مشرقی یورپی ملک مالدووا نے ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مالدووا کی شہریت دینے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ چھ ماہ قبل پارلیمان نے اس قانونی بل کی منظوری دی تھی، جس پر اب عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/robertharding
اشتہار
چھ ماہ قبل قانون میں ترمیم کے ذریعے ملک میں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے ملکی شہریت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ مالدووا میں کم از کم پانچ برس کے لیے ڈھائی لاکھ یورو کی جائیداد خریدنے پر بھی اس ملک کی شہریت مل سکتی ہے۔
یورپ کے اس غریب ترین ملک سمجھے جانے والی ریاست میں اوسط ماہانہ آمدن 315 ڈالر ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح سرمایہ کاروں کو مالدووا کی جانب مائل کر کے ملکی اقتصادیات کو تحریک دی جائے۔
اس قانونی بل کو مالدووا کی پارلیمان نے 26 دسمبر کو منظور کیا تھا، تاہم اس بابت میڈیا نے توجہ نہ دی اور اب چھ ماہ بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ قانون پارلیمان نے منظور کیا تھا اور اب اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہےتصویر: Imago/ZUMA Press
بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپینسی انٹرنیشنل سے وابستہ ویاکسلاف ناگوُترا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا کہ اس طرح مالدووا کی حکومت ’سیاہ دھن کو سفید‘ بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہے، کیوں کہ اس سابق سوویت جمہوریہ میں بدعنوانی کسی وبا کی طرح موجود ہے۔
یورپ کے خواب دیکھنے والوں کے لیے سمندر قبرستان بن گیا
مائیگرنٹ آف شور ايڈ اسٹيشن نامی ايک امدادی تنظيم کے مطابق اس کی کشتی ’فِينِکس‘ جب گزشتہ ہفتے چودہ اپریل کو مختلف اوقات میں سمندر ميں ڈوبتی دو کشتیوں تک پہنچی تو کبھی نہ بھولنے والے مناظر دیکھے۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
بہتر زندگی کی خواہش
اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق بہتر زندگی کی خواہش رکھنے والے 43،000 تارکین وطن کو رواں برس سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
آنکھوں میں خوف کے سائے
ڈوبنے سےبچ جانے والا ایک مہاجر بچہ فینکس کے امدادی اسٹیشن پر منتقل کیا جا چکا ہے لیکن اُس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی اب بھی جوں کی توں ہے۔ اس مہاجر بچے کو وسطی بحیرہ روم میں لکڑی کی ایک کشتی ڈوبنے کے دوران بچایا گیا تھا۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
کم سن بچہ سمندر کی گود میں
رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو فونیکس کشتی کے عملے نے ایک چند ماہ کے بچے کو اُس وقت بچایا جب کشتی بالکل ڈوبنے والی تھی۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
عملے کی مستعدی
لیبیا کے ساحلوں سے دور بحیرہ روم کے وسطی پانیوں میں ہچکولے کھاتی لکڑی کی ایک کشتی سے ایک بچے کو اٹھا کر فونیکس کے امدادی اسٹیشن منتقل کرنے کے لیے عملے کے اہلکار اسے اوپر کھینچ رہے ہیں۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
امدادی اسٹیشن پر
مالٹا کی غیر سرکاری تنظیم کے جہاز کے عرشے پر منتقل ہوئے یہ تارکین وطن خوشی اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ انہیں رواں ماہ کی چودہ تاریخ کو ایک ربڑ کی کشتی ڈوبنے پر سمندر سے نکالا گیا تھا۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
سمندر میں چھلانگیں
’مائیگرنٹ آف شور ایڈ اسٹیشن نامی‘ امدادی تنظيم کے مطابق اس کی کشتی ’فِينِکس‘ جب سمندر ميں مشکلات کی شکار ايک ربڑ کی کشتی تک پہنچی تو اس پر سوار مہاجرين اپنا توازن کھونے کے بعد پانی ميں گر چکے تھے۔ انہيں بچانے کے ليے ريسکيو عملے کے کئی ارکان نے سمندر ميں چھلانگيں لگا ديں۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
میں زندہ ہوں، یقین نہیں آتا
امدادی کارروائی کے نتیجے میں بچ جانے والے ایک تارکِ وطن نے سمندر سے نکالے جانے کے بعد رد عمل کے طور پر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اسے اپنے بچ جانے کا یقین نہیں ہو رہا تھا۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا
خبر رساں ادارے روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ ڈيرن زيمٹ لوپی بھی ’فِينِکس‘ پر سوار تھے۔ انہوں نے ريسکيو کی اس کارروائی کو ديکھنے کے بعد بتایا، ’’ميں پچھلے انيس سالوں سے مہاجرت اور ترک وطن سے متعلق کہانياں دنيا تک پہنچا رہا ہوں، ميں نے اس سے قبل کبھی ايسے مناظر نہيں ديکھے جو ميں نے آج ديکھے ہيں۔
تصویر: Reuters/D. Zammit Lupi
8 تصاویر1 | 8
مبصرین کے مطابق اس قانون کا فائدہ روس اور سابقہ سوویت ریاستوں کے علاوہ ایران سے وابستہ افراد بھی اٹھا سکتے ہیں اور اس طرح یورپی یونین میں داخل ہو سکتے ہیں۔
مالدووا کے صدر ایگور دوگان نے حالیہ چند ماہ میں ماسکو اور تہران کے دورے بھی کئے تھے اور وہ ان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دے رہے ہیں۔
مالدووا نے یورپی یونین کے ساتھ سن 2014ء میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مالدووا کے شہریوں کو یورپی یونین کے سفر کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس قانون میں کہا گیا ہے کہ پانچ ہزار افراد اس قانون کے تحت شہریت حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تعداد حتمی ہے یا سالانہ۔