کالا زار، شہر حلب کا ناسور
16 دسمبر 2013
خانہ جنگی کے شکار عرب ملک شام میں گزشتہ دو ماہ کے دوران صحت عامہ کے ساتھ ساتھ مجموعی انسانی صورتحال بھی بد سے بدتر ہوگئی ہے۔ طبی شعبے کے کارکنوں کا 70 فیصد حصہ ملک سے فرار ہو چکا ہے اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے والے زیادہ تر اداروں کو جنگ اور تصادم کے سبب نقصان پہنچا ہے یا پھر انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بحران زدہ ملک میں بہت سی متعدد بیماریاں وباء کی صورت پھیل چکی ہیں۔ شام میں انسانی صورتحال کا اندازہ لگانے والے فیلڈ ورکرز، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز انٹرنیشنل اور عالمی ادارہ صحت کے تخمینوں کے مطابق جنگ سے تباہ حال شام میں اس وقت 12.9 ملین افراد کو بنیادی غذا، پینے کے صاف پانی اور سر چھپانے کے لیے مناسب ٹھکانوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال صحت کے شعبے کی ہے۔ ملک کے بنیادی ڈھانچے کے تباہ ہو جانے کے بعد اب وہاں صحت کی بنیادی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں۔ خسرہ، ٹائیفائیڈ، ریت میں پائی جانے والی مکھیوں سے پیدا ہونے والا عارضہ کالا زار، شدید اسہال اور جگر کی بیماری ہیپیٹائٹس تیزی سے وباء کی شکل میں پھیل رہے ہیں۔
عالمی اداروں کی اطلاعات کے مطابق شام کے متعدد علاقوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر، پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں اور کینسر یا سرطان جیسے مہلک عارضوں کے علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
دریں اثناء اردن اور لبنان پہنچنے والے شامی پناہ گزینوں کی صحت کی صورتحال بھی سنگین نظر آ رہی ہے۔ شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد اردن اور لبنان ہی پہنچی ہے، جہاں پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کے سبب صحت کے شعبے پر غیر معمولی دباؤ ہے۔
حکام نے انتباہ کیا ہے کہ وہ گونا گوں بیماریوں کے شکار پناہ گزینوں کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کر سکتے۔ لبنان میں بنیادی اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سروسز گرچہ مہیا ہیں تاہم ان پر آنے والا خرچہ شامی مہاجرین کسی صورت ادا نہیں کر سکتے۔
اُدھر پناہ گزینوں کے ادارے UNHCR نے کہا ہے کہ وہ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پر آنے والے اخراجات کا 75 فیصد حصہ ادا کرے گا تاہم مہلک بیماریوں، جیسے کہ کینسر، گردوں کے ناکارہ ہونے سے جنم لینے والے عارضوں وغیرہ کے علاج کی سہولیات اور ان پر آنے والے اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ مثال کے طور پر کیمو تھیراپی، ڈائی ایلیسس یا بلڈ ٹرانسفیوژن یا خون کی منتقلی وغیرہ کی سہولیات کا فراہم کیا جانا ناممکن ہے۔
اُدھر لبنان میں قائم صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے محققین کے ایک گروپ نے شامی باشندوں کی صحت کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار مقامی اور بین الاقوامی برادری کو ٹھہرایا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے نہتے شامی باشندوں کی امداد کی طرف سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے، جس کے سبب شام میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس گروپ کے ایک سرگرم رکن فواد نے کہا ہے کہ شام میں پولیو ٹائپ ون کا پھیلاؤ اس امر کا ثبوت ہے کہ شامی شہریوں کی صحت کی صورتحال کو ہر سطح پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
فواد کا کہنا ہے کہ شام کے مرکزی اور سب سے زیادہ آبادی والے شہر حلب میں گزشتہ ایک سال سے زائد کے عرصے میں محض ایک مریض کی ہارٹ سرجری عمل میں لائی گئی ہے۔ فواد نے مزید بتایا کہ شہر حلب میں حفظان صحت کی ابتر صورتحال کے سبب پیدا ہونے والی بیماری کالا زار اس تیزی سے پھیلی ہے کہ اسے اب ’حلب کے پھوڑے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی شام کے لیے مقرر کردہ ترجمان الزبتھ ہوف کے مطابق دیگر بیماریوں کے علاوہ شام میں دماغی صحت کا شعبہ بھی بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے اور اس سے نمٹنا اب اس عالمی ادارے کے لیے ایک انتہائی مشکل چیلنج بن چکا ہے۔