1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی متعدد افراد ہلاک

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، پاکستانی میڈیا
19 جنوری 2026

کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ پر تقریباً 36 گھنٹوں بعد قابو پا لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس حادثے میں ایک فائر فائٹر سمیت کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

کراچی گل پلازہ آتشزدگی
حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیںتصویر: Ahmad Kamal/Xinhua News Agency/picture alliance

یہ آگ ہفتے کی رات کراچی شہر کے کاروباری علاقے میں واقع کثیر منزلہ گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں بھڑکی اور 24 گھنٹے سے زیادہ تک جلتی رہی، جس سے گنجان آباد علاقے میں ریسکیو کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اس حادثے میں ایک فائر فائٹر سمیت کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ فائر فائٹرز نے پیر کے روز 60 سے زائد لاپتہ افراد کی تلاش شروع کی۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد کے مطابق آگ بجھا دی گئی ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، مگر شدید نقصان کے باعث فائر بریگیڈ نے عمارت کے اندر کارروائی روک دی ہے اور ابھی صرف ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ اتوار کی رات سے مزید پانچ افراد کی لاشوں کے حصے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، نکالے گئے ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق 54 سے 59 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پولیس موبائل فون ڈیٹا کے ذریعے گمشدہ افراد کا سراغ لگا رہی ہے اور اہل خانہ سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے 59 نمبرز حاصل کیے گئے ہیں جن میں سے 26 کی لوکیشن گل پلازہ کے قریب ٹریس ہوئی ہے، جبکہ مزید جانچ جاری ہے۔

دھواں اور جھلسنے کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کے مطابق 70 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیںتصویر: Stringer/REUTERS

‘قومی سانحہ‘

سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے پیر کو جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 70 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا، ''70 سے زائد لاپتہ افراد کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور یہ ایک بڑا المیہ ہے‘‘، اور مزید کہا کہ یہ واقعہ اب''قومی سانحہ‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

گورنر نے بتایا کہ ایک حاملہ خاتون کے عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاع انتہائی پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ جاننا ضروری ہے، تاہم اس وقت ترجیح جانیں بچانا ہے۔

کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ متاثرہ تاجروں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے متاثرین کے نقصانات کے مکمل ازالے تک ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

تاجروں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر فائر اسٹیشن، دیگر شہری ادارے اور مقامی حکام فوری کارروائی کرتے تو جان و مال کے نقصانات سے بچا جا سکتا تھاتصویر: Stringer/REUTERS

عوام کی ناراضگی

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں ہفتہ کی رات بھڑکنے والی ہولناک آگ کو بروقت قابو میں لایا جا سکتا تھا، مگر حکام کی جانب سے تاخیر اور محدود وسائل کے باعث آگ گھنٹوں تک بے قابو رہی۔

تاجروں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر صدر فائر اسٹیشن، دیگر شہری ادارے اور مقامی حکام فوری کارروائی کرتے تو جان و مال کے نقصانات سے بچا جا سکتا تھا، تاہم مکمل فائر فائٹنگ آپریشن اتوار کی صبح جا کر شروع ہوا۔

موقع پر موجود دکانداروں نے میڈیا کو بتایا کہ اگر فائر بریگیڈ پوری نفری اور وسائل کے ساتھ بروقت پہنچ جاتی تو صورتحال شاید مختلف ہوتی۔ ایک دکاندار نے نشاندہی کی کہ صدر فائر اسٹیشن چند منٹ کی دوری پر ہے، اس کے باوجود فوری اقدام نہیں کیا گیا۔

عوام نے سندھ حکومت اور کراچی کے میئر پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بحران کے دوران میئر اور صوبائی وزرا کہاں تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم اے جناح روڈ کی خراب حالت کے باعث دو واٹر باؤزر ساتھ ساتھ کھڑے کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن، ایک متاثرہ ماں کی الم ناک داستان

02:30

This browser does not support the video element.

ادارت: رابعہ بگٹی

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں