چین کے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ
4 مارچ 2013
عنان حکومت سنبھالتے ہی چینی سربراہ نے ملک سے کرپشن کے خاتمے اور سرکاری افسران کے شاہانہ اخراجات میں کمی کی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔ سادگی مہم کے دوران منگل کے روز سیاسی طور پر بااثر فوج کے بجٹ میں کیا گیا یہ اضافہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
قومی مقننہ کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی سیشن کے موقع پر آئندہ سال کے فوجی اخراجات کی منظوری سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شی جن پنگ اور ان کے ساتھیوں کی مستقبل میں کیا حکمت عملی ہو گی۔
پیر کے روزچینی قانون ساز ادارے کی ترجمان نے فوجی بجٹ میں اس بڑے اضافے کی توجیح پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی امن کے قیام میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ انہوں نے اپنی اس وضاحت میں کہیں یہ نہیں بتایا کہ گزشتہ برس کی نسبت بجٹ میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے۔
سیاسیات اور قانون کی شنگھائی یونیورسٹی کے پروفیسر نی لیگزیونگ کے مطابق دفاعی بجٹ کی شرحِ اضافہ کا تعلق افراط زر میں ہونے والے اضافے سے ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے لیے لگژری گاڑیوں اور پر تعیش کھانوں پر لگائی جانے والی پابندیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اب دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ فوجی تربیت اور اسلحے کی خریداری پر صرف ہو گا۔
چین کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے اس سے پہلے بھی متضاد اطلاعات گردش کرتی رہی ہیں۔ چین نے دفاعی بجٹ کی مد میں سال 2011 ء کے دوران 91.5 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پینٹا گون کے مطابق چین نے سرکاری طور پر اعلان شدہ بجٹ سے کہیں زیادہ بڑھ کر رقم خرچ کی۔ اس سال چین نے 120سے 180ارب ڈالر دفاع کے شعبے پر خرچ کیے ۔
اس وقت چین کو مختلف علاقائی محاذوں پر کئی طرح کے تنازعات کا سامنا ہے اور چین علاقے میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و نفوذ کو بھی کم کرنا چاہتا ہے۔
حالیہ اضافہ یہ ظاہر کرتا ہےکہ بیجنگ حکومت اپنی فوج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
zb/aa(AP)