کریمیا میں متنازعہ ریفرنڈم کے لیے پولنگ
16 مارچ 2014
بحیرہء اسود کے کنارے پر واقع جزیرہ نما کریمیا میں روس کے ساتھ الحاق کے حوالے سے آج اتوار کو ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ پہلے یہ ریفرنڈم 25 مئی کو شیڈیول تھا اور اُسی دن یوکرائن میں صدارتی الیکشن کے تناظر میں امکاناً اس کی تاریخ 30 مارچ مقرر کی گئی جو بعد میں یوکرائنی بحران کے تناظر میں مزید پہلے کر دی گئی تھی۔ آج ریفرنڈم کے موقع پر کریمیا کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے قصبوں میں روس نواز افراد میں جوش و ولولہ دیکھنے کے لائق تھا اور روس کے ساتھ محبت کے قومی نغمے گلیوں بازاروں میں گونجتے رہے۔ کریمیا کی بیشتر آبادی روسی آبادی پر مشتمل ہے۔
کریمیا میں اس متنازعہ ریفرنڈم کے موقع پر جو دو سوال پوچھے گئے ہیں، ان میں سے کسی ایک کے بھی نفی میں ڈالی گئی ووٹنگ سے کریمیا کے روس کی جانب جھکاؤ میں کمی واقع نہیں ہو گی۔ ایک سوال میں پوچھا گیا کہ آیا وہ کریمیا کے روس کے ساتھ ادغام و الحاق کے حامی ہیں۔ دوسرے سوال میں پوچھا گیا کہ آیا وہ سن 1992 کے دستور میں بیان کردہ کریمیا کے اسٹیٹس کے حامی ہیں اور کریمیا کو یوکرائن کے ساتھ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ دوسرے سوال میں سن 1992 کے دستور کا جو حوالہ ہے، اُس کے مطابق کریمیا کو یوکرائن کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام تر آزای و خود مختاری حاصل کرنے کا ذکر ہے اور اسی دستور میں کریمیا کو یوکرائن سے آزادی حاصل کرتے ہوئے اپنا مستقبل بشمول روس کے ساتھ الحاق متعین کرنے کا بھی ذکر ہے۔
آج روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کو فون کر کے ایک مرتبہ پھر واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کریمیا میں ہونے والا ریفرنڈم بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے۔ ماسکو سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ روسی وزیر خارجہ کی جان کیری کو ٹیلی فون کال پہلے سے جاری مذاکراتی عمل کا تسلسل تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ جان کیری سے گفتگو کرتے ہوئے سیرگئی وکٹورووِچ لاوروف نے کہا کہ کریمیا میں ریفرنڈم بین الاقوامی قانون کے علاوہ اقوام متحدہ کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں ہے اور ریفرنڈم کے نتائج سے جزیرہ نما کے حتمی مستقبل کے تعین کا آغاز ہو گا۔ اس گفتگو میں روسی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کی توجہ یوکرائن کے انتہائی قدامت پسند افراد کے روس نوازوں پر حملوں کی جانب بھی مرکوز کروائی۔
اتوار کے ریفرنڈم کے ممکنہ نتیجے کے تناظر میں یورپی یونین نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران جن پابندیوں پر یونین کے رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا، ان کا امکاناً اطلاق کل پیر سے ہو سکتا ہے۔ اِس مناسبت سے یورپی یونین کے سفارت کار اُن افراد کی فہرست کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں ہیں جو یوکرائن کے بحران میں روس کی جانب سے پیش پیش تھے۔ اس فہرست میں توقع کی جا رہی ہے کہ روسی فوج کے بعض افسران بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کہہ چکے ہیں کہ یورپی یونین کی جانب سے متفقہ اور سخت ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔ روس پر مزید پابندیوں کا فیصلہ جمعرات کے روز سے شروع ہونے والی یورپی یونین کی دو روزہ سمٹ میں یقینی خیال کیا گیا ہے۔
اِس دوران یوکرائن کے عبوری وزیر دفاع ایہور تینیُوخ (Ihor Tenyukh) نے بتایا ہے کہ کریمیا میں روس کی فوج کا حجم 22 ہزار تک پہنچ گیا ہے اور یہ بنیادی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات یوکرائنی وزیر دفاع نے روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کو انٹرویو دیتے ہوئی بتائی۔ تینیُوخ کے مطابق روس، معاہدے کے تحت ساڑھے بارہ ہزار فوجی رکھنے کا پابند ہے اور یہ افسوسناک ہے کہ فوج میں اضافہ ماسکو اور کییف کے درمیان طے معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔