سمندری طوفان ڈوریان کی قوت بڑھ چکی ہے اور وہ انتہائی خطرناک طوفان کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یہ طوفان پیر یا منگل کو امریکی ریاست فلوریڈا کی ساحلی پٹی سے ٹکرانے والا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/D. Goldman
اشتہار
ڈوریان کے سمندری طوفانوں کی خطرناک ترین کیٹگری میں داخل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس وقت ڈوریان کے ساتھ چلنے والے جھکڑوں کی رفتار کیٹگری پانچ کے جھکڑوں کی رفتار یعنی ڈھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے معمولی سی کم ہے۔
کیٹگری چار کا خطرناک طوفان ڈوریان اتوار یکم ستمبر کی علی الصبح شمالی باہاماس سے ٹکراتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ سمندری طوفانوں پر نگاہ رکھنے والے امریکی ادارے نے بتایا کہ اس طوفان کے ساتھ چلنے والے زوردار جھکڑوں کی رفتار 240 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
ڈوریان طوفان کے ساتھ چلنے والے زوردار جھکڑوں کی رفتار 240 کلومیٹر فی گھنٹہ ہےتصویر: picture-alliance/NOAA
کیریبئین جزیرے بہاماز سے ٹکرانے کے بعد ڈوریان کے مرکزے کا رخ شمال مشرق کی جانب مڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ باہاماس میں کے شمالی حصوں میں ڈوریان سے ہونے والے نقصان کا سردست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ وہاں ابھی بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی باہاماس کے وہ ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں جنہیں اگلے ایک دن تک شدید موسلا دھار بارش اور زوردار جھکڑوں کا سامنا ہے۔
دوسری جانب امریکی ریاست فلوریڈا خاص طور پر اس خطرناک طوفان کے راستے پر ہے۔ آج اتوار سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں سے رہائشیوں کی محفوظ مقام پر لازمی منتقلی شروع کی جائے گی۔ سمندری طوفان ڈوریان امکاناً پیر کی شام یا منگل کی علی الصبح امریکی ریاست فلوریڈا سے ٹکرا سکتا ہے۔
فلوریڈا کے گورنر نے اپنی ریاست کی ساحلی پٹی کے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر رکھا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ڈوریان طوفان سے صرف امریکی ریاست فلوریڈا متاثر نہیں ہو گی بلکہ جورجیا، شمالی و جنوبی کیرولینا تک کے علاقوں میں چار فٹ تک ہونے والی طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
ع ح، ع ا ⁄ اے پی، نیوز ایجنسیاں
سمندری طوفان فلورنس
امریکی ریاستوں شمالی و جنوبی کیرولینا کے ساحلی علاقوں سے سترہ لاکھ سے زائد لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان علاقوں سے جمعرات و جمعے کی درمیانی شب سمندری طوفان فلورنس ٹکرائے گا۔
تصویر: Getty Images/ESA/NASA
سمندری طوفان کا مرکزہ یا آنکھ
سمندری طوفانوں کی اصطلاح میں کسی بھی سمندری طوفان کے مرکزے کو آنکھ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ مرکزہ یا آنکھ جس رفتار سے گھومتی ہے، وہی اُس کی شدت کا تعین کرتی ہے۔ بدھ بارہ اگست تک فلورنس سمندری طوفان شدید طوفانوں کی کیٹیگری چار میں تھا۔ جمعرات کی علی الصبح اس کی قوت میں کمی بتائی گئی ہے۔ اب یہ کیٹگری دو کا طوفان ہے۔
تصویر: Getty Images/ESA/NASA
ایک خطرناک طوفان
کیٹگری دو میں آنے کے باوجود فلورنس بدستور ایک خطرناک طوفان ہے کیونکہ یہ ایک وسیع ساحلی علاقے کو متاثر کرے گا۔ اس کے ساتھ شدید بارشوں کے علاوہ زوردار سمندری لہریں بھی ساحلوں سے ٹکرائیں گی۔ موسلادھار بارش سے کئی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔ ان بارشوں اور سیلاب کو ماحولیاتی آفت بھی قرار دیا گیا ہے۔
تصویر: Reuters/NASA
لاکھوں افراد کا انخلا
فلورنس سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر حکومت کی ہدایات پر سترہ لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ ان کا تعلق ورجینیا، شمالی اور جنوبی کیرولینا ریاستوں سے ہے۔ ان کے علاوہ دس لاکھ افراد کو چوکس رکھا گیا ہے کہ وہ طوفان کے ٹکرانے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
تصویر: Reuters/C. Allegri
اشیائے ضرورت کا ذخیرہ
فلورنس طوفان سے متاثر ہونے والے علاقوں کے شہریوں نے خوراک، پانی اور پٹرول کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔ اس کا خطرہ ہے کہ سمندری طوفان کے زوردار جھکڑوں سے بجلی کی فواہمی کئی ایام کے لیے منتقل ہو سکتی ہے۔
تصویر: Getty Images/J. Raedle
یہ ایک بڑا طوفان ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلورنس کو ایک بڑا طوفان قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کی بھرپور امداد فراہم کرنے کے لیے تیار رہے۔ امریکی صدر نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں۔