1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

پاکستان کا افغانستان پر حملوں میں ’عبوری وقفے‘ کا اعلان

مقبول ملک اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
18 مارچ 2026

پاکستان نے افغانستان پر اپنے حملوں میں کئی دوست ممالک کی درخواست پر ’عبوری وقفے‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے پیش نظر سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا۔

کابل میں ڈرگ کلینک پر پاکستانی فضائی حملے کے بعد لگنے والی آگ
کابل میں ڈرگ کلینک پر پاکستانی فضائی حملے کے بعد لگنے والی آگتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ملکی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمسایہ ملک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ 'عبوری طور پر روک دینے‘ کا فیصلہ اسی ہفتے منائے جانے والے عید الفطر کے مذہبی تہوار کے پیش نظر کیا اور اس کے لیے اسلام آباد سے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے دوست ممالک کی طرف سے درخواست کی گئی تھی۔

افغان وزیر داخلہ کا کابل پر پاکستانی حملے کے بدلے کا عزم

وفاقی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا، ''اس عبوری وقفے پر عمل درآمد کا آغاز مقامی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بجے ہو جائے گا اور یہ محدود وقفہ پیر کی نصف شب تک جاری رہے گا۔‘‘

عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد حکومت نے یہ فیصلہ اپنی طرف سے ''اچھی سوچ کے عملی اظہار اور اسلامی روایات کو مدنظر‘‘ رکھتے ہوئے کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، کب کیا ہوا؟

پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑتصویر: Newscom World/IMAGO

تاہم ساتھ ہی پاکستانی وزیر داخلہ نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ''پاکستان میں سرحد پار سے کیے جانے والے کسی بھی نئے حملے، کسی ڈرون حملے یا ملکی سرزمین پر کسی بھی دوسرے دہشت گردانہ واقعے کی صورت میں یہ وقفہ فوراﹰ ختم ہو جائے گا اور پاکستانی آپریشنز پھر اپنی پوری شدت سے بحال ہو جائیں گے۔‘‘

ہسپتال پر پاکستانی حملے میں چار سو ہلاکتیں، طالبان کا دعویٰ

پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ فوجی کشیدگی کو اب کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور اس دوران اطراف کے مابین نہ صرف کئی سرحدی مقامات پر خونریز مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں ایسے اہداف کو بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں دہشت گردی کے ایسے مراکز اور دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانے تھے، جہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

پاکستان کے مطابق کابل میں اس فضائی حملے کی جگہ ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھیتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

پاکستان۔افغانستان کشیدگی: کیا اب لڑائی ہی واحد راستہ رہ گئی ہے؟

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین خونریز کشیدگی میں رواں ہفتے کا آغاز خاص طور پر ہلاکت خیز ثابت ہوا، جب ایک پاکستانی فضائی حملے میں کابل میں منشیات کے عادی افراد کی ایک علاج گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس حملے میں 143 افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے مطابق کابل میں اس حملے کی جگہ ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں