1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کریمیا کا روس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ

عاطف بلوچ17 مارچ 2014

یوکرائن کے خود مختار علاقے کریمیا میں اتوار کو ہوئے ایک متنازعہ ریفرنڈم میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے روس کے ساتھ الحاق کے حق میں رائے دے دی۔ اس پیشرفت پر یورپی یونین نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔

تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کریمیا سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیسے ہی اس ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان کیا گیا، کریمیا کے روس نواز شہریوں نے خوشیاں منانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس موقع پر کریمیا کے متعدد شہروں میں آتش بازی کی گئی اور لوگ جھومتے گاتے رہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اتوار کے دن کریمیا میں ایک خاص گہما گہمی دیکھی گئی، جہاں لوگوں نے روسی پرچم تھامے ہوئے تھے اور ماسکو کے ساتھ الحاق کے حق میں نعرہ بازی کی جا رہی تھی۔

اتوار کے دن کریمیا میں ایک خاص گہما گہمی دیکھی گئیتصویر: Reuters

اس متنازعہ ریفرنڈم کے موقع پر کریمیا کے تاریخی شہر Sevastopol میں ایک کنسرٹ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ پولنگ ختم ہونے سے کئی گھنٹے قبل شروع ہونے والے اس میوزیکل پروگرام میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک فیورٹ بینڈ نے بھی شرکت کی۔

عوامی جائزوں کے مطابق ریفرنڈم میں 95.5 فیصد ووٹروں نے روس کے ساتھ الحاق کی حمایت کی۔ ادھر ماسکو میں ذارئع ابلاغ نے کہا ہے کہ کریمیا کے 93 فیصد شہریوں نے یوکرائن سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ بتایا گیا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان آج پیر کے دن کیا جائے گا۔

یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک کی طرف سے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ کریمیا کے حکام کے مطابق ٹرن آؤٹ کافی اچھا رہا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا۔ مبصرین کے مطابق روس کے ساتھ الحاق کے حق میں اتنے زیادہ ووٹ اس لیے پڑے کہ علاقائی اپوزیشن جماعتوں نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور ان کے حامیوں نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

یورپی یونین کا شدید ردعمل

امریکا اور یورپی یونین نے ماسکو حکومت کو پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ اگر کریمیا میں یہ متنازعہ ریفرنڈم کرایا گیا تو وہ ماسکو حکومت پر پابندیاں عائد کر دیں گے۔ اس سلسلے میں آج بروز پیر برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ ایک خصوصی اجلاس میں مجوزہ پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ روسی حکام پر سفری پابندیوں کے علاوہ ان کے اثاثے منجمد کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ امریکا نے بھی روسی حکام پر کچھ ایسی ہی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس متنازعہ رائے شماری سے کریمیا میں جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ لندن حکومت اس ریفرنڈم کو قانونی تسلیم نہیں کرتی۔

یورپی یونین کے صدر ہیرمن فان رومپوئے اور یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئل باروسو نے بھی کہا ہے کہ کریمیا میں ہوئے اس ریفرنڈم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کے بقول، ’’میرا اندازہ ہے کہ روس نے کریمیا کو اپنا ایک علاقہ بنانے کی تمام تر تیاری کر لی ہے۔‘‘ جرمن ٹیلی وژن چینل ZDF سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اب اس تنازعے کا کوئی فوری حل نظر نہیں آ رہا۔

صدر پوٹن اپنے فیصلے پر قائم

عالمی برادری کی طرف سے شدید مذمت کے باوجود روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ کریمیا کا ریفرنڈم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے۔

روسی صدر پوٹن کے بقول کریمیا کا ریفرنڈم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہےتصویر: Reuters

اتوار کے دن اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ 2008ء میں یورپی ملک کوسووو نے بھی سربیا سے اسی طرح علیحدگی اختیار کی تھی۔ کریملن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پوٹن نے اوباما کو یہ بھی کہا کہ کوسووو کو بطور ریاست تسلیم کرنے والے سو سے زائد ممالک میں امریکا بھی شامل ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس دوران پوٹن نے یہ اصرار بھی کیا کہ یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم OSCE کے معائنہ کار صرف کریمیا میں ہی نہیں بلکہ پورے یوکرائن کی نگرانی کے لیے تعینات کیے جانا چاہییں۔

قبل ازیں اتوار کے روز ہی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روسی صدر پوٹن سے ٹیلی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یوکرائن اور بالخصوص تناؤ کے شکار مشرقی حصے میں OSCE کے نگران مشن کے ایک ’جاندار کردار‘ کی حمایت کرتی ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں