1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ڈرون حملے عسکریت پسندی کا دیرپا حل نہیں

Zubair Bashir22 مئی 2013

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سی آئی اے کی قیادت میں ہونے والے ڈرون حملے وہاں موجود عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں خلل تو ڈال سکتے ہیں لیکن ان کے نیٹ ورکس کو مستقل طور پرتباہ نہیں کر سکتے۔

تصویر: Reuters

انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اپنی ا یک تازہ رپورٹ میں امریکا کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے ڈرون حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے پاکستان میں شدت پسندی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ ڈرون حملوں کے ناقدین کی جانب سے عمومی طور پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہی ڈرون حملوں کے نتیجے میں لوگ انتہا پسندی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ اس تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ڈرون حملے طویل المدتی حل نہیں ہیں۔

ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے یہ حملے پاکستان میں انتہائی متنازعہ ہو چکے ہیںتصویر: picture alliance/Photoshot

اس تھنک ٹینک نے واشنگٹن حکومت پر زور دیا ہے کہ اسے پاکستان کے حوالے سے اپنی اس پالیسی میں شفافیت پیدا کرنا ہو گی۔ اس رپورٹ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کو ایک داخلی مسئلہ قرار دیا ہے، جس کی وجہ سیاسی، اقتصادی اور فرسودہ قانونی نظام بتایا گیا ہے۔

یہ رپورٹ صدر باراک اوباما کی اس تقریر سے صرف دو روز قبل سامنے آئی ہے، جس میں وہ امریکی ڈرون پالسی ، قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر اظہار خیال کرنے جا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس میں اس حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے کہ ان کا ملکی فوجی اداروں پر کنٹرول کم ہوتا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کبھی بھی ان حملوں کی تفصیلات افشا نہیں کیں، حتٰی کہ امریکی کانگریس کے قومی سلامتی سے متعلق اراکین کو بھی ان تفصیلات سے لاتعلق رکھا گیا ہے۔

اراکین کو امریکی فوجی حکمت عملی اور ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی کے طریقہء کار پر بھی تشویش ہے۔ وہاں اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ جب القاعدہ ایک عرصے سے کمزور پڑ چکی ہے تو اس طرح کے حملوں کا کیا جواز باقی رہ گیا ہے؟ یہ محض امریکا مخالف جذبات بڑھانے اور امریکا کے دشمنوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

نواز شریف شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرنے کے حامی ہیںتصویر: AP

وفاق کے زیر انتظام پاکستان کا قبائلی علاقہ فاٹا اپنی ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علاقہ سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ فاٹا کا افغانستان کے ساتھ ایک طویل غیر محفوظ بارڈر ہے۔ یہ علاقہ ایک طویل عرصے تک اقتصادی ترقی کے لحاظ سے نظر انداز رہا ہے۔ یہ علاقہ اب القاعدہ سے تعلق رکھنے والے طالبان کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سرحد پار وہاں تعینات مغربی فوجیوں پر حملے کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں عام لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی فورسسز طالبان کے خلاف کئی فوجی آپریشن کرچکی ہیں لیکن وہ آج بھی قبائلی علاقوں میں انتہائی متحرک ہیں۔ پاکستان میں اس ماہ ہونے والے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والے نواز شریف شدت پسندی کی اس لہر کو ختم کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرنے کے حامی ہیں۔

امریکا کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے یہ حملے پاکستان میں انتہائی متنازعہ ہو چکے ہیں۔ ان ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی درست تعداد کے حوالے سے بھی کئی ابہام پائے جاتے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شما ر کے مطابق سن 2004 سے اب تک پاکستان میں 330 سے زائد ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں 2200 افراد ہلاک جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں تقریباﹰ 400 عام شہری تھے۔

zb/ia(AFP)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں