جرمنی میں رہنے والا ہر رنگ اور ہر نسل کا فرد اس معاشرے کا حصہ ہے جبکہ برداشت اور تنوع جرمن معاشرے کی لازمی اقدار ہیں۔ ڈوئچے ویلے کی مہم ’جرمنی ہم ہیں‘ کا مقصد انہی اقدار کا دفاع اور فروغ ہے۔ جرمنی میں ثقافت، کھیل اور معاشرتی زندگی کے کئی دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات نے ڈی ڈبلیو کی اس مہم کی حمایت کی ہے۔
برداشت اور تنوع جرمن معاشرے کی لازمی اقدار ہیں۔ ڈوئچے ویلے کی مہم ’جرمنی ہم ہیں‘ کا مقصد انہی اقدار کا دفاع ہے۔ مختلف رنگوں اور نسلوں کے سماجی انضمام کی مظہر ہر تصویر جرمن عوامی زندگی کی نمائندہ دو مشہور شخصیات کی ہے۔
جفعر عبدالکریم (ڈوئچے ویلے شعبہٴ عربی) اور یانا پارائیگِس (ڈوئچے ویلے شعبہٴ جرمن) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: DWڈینیئل بارَین بوئم (میوزک کنڈکٹر) اور لِز بافوئے (اداکارہ) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: Peter Adamik | Liz Baffoeزینب محمد احمد (ڈوئچے ویلے شعبہ ہاؤسا) اور یَوشا ویبر (ڈوئچے ویلے شعبہ سپورٹس) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: DWعبدالکریم (کامیڈین) اور آنے صوفی مُٹر (وائلن نواز) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: Guido Schröder | Harald Hoffmann / DGمائیکے کرُوگر (ڈوئچے ویلے شعبہ ثقافت) اور الزبتھ شُو (ڈوئچے ویلے شعبہ ساحلی) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: DWہارپے کَیرکیلِنگ اور کایا یانار (دونوں کامیڈین) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: Felix Rachor | Nadine Dillyنِیکے واگنر (ڈائریکٹر اور مینیجر بیتھوون فیسٹیول) اور زیُولی آلاداگ (فلم ڈائریکٹر) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: Monika Nonnenmacher | Heinrich Völkelپِیا کاسترو (ڈوئچے ویلے شعبہ ہسپانوی) اور امریتا چیمہ (ڈوئچے ویلے نیوز) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: DWلِندیتا آراپی (ڈوئچے ویلے شعبہ البانوی) اور ذاخار بُوتائرسکی (ڈوئچے ویلے شعبہ یوکرائنی) نے بھی ڈی ڈبلیو کی اس مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں ان بہت سی سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے باہمی برداشت، سماجی تنوع اور بین الثقافتی مکالمت کی ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی تیس مختلف زبانوں میں ڈوئچے ویلے کے دنیا بھر کے لیے مشن کا پیغام بھی ہے۔
تصویر: DW اپنے اس اقدام کے ساتھ جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ڈی ڈبلیو موجودہ سماجی اور سیاسی بحث میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور اس حقیقت سے پردہ اٹھانا چاہتا ہے کہ یورپی یونین کے رکن اس ملک کی ترقی میں تارکین وطن کا کردار کس قدر اہم ہے۔ ڈی ڈبلیو دنیا کے سامنے جرمنی کی جامع اور حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے اور ساتھ ہی مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمت کے لیے بھی کوشاں ہے۔
اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو کی اپنے دنیا بھر میں موجود صارفین سے گزارش ہے کہ وہ اس کا ساتھ دیں اور اس ادارے کو اپنی کسی دوسرے فرد کے ساتھ کھینچی گئی تصویر بھیجیں۔ آپ کی بھیجی ہوئی ایک تصویر جرمنی میں تنوع اور رواداری کی مثال بن سکتی ہے۔ اس تصویر کا موٹو ہے’’جرمنی ہم ہیں‘‘ کے مداح۔ ’’دو لوگ ایک پیغام‘‘ کے نام سے آپ ہمیں اپنی تصاویر 21 مارچ 2015ء تک بھیج سکتے ہیں۔
اپنی تصویر اپ لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلِک کریں۔