کورونا وائرس کی وبا نے جرمنی میں جہاں عام لوگوں کوبری طرح متاثر کیا ہے وہیں چوروں کا بھی خاصا'نقصان‘ ہوگیا لیکن انشورنس کمپنیاں فائدے میں رہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa/S. Stein
اشتہار
کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کے سبب بیشتر لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے چوروں کو اپنے ہاتھ آزمانے کا موقع کم ملا اور انشورنس کمپنیوں کو پہلی مرتبہ چوری کے لیے سب سے کم ہرجانہ ادا کرنا پڑا۔
جرمن انشورنس انڈسٹری ایسوسی ایشن جی ڈی وی نے جمعرات کے روز بتایا کہ ملک میں جب سے گھروں میں چوری کے واقعات کے اعداد و شمار مرتب کیے جارہے ہیں اس کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب گزشتہ برس سب سے کم چوری کے واقعات درج ہوئے ہیں۔
جی ڈی وی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ سن 2020 میں چوری کے لیے انشورنس کے دعووں کی تعداد گھٹ کر 85 ہزار رہ گئی جو کہ اس کے پچھلے برس کے مقابلے دس ہزار کم ہے۔ یہ تعداد سن 1998کے بعد سے، جب چوریوں کے اعداد وشمار مرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس کے بعد سے اب تک کی کم ترین تعداد ہے۔
جی ڈی وی کے سربراہ جورگ اسموزین کا کہنا تھا”چوریوں کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ یہ رہی کہ لوگ کورونا وائرس کی وبا کے سبب زیادہ تر وقت اپنے گھروں میں موجود رہے۔"
انشورنس صنعت کی ایسوسی ایشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس کے نتیجے میں ہرجانہ ادا کرنے کی رقم گھٹ کر 230 ملین یورو رہ گئی جو کہ ایک برس پہلے کے مقابلے میں 70 ملین یورو کم ہے۔ یہ رجحان جرمنی کی تمام سولہ ریاستوں میں پایا گیا۔
جرمنی: سن 2019 میں ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسے کا بڑا ضیاع
چوہوں کے لیے پُل، چوری شدہ سہنرا گھونسلا اور سولر فلاور پلانٹ ایسے بڑے منصوبے ہیں جنہیں پیسے کا ضیاع قرار دیا گیا ہے۔ ان کو جرمن عوام کے ٹیکس کے استعمال کی سالانہ رپورٹ’’ بلیک بُک‘‘ میں شامل کیا گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Schutt
سائے میں شمسی توانائی کا پھول
ہر سال جرمن شہری اپنے ادا شدہ ٹیکس رقوم کے ضیاع پر ’بلیک بُک ‘نامی ایک رپورٹ شائع کرتے ہیں۔ اس میں ناپسندیدہ منصوبوں کی تفصیل شامل کی جاتی ہے۔ رواں برس کی بلیک بک میں تھیورنگیا کی وزارت ماحولیات کا شمسی توانائی کا وہ پھول بھی شامل ہے جسے سائے میں کھڑا کیا گیا ہے۔ وزارت نے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شمسی توانائی کے حصول کے لیے نہیں تیار کیا گیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Schutt
چوہوں کے لیے پُل
جنوبی جرمن شہر پاساؤ میں ایک سڑک کی تعمیر کے دوران ایسا قدرتی علاقہ استعمال میں لایا گیا جہاں چھوٹے چوہے اِدھر اُدھر پھرا کرتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے چوہوں کے نقل و حرکت بحال رکھنے کے لیے سڑک کے اوپر ایک پل تعمیر کر دیا۔ عام لوگوں کے نزدیک اس پل کی تعمیر ناقابل فہم ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/O. Schreiter
سلامتی کا خطرناک راستہ
پاساؤ میں چوہوں کے لیے تعمیر کیا جانے والا پُل حیران کن بھی ہے۔ سڑک کے دوسری جانب جانے کے لیے کسی بھی چوہے کو پہلے سات میٹر (تیئیس فٹ) اوپر پہنچ کر بیس میٹر لمبا پل پار کرنا ہوتا ہے۔ اس پل پر ترانوے ہزار یورو کا خرچ آیا ہے۔ بلیک بُک مرتب کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا امکان کم ہے کہ کسی ایک چوہے نے یہ پل عبور کیا ہو گا۔
تصویر: idowa.de
چوری شدہ مگر سنہرا
برلن کے ایک اسکول کی ایک قیمتی شے وہ پرندے کا سنہرا گھونسلا تھا جو اب چوری ہو چکا ہے۔ اس گھونسلے کی تیاری میں خالص سونے کی چوہتر باریک شاخوں کا استعمال کیا گیا اور اس کو ایک نہ ٹوٹنے والے شیشے کے کیس میں رکھا گیا۔ اس آرٹ ورک پر ساڑھے بانوے ہزار یورو خرچ ہوئے تھے۔ چور اس گھونسلے کو تیسری کوشش میں اڑانے میں کامیاب رہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/L. Vossen
جرمنی میں موٹر وے ٹیکس کا ناکام منصوبہ
بلیک بُک میں رواں برس کے دوران جرمن موٹرویز پر ٹیکس جمع کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کو نافذ کرنے کا ابتدائی فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن یورپی عدالتِ انصاف نے اسے امتیازی منصوبہ قرار دے دیا۔ جرمن وزیر ٹرانسپورٹ آندریاس شوئر نے تعمیر کے ٹھیکے پر دستخط بھی کر دیے تھے۔
جرمنی کے مغربی حصے میں نیول ٹریننگ کی اشتہاری مہم سے معلوم ہوا کہ اس مقصد کے لیے استعمال میں لائی جانے والی کشتی کی تزئین و آرائش پر ایک لاکھ پینتیس ہزار یورو خرچ کیے گئے۔ جرمن وزارت دفاع کے آڈیٹرز نے اس منصوبے پر سخت تنقید کی ہے۔ بلیک بُک کے مرتبین کے مًطابق جتنی رقم آرائش و تزئین پر خرچ کی گئی ہے، اس میں ایک نئی کشتی بن سکتی تھی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/C. Rehder
سیاہ گوش (بِلا) کی حفاظت کا پراجیکٹ
مغربی جرمنی میں ایک جانور سیاہ گوش کے تحفظ کے منصوبے پر بھی سخت نکتہ چینی کی گئی۔ اس مقصد کے لیے مختص ستائیس لاکھ یورو میں سے زیادہ تر انتظامی و دفتری امور پر خرچ کر دیے گئے۔ اس جانور کی حفاظت کرنے والی تنظیم کا موقف ہے کہ سیاہ گوش کا تحفظ اہم ہے لیکن اس کے لیے جرمنی اور یورپی یونین میں لاگو قانونی تقاضوں کو پورا کرنا بھی اہم تھا۔
تصویر: picture-alliance/blickwinkel/R. Sturm
رنگ سازی کا پلان جو مکمل نہیں ہوا
رواں برس کے اوائل میں ہینوور شہر کی انتظامیہ نے امریکی اسکلپچر الیگزانڈر کالڈر کے ایک ڈیزائن کو رنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے میں صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ باڑ بنانا بھی شامل تھا۔ اس مقصد کے لیے ڈیزائن کو جلد از جلد رنگ کرنا تھا تاہم شہری انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اجازت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ ہر چیز وہیں رہی لیکن چودہ ہزار یورو خرچ ہو گئے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Schuldt
مہنگی غلطیاں
رواں برس جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں مائنز سمیت تین شہروں میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے۔ انتخابات کے لیے چھاپے گئے بیلٹ پیپرز میں امیدواروں کے ناموں میں ٹائپنگ کی بہت غلطیاں تھیں۔ دوبارہ سے پانچ لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ ایک امیدوار الیگزانڈرا (Alexandra) کا نام اکسنڈرا (Aexandra) چھاپا گیا تھا۔ اس سارے عمل پر اسی ہزار ہزار یورو خرچ ہوئے۔
تصویر: picture alliance / dpa
مہنگی پارٹی
شمالی شہر پاپن برگ کی انتظامیہ نے ایک قدیمی مکان پر پارٹی کا انتظام کیا۔ اس پر تیس ہزار یورو خرچہ آیا۔ یہ خرچہ مختص بجٹ کے دوگنا سے بھی زائد تھا۔ ڈھائی سو افراد کو ٹیکس ادا کرنے والوں کی رقوم پر عیاشی کرائی گئی۔
تصویر: Colourbox
10 تصاویر1 | 10
اسموزین کا کہنا تھا کہ حالانکہ کورونا وائرس کی وبا سے پہلے بھی سن 2015 سے ہی جرمنی میں چوری کے واقعات میں کمی آتی گئی ہے۔ بیشتر مکان مالکان اب زیادہ بہتر سیکورٹی ٹیکنالوجی پر پیسے خرچ کر رہے ہیں اور اس کا انہیں فائدہ بھی ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چوری کی تقریباً نصف کوششیں اس لیے ناکام ہو گئیں کیوں کہ چوروں کو گھروں میں داخل ہونے کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں مل سکا۔
جرمنی میں سن 2008 سے سن 2015 کے درمیان چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ سن 2015 میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی جب ایک سال کے دوران ایک لاکھ 67 ہزار 136 واقعات درج کرائے گئے تھے، جو گزشتہ برس کے مقابلے تقریباً دو گنا تھے۔