کریمیا کا سیاسی مستقبل بین الاقوامی برادری کی گہری تشویش
7 مارچ 2014
بحران زدہ ملک یوکرائن شکست و ریخت کے سنگین خطرات سے دوچار نظر آ رہا ہے۔ کئی مہینوں سے کشیدگی اور شورش کے شکار اس ملک کو گزشتہ روز ایک بڑا سیاسی دھچکہ اُس وقت لگا جب جزیرہ نما کریمیا کی پارلیمان نے روس سے باضابطہ الحاق کی قرارداد کی منظوری کی۔ جمعرات کو ہونے والے اس فیصلے کے مطابق اس معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے رواں ماہ کی 16 تاریخ کو رائے شماری کروائی جائے گی۔
بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق یوکرائن کا موجودہ بحران سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق اور مغرب کی سلامتی کی پالیسی کے تناظر میں اب تک کا سب سے بڑا اور سنگین تنازعہ بن چُکا ہے۔ روسی ایوان پارلیمان کے اسپیکر نے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو کریمیا کے اس تاریخی ریفرنڈم کا احترام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ کریمیا کے اس اقدام کی مذمت کییف کی مغرب نواز نئی عبوری حکومت کے لیڈروں سمیت امریکی صدر باراک اوباما نے سخت لہجے میں کی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا ،" اگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رہی تو امریکا اور اس کے اتحادی روس کے خلاف مجوزہ پابندیوں کے موقف پر قائم رہیں گے"۔ قبل ازیں امریکی صدر نے اُن يوکرائنی اور روسی اہلکاروں کے خلاف پابندياں عائد کرنے کا حکم ديا تھا، جو اس تنازعے میں روس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ متعلقہ افراد کے خلاف سفری پابنديوں سميت امريکا ميں اُن کے اثاثوں کو منجمد کيا جانا بھی شامل ہے۔ تاہم اس کے باوجود روسی پارلیمان کے ایوان بالا نے کہا ہے کہ کریمیا کی پارلیمنٹ کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے علاقے کے مستقبل کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد کرائے۔
دریں اثناء یورپی یونین کے سب سے طاقتور رکن، جرمنی نے ایک بار پھر یوکرائن کے تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس بارے میں کہا ،" پہلے کی طرح اب بھی ہم سفارتی عمل کے ذریعے بحران کے حل کی تمام تر کوششوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں"۔
تاہم میرکل نے مزید کہا ہے کہ اس کے لیے مہینوں انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ ماسکو حکومت کو صورتحال کو قابو کرنے کے لیے جلد مثبت اقدامات کرناہوں گے۔ میرکل کے بقول بصورت دیگر سفری پابندیوں اور اثاثوں کو منجمد کرنے جیسے سخت اقدامات کو بروئے کار لانا ہوگا۔
گزشتہ روز برسلز منعقدہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر یورپی کونسل کے صدر ہرمن فان رومپوئے نے یوکرائن کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا،
" یوکرائن میں کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے اور ایسا کرنے میں روس کی ناکامی اس ملک اور ہمارے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرے گی" ۔
اُدھر روسی صدر ولادیمیر پوٹن مسلسل اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ انفرادی فریقوں کی طرف سے عدم رضامندی کے اظہار کے سبب روس اور امریکا کے تعلقات کو خراب نہیں کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ جزیرہ نما کریمیا کی اکثریتی آبادی روسی زبان بولتی ہے اور یوکرائن میں روس کے حامی صدر کے معزول ہونے کے بعد سے اس علاقے میں بحران کی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ کریمیا میں پہلے ہی روسی اور اس کی حمایتی فورسز کی عمل داری ہے اور گزشتہ کئی دنوں سے یہ علاقہ خودمختار بنا ہوا ہے۔ دریں اثناء یورپی یونین نے روسی شہریوں کی یونین کے رکن ممالک کے سفر کو آسان بنانے کے لیے ہونے والی بات چیت بھی معطل کر دینے کا اعلان کیا ہے۔