ڈیمنشیا کا تیز رفتار پھیلاؤ روکنے کے لیے چین کا منصوبہ
6 جنوری 2025
چین نے ڈیمنشیا کے تیز رفتار پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے ایک قومی منصوبہ شروع کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق ڈیمنشیا ایک معاشرتی تشویش بنتا جا رہا ہے۔
2024 کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق چین میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں جن میں الزائمر کی بیماری بھی شامل ہے۔تصویر: DAVID HERRAEZ CALZADA/Zoonar/picture alliance
اشتہار
بزرگ چینی شہریوں میں ڈیمنشیا کے تیزی سے بڑھتے مرض کے بارے میں چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ 'وسیع پیمانے پر معاشرتی تشویش‘ کا سبب بنتا جا رہا ہے اور بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود اور ان کے اہل خانہ کے لیے 'اہم چیلنجز‘ پیدا کر رہا ہے۔
دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین میں عمر رسیدگی ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق چین میں 2035ء تک 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد کم از کم 40 فیصد بڑھ کر 400 ملین سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ وہ تعداد مشترکہ طور پر برطانیہ اور امریکہ کی آبادی کے برابر ہو گی۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن سمیت پندرہ چینی سرکاری محکموں نے ڈیمنشیا سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے تیار کیا ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق اس تجویز میں 2030 تک سات اہم کاموں اور اہداف کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
بزرگ چینی شہریوں میں ڈیمنشیا کے تیزی سے بڑھتے مرض کے بارے میں چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ 'وسیع پیمانے پر معاشرتی تشویش‘ کا سبب بنتا جا رہا ہے۔تصویر: Martin Wagner/IMAGO
شنہوا نے کہا، ''عمر رسیدہ آبادی اور اوسط عمر میں اضافے کے ساتھ، چین میں بھولنے کا سبب بننے والے ڈیمنشیا میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ جاری ہے، جو وسیع پیمانے پر معاشرتی تشویش بن گیا ہے۔‘‘
شنہوا نے کہا کہ 2030 تک ڈیمنشیا کی روک تھام اور کنٹرول کا ایک مستقل نظام قائم کیا جائے گا جس میں روک تھام، اسکریننگ، تشخیص، علاج، بحالی اور دیکھ بھال شامل ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ڈیمنشیا کو روکنے کے لیے عمر رسیدہ افراد کی وسعی پیمانے پر اسکریننگ کی جائے گی اور جو اس خطرے سے دو چار ہوں گے ان کا بروقت علاج کیا جائے گا۔
الزائمر سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
مرض الزائمرکی اصل وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔ تاہم بہت سے محققین کہتے ہیں کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے، صحت مند غذا کھانے اور ذہن کو تربیت دیتے ہوئے اس بیماری سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/ZB/J. Kalaene
وزن کم کریں
اگر کسی کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے تو اسے فوری طور پر اسے کم کرنےکی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لیے صحت مند غذا اور ورزش لازمی ہے۔ ورزش سے صرف چربی ہی کم نہیں کرتی بلکہ نظام دوران خون کے ساتھ میٹابولزم بھی بہتر ہوتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/G. Breloer
غذا کا انتخاب
کئی جائزے یہ ثابت کرتے ہیں کہ سبزیوں اور سے حاصل ہونے والی چربی کے علاوہ سلاد کا استعمال خون کے نالیوں اور رگوں پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ جس قدر کوئی شخص فالج یا دل کے امراض سے محفوظ ہو گا، تو اس طرح الزائمر کے خطرات بھی کم ہوں گے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/F. May
ورزش ایک ہتھیار
اپنے جسم کو حرکت دینا یا باقاعدگی سے ورزش کرنا بہت سی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان میں فشار خون، شوگر اور فالج پیش پیش ہیں۔ اسی طرح ورزش الزائمر کے خلاف بھی ایک بہترین ہتھیار ہے۔ اس طرح ذہن صلاحیت بڑھتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
تباکونوشی کے اثرات
آج کل تمباکو نوشی سے چھٹکارا پانا ماضی کے مقابلے میں بہت آسان ہو گیا ہے۔ تقریباً تمام ہی عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کی وجہ سے اس جانب راغب ہونے والے لوگوں کی تعداد میں بھی کم ہو رہی ہے۔ نکوٹین اعصاب کو متاثر کرنے والا ایک زہریلا مواد ہے۔ اسی طرح نکوٹین دوران خون کے مسائل کا باعث بھی بنتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R. Bonß
شراب نوشی بھی زہر
نکوٹین کی طرح شراب پینے سے بھی اعصاب شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اس بارے میں کرائے گئے کئی جائزوں کے مطابق شراب کی زیادہ مقدار ذہن پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J. Büttner
دماغی نشونما
ذہن کو مصروف رکھنے سے دماغ بھی متحرک رہتا ہے۔ کتابیں پڑھنے، چیزوں کو یاد کرنے اور پہیلیاں بوجھنے کو ذہن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ سماجی رابطے اور دوسروں سے میل جول بھی ذہن کی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
تصویر: Reiner Wandler
رقص ایک بہترین حل
کہتے ہیں کہ موسیقی، میل جول اور رقص انسان کو جوان اور صحت مند رکھتے ہیں۔ باقاعدگی سے رقص و موسیقی کی کسی محفل میں شرکت الزائمر کے خلاف بہترین دوا ہے۔ تاہم اس بیماری سے بچاؤ کی ضمانت کوئی بھی نہیں دے سکتا اور نہ ہی اس سے بچاؤ کو ابھی تک کوئی دوا موجود ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J. Büttner
7 تصاویر1 | 7
سنہ 2024 کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق چین میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں جن میں الزائمر کی بیماری بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیمنشیا کے مریضوں کی تعداد عالمی سطح پر کل تعداد کا تقریباﹰ 30 فیصد ہے۔
منصوبے کے مطابق ڈیمنشیا میں مبتلا عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کی خدمات میں اضافہ کیا جائے گا۔ ڈیمنشیا میں مبتلا بزرگوں کے لیے مخصوص نگہداشت یونٹوں میں دیکھ بھال کے اداروں کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کے تحت 2030 تک ڈیمنشیا کی دیکھ بھال کرنے والے تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعداد 15 ملین تک پہنچائی جائے گی۔