1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کریمیا میں متنازعہ ریفرنڈم آج

عاطف بلوچ16 مارچ 2014

یوکرائن نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی فوجیوں نے کریمیا کے ایک سرحدی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب کریمیا کی پارلیمان روس کے ساتھ الحاق کے لیے آج ایک متنازعہ ریفرنڈم منعقد کرا رہی ہے۔

تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کییف سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرائن کی عبوری حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے دن تقریباﹰ 80 روسی فوجیوں نے اس کے خود مختار علاقے کریمیا کے شمال میں واقع Strilkove نامی ایک یوکرائنی دیہات پر قبضہ کر لیا۔ یوکرائن نے اس دیہات سے روسی فوجیوں کے فوری انخلاء کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے اس عہد کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے کا جواب دینے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

مغربی ممالک کی تنقید کے باوجود کریمیا میں آج ریفرنڈم منعقد کرایا جا رہا ہےتصویر: DW/Vladimir Izotov

یوکرائنی وزارت خارجہ کے مطابق روسی افواج جب یوکرائن کے اس علاقے میں داخل ہوئیں تو چار گن شپ ہیلی کاپٹرز اور تین بکتر بند گاڑیوں کو ان کی مدد حاصل تھی۔ ادھر مقامی میڈیا نے ایک نامعلوم روسی فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی فوجیوں نے یہ کارروائی گیس ڈسٹری بیوشن کے لیے بنائے گئے ایک اسٹیشن پر ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں کی۔ روس نواز کریمیا کی انتظامیہ نے بھی کہا ہے کہ یوکرائن کے قوم پرستوں کی طرف سے گیس ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر مبینہ حملوں کے بعد بطور دفاع روسی فوجیوں نے وہاں کا انتظام سنبھالا ہے۔

خیال رہے کہ یوکرائن میں صدر وکٹور یانوکووچ کے معزولی کے بعد بائیس مارچ کو روسی فوجیوں نے کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا، کس کے بعد یوکرائن میں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ دو ملین کی آبادی والے اس علاقے میں زیادہ تر روسی زبان بولی جاتی ہے اور وہاں کے عوام ماسکو کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ سن 1954 تک کریمیا روس کا ہی ایک حصہ تھا اور اس لیے وہاں روسی نسل کی آبادی بھی اکثریت میں ہے۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آج اتوار کو ہونے والے مجوزہ ریفرنڈم میں روس کے ساتھ الحاق کی اجازت دے دی جائے گی۔

سلامتی کونسل کی طرف سے مذمت

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے جنوبی یوکرائن میں روسی افواج کی اس تازہ پیشقدمی کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔ ہفتے کے دن ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کریمیا میں سولہ مارچ کو ہونے والے ریفرنڈم پر ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی، جسے روس نے ویٹو کر دیا۔ اس ووٹنگ کے دوران چین نے اپنی رائے محفوظ رکھی لیکن پندرہ رکنی اس کونسل کے تیرہ ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ یوکرائن کی سرحدی سالمیت کا احترام کیا جائےتصویر: Reuters

اس قرارداد میں کریمیا کے ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ یوکرائن کی سرحدی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ اس موقع پر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ کریمیا میں فوج کشی کے معاملے پر روس سفارتی سطح پر تنہا ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کریمیا میں ریفرنڈم کے نتائج کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکا اور روس اس بحران کے حل کے سفارتی حل پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

ادھر ہفتے کے روز ہی روسی دارالحکومت ماسکو میں تقریباﹰ پچاس ہزار افراد نے کریمیا میں کریملن کی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران روس میں یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی حکومت مخالف ریلی قرار دی گئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی قریباﹰ پندرہ ہزار روسی افراد نے ماسکو میں کریمیا میں ریفرنڈم کی حمایت میں بھی مظاہرہ کیا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں