسے لوگوں کے لیے انعام کا اعلان کر رکھا ہے، جو لمبی داڑھیوں والے نوجوانوں یا ایسی مذہبی روایات کی پاسداری کی اطلاع دیں گے، جس میں انتہا پسندی کا پہلو نکل سکتا ہو۔ اس طرح مخبری کا ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار گروپ ایسے احکامات کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔
تصویر: Reuters/T. Peter
معیشت یا سلامتی؟
حکومت سنکیانگ میں جبر کی پالیسیاں اختیار کرنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اُن بھاری رقوم کا ذکر کرتی ہے، جو معدنی وسائل سے مالا مال اس خطّے کی اقتصادی ترقی کے لیے خرچ کی جا رہی ہیں۔ چین کی نسلی پالیسیوں کے ایک ماہر جیمز لائی بولڈ کے مطابق سنکیانگ میں سکیورٹی کے اقدامات لوگوں اور خیالات کے بہاؤ کو روکیں گے اور یوں ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ پروگرام کے خلاف جاتے ہیں۔