ڈیٹا تحفظ کے معاہدے کو سخت تر بنایا جائے: یورپی یونین
19 جولائی 2013
یورپی یونین کی ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکا کے جاسوسی پروگرام کو یورپ کے لیے ’ویک اپ کال‘ کہا ہے۔ 28 رکنی یورپی یونین کی انصاف کے امور کی کمشنر Viviane Reding کے بقول یورپ کو امریکا کے جاسوسی پروگرام ’پرزم‘ کے حوالے سے مستعد اور تیز رفتار قدم اٹھانا چاہیئں۔ اس بارے میں گزشتہ روز لیتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں یونین کے وزرائے انصاف کا ایک اجلاس بھی ہوا۔
ولنیئس منعقدہ اجلاس میں پورپی یونین کے دو بڑے اور اہم ممالک جرمنی اور فرانس نے یورپی یونین کے شہریوں کے پرائیویسی حقوق کے تحفظ کے لیے نئے قوانین تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ یورپی یونین کی امورِ انصاف کی نگران کمشنر Viviane Reding نے امریکی خفیہ ایجنسی NSA کے سابقہ ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے افشا کیے جانے والے امریکی جاسوسی پروگرام کے تناظر میں اس امر پر زور دیا کہ یورپی یونین میں شامل تمام ممالک کو مل کر اس کے خلاف تیز رفتار اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں نیز اس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت پابندیاں لگائی جانا چاہییں۔
لیتھوانیا، جو یورپی یونین کی موجودہ ششماہی کے لیے صدارتی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، کے دارالحکومت ولنیئس میں ہونے والے اجلاس میں فرانس اور جرمنی کی طرف سے مشترکہ طور پر شہریوں کے پرائیویسی حقوق کے تحفظ کے ایک اعلامیے پر دستخط بھی کیے گئے۔ وِیوِیئن رَیڈنگ نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اس دستاویز میں آزادی اور سکیورٹی کے درمیان توازن کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی NSA کے جاسوسی کے پروگرام سے متعلق تفصیلات افشا ہونے کے بعد یورپی سطح پر ایک غیر معمولی خوف اور عدم اعتماد کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں یورپی یونین کے رکن ممالک نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ امریکی انٹرنیٹ کمپنیوں سے جلد از جلد یہ تفصیلات حاصل کی جائیں کہ آیا انہوں نے یورپی یونین کے شہریوں کا ڈیٹا خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کیا ہے۔ اگر گوگل اور فیس بُک جیسے اداروں نے یورپی یونین کے اصولوں کی خلاف وزی کی ہے، تو انہیں اپنی سالانہ آمدنی کا دو فیصد تک جرمانے کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔
یورپی یونین کے وزرائے انصاف نے اس حوالے سے آج جمعے کو ولنیئس میں ان اصلاحات پر بنیادی طور پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی یونین کی انصاف کے امور کی کمشنر رَیڈنگ نے اس موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا، ’’آج کی اس ملاقات سے ایک سخت سگنل دیا گیا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ ڈیٹا تحفظ کے حوالے سے امریکا کے ساتھ طے شدہ معاہدے ’سیف ہاربر‘ میں سختی لائی جائے۔‘‘
ایک عرصے سے تنازعے کا باعث بنی ہوئی اصلاحات کو سنوڈن کے تازہ ترین انکشافات کے بعد واضح تحریک ملی ہے۔ یورپی یونین کے وزراء کی خواہش کے تحت یہ اصلاحات آئندہ برس تک منظور ہو جانی چاہییں اور ان کی منظوری پورپی پارلیمان کو بھی دینا ہو گی۔ 2014ء تک یہ تمام مراحل مکمل ہو جانے چاہییں۔ دریں اثناء یورپی سفارتکاروں کے مطابق برطانیہ نے اس ضمن میں تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم یورپی یونین کی مشاورتی کمیٹی میں ان اصلاحات کے حق میں اکثریتی رائے کافی رہے گی۔