1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین کا بڑھتا اثر، بھارت اور امریکہ کا اتحاد اہم کیوں؟

عاطف بلوچ ژولین رائیل | ادارت | عاطف توقیر
23 مئی 2026

اگر چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنا ہے تو امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اتحاد کو زیادہ مؤثر بنانا ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ تصویر تیرہ فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں لی گئی
مودی اور ٹرمپ کے اختلافات نے کواڈ کی اہمیت ہر سوالیہ نشان لگا دیا، فائل فوٹو فروری 2025تصویر: Ben Curtis/AP Photo/picture alliance

امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ اتوار سے نئی دہلی میں تین روزہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ 'کواڈ‘ یعنی اس چہار فریقی سکیورٹی ڈائیلاگ میں انڈو-پیسفک خطے کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور نئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب چین خطے میں اپنی طاقت اور سکیورٹی معاملات میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

تاہم ایک اور اہم مسئلہ جو باضابطہ طور پر اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تو نہیں ہے لیکن ناقدین اس بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ معاملہ یہ ہے کہ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے درمیان اس اتحاد کو کیسے مؤثر رکھا جا سکتا ہے؟

ٹرمپ کے محصولات اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرانے کے دعوے

کواڈ اتحاد ''فری اینڈ اوپن انڈو پیسفک‘‘ کے تصور کے تحت قائم کیا گیا تھا تاہم سن 2024 کے بعد سے اس اتحاد کا سربراہی سطح پر کوئی بھی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا ہے۔

سن 2025 میں ایک سربراہی اجلاس بھارت میں ہونا تھا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔تب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف اور اضافی ٹیکس عائد کیے، جس کے باعث صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے باہمی تعلقات متاثر ہو گئے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ یہ دعویٰ بھی متعدد مرتبہ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس پر نئی دہلی حکومت اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی رہی ہے۔

امریکی صدر نے بھارت کی جانب سے روسی اسلحہ، تیل اور گیس خریدنے پر بھی تنقید کی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ کا نازک سفارتی مشن

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کی توجہ بظاہر مشرق وسطیٰ اور غالبا کیوبا پر مرکوز ہے۔ اس لیے روبیو کا یہ مشن چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔

ٹوکیو کی ٹیمپل یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز براؤن کے مطابق، ''امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ہی ایک مؤثر سکیورٹی تعاون قائم تھا، لیکن کواڈ بنانے کا مقصد بھارت کو شامل کر کے اس اتحاد کو مزید مضبوط اور بااثر بنانا تھا۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (دائیں) کو بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، فائل فوٹو یکم جولائی 2025 تصویر: Kayla Bartkowski/Getty Images

ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا، ''بدقسمتی سے موجودہ امریکی حکومت شاید اس بات کو پوری طرح نہیں سمجھ سکی، جس کی وجہ سے مودی ناراض ہوئے ہیں۔‘‘

اتحاد کو قائم رکھنے کی کوششیں

جاپان اور آسٹریلیا اس چار ملکی اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کے بجائے روبیو اس اتحاد کی نمائندگی کریں تو یہ کواڈ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر ڈیرک گراسمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ سن 2026 کے آخر میں آسٹریلیا میں ہونے والے اس اتحاد کے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو، ''کواڈ کی جیوپولیٹیکل اہمیت کم ہو سکتی ہے اور شاید یہ اتحاد ختم بھی ہو جائے۔‘‘

سیاسی ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا۔ میری ٹائم سکیورٹی تجزیہ کار جوزف کرسٹانٹو کے مطابق بیجنگ کواڈ کو ہمیشہ ہی شک کی نظر سے دیکھتا رہا ہے۔ سنگاپور کے ایک تھنک ٹینک سے وابستہ کرسٹانٹو نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ حکومت کا خیال ہے کہ یہ اتحاد دراصل چینی اثرورسوخ کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات

جوزف کرسٹانٹو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر کواڈ کمزور یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ امریکہ کا عزم کمزور ہو رہا ہے، اتحادی متحد نہیں ہیں اور انڈو پیسفک میں اس طرح کے سکیورٹی اتحاد کی بھی ایک حد ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی غیر یقینی صورتحال خطے کے ایسے چھوٹے ممالک کو بھی پریشان کر سکتی ہے، جو طاقت کے توازن کو برقرار تو رکھنا چاہتے ہیں مگر کسی ایک فریق کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

کرسٹانٹو نے البتہ کہا کہ ایسی بات نہیں کہ یہ اتحاد ٹوٹنے کے قریب ہے۔ ان کے مطابق، ''کواڈ میں حالیہ کشیدگی اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ مشترکہ مفادات ختم ہو رہے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ چار مختلف حکمت عملی رکھنے والے ممالک کے درمیان تعاون کو برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘

امریکہ اور بھارت کے تعلقات اہم ہیں!

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کے لیے امریکہ اور بھارت کے تعلقات کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ کرسٹانٹو کے مطابق امریکہ بھارت کو ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے جو خطے میں بڑا کردار ادا کرے جبکہ بھارت اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر قائم رہنا چاہتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکہ اور بھارت دونوں کو ہی چین اور خطے کی سلامتی کے حوالے سےلاحق خدشات مشترکہ ہیں، اس لیے دونوں کے مابین اسٹریٹیجک تعاون ایک قدرتی اتحاد کی علامت ہو سکتا ہے۔

کواڈ لیڈرز آخری مرتبہ ستمبر سن 2024 کو امریکہ میں ملے تھے، فائل فوٹو ستمبر 2024تصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/picture alliance

کیا یہ اتحاد ایک غیر یقینی مرحلے میں جا رہا ہے؟

جوزف کرسٹانٹو کے مطابق کواڈ اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ اس کا غیر فعال ہو جانا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اصل خطرہ یہ ہے کہ کواڈ آہستہ آہستہ کہیں اپنی سمت کھو نہ دے، جس سے اجلاس کم ہو جائیں، رفتار سست پڑ جائے، رابطے کمزور ہو جائیں اور یوں اس کی سیاسی اہمیت آہستہ آہستہ ختم ہو جائے۔

فی الحال سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ مارکو روبیو بھارت میں کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ کرسٹانٹو کے مطابق، ''اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کیا رہنما تمام اختلافات ختم کر سکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنی سیاسی وابستگیاں برقرار رکھ سکتے ہیں، عملی تعاون جاری رکھ سکتے ہیں اور اس تاثر کو زائل سکتے ہیں کہ یہ اتحاد غیر یقینی حالت میں جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کواڈ کے مستقبل کا انحصار اس بات پر کم ہے کہ اس کے ارکان مکمل طور پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ آیا وہ اختلافات کے باوجود تعاون جاری رکھ سکتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں