1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ڈونیٹسک توپوں کی شیلنگ سے لرز اٹھا

عابد حسین22 مارچ 2015

مشرقی یوکرائن کے اہم اور صنعتی شہر ڈونیٹسک میں آج اتوار کے روز توپوں کی شدید شیلنگ ہوئی۔ شیلنگ کا علاقہ ڈونیٹسک کے ہوائی اڈے والا بتایا گیا ہے۔ مشرقی یوکرائن میں پندرہ فروری سے فائربندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔

تصویر: Anatolii Stepanov/AFP/Getty Images

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق خانہ جنگی کے شکار مشرقی یوکرائنی حصے کے بڑے شہر ڈونیٹسک کے ہوائی اڈے کے قرب و جوار میں توپوں کی شیلنگ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق نو بجے شروع ہوئی۔ توپوں کی گھن گرج سے سارا ڈونیٹسک لرز اُٹھا۔ ڈونیٹسک ہوائی اڈہ مشرقی یوکرائن کے انتہائی خطرناک اور حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اِس پر رواں برس جنوری میں روس نواز باغیوں نے قبضہ کیا تھا۔ پندرہ فروری سے فائربندی جاری ہے لیکن اِس دوران بھی گاہے گاہے فائرنگ سنائی دیتی رہی ہے لیکن آج کی شیلنگ خاصی شدید تھی۔

یوکرائن کی فوج کے مطابق ڈونیٹسک ایئر پورٹ کے نزدیکی علاقوں میں موجود باغیوں نے 82 ملی میٹر دہانے کے مارٹر گولے داغے ہیں۔ اِس کے علاوہ انہوں نے دستی بم بردار راکٹ بھی فائر کیے۔ بیان میں یہ ضرور واضح کیا گیا کہ تمام شیلنگ یوکرائن کی فوجوں کے خلاف تھی لیکن جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ حکومتی فوج کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ باغیوں کے ایک اور گڑھ لوگانسک شہر میں بھی کییف حکومتی فوج پر باغیوں کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔

b

مشرقی یوکرائن میں پندرہ فروری سے فائربندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔تصویر: Volodymyr Shuvayev/AFP/Getty Images

مِنسک معاہدے کے تحت مشرقی یوکرائن میں فوج اور باغیوں بھاری ہتھیاروں کو اگلے محاذوں سے واپس لے جانے کا اعلان ضرور کر رکھا ہے۔ دو روز قبل یوکرائنی فوج نے کہا ہے کہ باغیوں نے شائروکینی کے مقام سے اُن پر گراڈ میزائل داغے ہیں۔ فائربندی کے دوران پہلی مرتبہ میزائل داغنے کا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے۔ اسی علاقے میں مقیم یورپی سلامتی و تعاون کی تنظیم OSCE کے بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ بھاری ہتھیاروں کی مکمل واپسی کی پوری طرح تصدیق نہیں کر سکتے کیونکہ فریقین کی جانب سے عدم تعاون جاری ہے۔

اُدھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لَو کا کہنا ہے کہ مغرب کو اس پر غور کرنا ضروری ہے کہ یوکرائن کی ہر ممکن طریقے سے عسکری مدد کی جائے اور اِس میں ہو سکے تو دفاعی ہتھیار بھی دیے جائیں۔ جنرل بریڈ لَو نے اِن خیالات کا اظہار برسلز میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ نیٹو کے اعلیٰ ترین جنرل نے روس کا نام لیے بغیر کہا کہ یوکرائنی تنازعے میں سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی حربوں کو یوکرائن کے خلاف استعمال کیا جا چکا ہے اور اب مغربی اقوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِن حربوں کا مؤثر انداز میں جواب دے۔ جنرل نے یہ بھی کہا کہ اِس وقت بھی یوکرائن اور دوسرے علاقوں میں ایسی فوجی پیش رفت جاری ہے جو خطے کے عسکری توازن کو متاثر کر رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں