1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کرسمس کے موقع پر جرمن صدر کا دورہ ء افغانستان

18 دسمبر 2012

جرمن صدر یوآخم گاؤک نے رضاکاروں اور فوجیوں کو’خراج تحسین‘ پیش کرنے کے لیے پیر کو افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ تاہم کئی علاقوں میں تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان میں گزشتہ روز ایک اداسی نمایاں رہی۔

تصویر: Reuters

جرمن صدر یوآخم گاؤک کرسمس کے موقع پر افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں اور طبی عملے کے لیے شکریہ کا خصوصی پیغام لیے پیر کو مزار شریف پہنچے، جہاں زیادہ تر جرمن فوجی تعینات ہیں۔ برلن میں صدارتی دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران ان کی پارٹنر ڈانیئیلا شاڈٹ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

جرمن صدر گاؤک نے مزار شریف میں خطاب کرتے ہوئےتصویر: Reuters

جرمن صدر گاؤک نے مزار شریف میں قائم جرمن دستوں کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خصوصی طور پر وہاں اس لیے آئے ہیں تاکہ وہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں اور رضاکاروں کی خدمات کا اعتراف کر سکیں۔ انہوں نے اس دوران کہا، ’’آپ قربانیاں دے رہیں ہیں، ہمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘‘

اس موقع پر افغانستان میں تعینات دیگر متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے دستے بھی وہاں موجود تھے۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر کا کہنا تھا، ’’آپ افغانستان میں اس لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے جو امن، جمہوریت اور ترقی چاہتے ہیں۔‘‘

جرمن صدر نے کہا کہ اپنے ممالک میں ہم یہ تو سنتے ہیں کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجی زخمی ہو گئے یا مارے گئے لیکن یہاں اسکولوں کی تعمیر، دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور اس جیسی دوسری کامیابیوں کے بارے میں لاعلم ہیں۔ یوآخم گاؤک نے شام وہاں تعینات امددی کارکنوں، فوجیوں اور پولیس کے عملے کے ساتھ بسر کی۔

یوآخم گاؤک نے شام وہاں تعینات امددی کارکنوں، فوجیوں اور پولیس کے عملے کے ساتھ بسر کیتصویر: Reuters

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جرمن صدر گاؤک کے اس پہلے دورہ ء افغانستان کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ یوآخم گاؤک کے پس رو کرسٹیان وولف نے اکتوبر 2011ء میں جنگ سے تباہ حال اس ملک کا دورہ کیا تھا۔

ایک اور غمناک دن

جس دن جرمن صدر نے افغانستان کا دورہ کیا ، اسی دن وہاں تشدد کی مختلف وارداتوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک بھی ہو گئے۔ ایک واقعہ میں افغان صوبے ننگر ہار میں بارودی مواد پھٹنے کے نتیجے میں 9 لڑکیاں ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئیں۔ افغان طبی حکام نے بتایا ہے کہ ان کی عمریں 9 اور گیارہ برس کے درمیان تھیں۔

صوبائی گورنر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پش آیا، جب یہ بچیاں آگ جلانے کے لیے لکڑیاں چن رہی تھیں۔ کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری نہیں لی ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ امکان ہے کہ یہ ایک حادثہ ہو سکتا ہے۔

ننگر ہار میں بارودی مواد پھٹنے کے نتیجے میں 9 لڑکیاں ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئیںتصویر: Reuters

تشدد کے ایک اور واقعے میں کابل کے نواح میں کم ازکم ایک شخص مارا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق اس کار بم دھماکے میں پندرہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اس حملے میں ایک ایسی اہم امریکی کمپنی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو سکیورٹی کا کام کرتی ہے۔ اس بارے میں زیادہ معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

(ab/at (Reuters, AFP,dpa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں