کراچی میں مزید نوادرات قبضے میں لے لیے گئے
8 جولائی 2012
یہ قدیمی نوادرات پاکستان کے شمال مغربی اس علاقے سے غیرقانونی طور پر کھدائی کر کے نکالے گئے، جہاں پاکستانی فوج اسلام پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔
کراچی کے مشرقی علاقے ابراہیم حیدری میں گودام پر ہفتے کو چھاپہ مارا گیا جس کے نتیجے میں وہاں سے دو بڑے صندوقوں میں بند گندھارا تہذیب کے نمونے ملے۔
صوبہ سندھ میں محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ قبضے میں لیے گئے نوادرات میں بدھا کے مجسے، قدِ آدم بت، کانسی کے نمونے، ظروف اور سجاوٹی تختیاں شامل ہیں۔
کراچی میں میں جمعے کو پولیس نے ایک ٹرک کی تلاشی کے دوران ایسے ہی نوادرات برآمد کیے تھے۔ اعلیٰ پولیس اہلکار لطیف صدیقی کا کہنا ہے کہ ٹرک کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جنہوں نے بعدازاں گودام کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
صدیقی نے بتایا: ’’ہم نے جمعے کو ٹرک سے برآمد کیے گئے نوادرات کی فہرست بنائی ہے، وہ تین سو سے زیادہ ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا: ’’آج (ہفتے کو) برآمد کیے گئے نوادرات کی فہرست ابھی نہیں بنی، اس کے مکمل ہونے پر ان نوادرات کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔‘‘
ایک اور اعلیٰ پولیس اہلکار شاہد حیات کا کہنا تھا: ’’نوادرات میں دو مجسمے شامل ہیں، جو اس قدر وزنی ہیں کہ ہمیں لفٹر کے ذریعے ان کی نقل و حرکت میں مشکل پیش آ رہی ہے۔‘‘
شاہد حیات نے بتایا: ’’ہم اس پہلو کی تفتیش کر رہے ہیں کہ ان نوادرات کی اسمگلنگ میں اسمگلروں کا کوئی بین الاقوامی گروہ تو ملوث نہیں ہے۔‘‘
قاسم نے بتایا کہ اتنے قیمتی نوادرات کو اس قدر بڑے پیمانے پر قبضے میں لیے جانے کا یہ ملک میں پہلا واقعہ ہے۔ قبل ازیں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ یہ نوادرات شمال مغربی علاقے سے کھدائی کر کے نکالے گئے جس کے بعد انہیں ایک ایک یا دو دو کر کے کراچی لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں سے انہیں افغانستان اور وسطی ایشیا کے زمینی راستے سے یورپ بھیجا جانا تھا۔
قاسم کا کہنا تھا: ’’چوروں اور اس کاروبار میں ملوث مافیا نے ملک کے شمال مغرب میں کھدائی کی، جہاں گندھارا تہذیب کے علاقے ہیں اور وہاں حکام کا بہت کم کنٹرول ہے۔‘‘
ng/ah (AFP)