کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ، کم ازکم نو مظاہرین ہلاک
1 مارچ 2026
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کے مطابق اتوار کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کے خلاف اور ایران کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران امریکی قونصل خانے کے باہر کم از کم نو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان محمد امین نے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم کم از کم آٹھ لاشیں کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کر چکے ہیں جبکہ قونصل خانے کے اس واقعے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں۔
اے ایف پی کے ایک نمائندے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ نوجوانوں کا ایک ہجوم مرکزی دروازے پر چڑھ گیا اور قونصل خانے کی عمارت کے ڈرائیو وے تک رسائی حاصل کر لی، جہاں بعض کھڑکیوں کو توڑ دیا گیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان قونصل خانے کی مرکزی عمارت کی کھڑکیاں توڑ رہے تھے جبکہ احاطے کے اوپر امریکی پرچم لہرا رہا تھا اور کمپاؤنڈ کی دیواروں پر خاردار تار لگی ہوئی تھی۔
ایک نوجوان احتجاج کرتے ہوئے کہہ رہا تھا، ''ہمیں متحد رہنا ہوگا، کوئی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی۔‘‘
مظاہرین میں شامل ایک اور شخص نے ویڈیو بناتے ہوئے کہا، ''ہم کراچی میں امریکی قونصل خانے کو آگ لگا رہے ہیں۔ ہم اپنے رہنما کے قتل کا بدلہ لے رہے ہیں۔‘‘
پاکستان کے مشرقی شہر لاہور اور شمالی علاقے اسکردو میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ریڈ زون میں واقع امریکی سفارت خانے جانے والی تمام سڑکوں کو بلاک کر رکھا ہے، اور اس علاقے میں کسی بھی قسم کی ٹریفک کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
ادارت: مقبول ملک