1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کيا دنيا سے پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ ختم ہو پائے گا؟

29 مئی 2023

انسانی سرگرمياں سالانہ بنيادوں پر 430 ملين ٹن پلاسٹک پيدا کرتی ہيں، جو نہ صرف زمين بلکہ اس پر بسنے والے انسان اور جانوروں کے ليے بھی انتہائی مضر ہے۔ اب حکومتيں پلاسٹک کے کوڑے کرکٹ کے خاتمے کے ليے کوشاں ہيں۔

Symbolbild  I Plastic Pollution
تصویر: Thomas Padilla/AP/picture alliance

فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں پير انتيس مئی سے اقوام متحدہ کی ايک کميٹی کا اجلاس ہو رہا ہے، جس ميں عالمی سطح پر پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمےکے ليے ايک معاہدے کو حتمی شکل دی جانا ہے۔ اس سلسلے ميں آئندہ برس کے اواخر تک پانج اجلاس ہونے ہيں، جن ميں سے يہ دوسرا ہے۔

'انٹر گورمنٹل نگوشيئيٹنگ کميٹی فار پلاسٹکس‘ کو يہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ 2024ء کے آخر تک ايک ايسے اولين معاہدے کو حتمی شکل دی جائے، جو پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کا باعث بن سکے۔

پاکستان میں پلاسٹک کا کوڑا 2040ء تک ‍12 ملین ٹن سالانہ

پلاسٹی کوسس آبی پرندوں کو کس طرح نقصان پہنچارہا ہے؟

پلاسٹک کی آلودگی سے اٹھاسی فیصد سمندری حیات متاثر، رپورٹ

کميٹی، جس ڈيل کو حتمی شکل دے گی، اس پر دستخط کرنے والے قانونی طور پر اہداف پورے کرنے کے پابند ہوں گے۔ انسانی سرگرمياں سالانہ بنيادوں پر 430 ملين ٹن پلاسٹک کوڑا کرکٹ پيدا کرتی ہيں، جو نہ صرف سمندروں بلکہ آبی حياب اور ہماری زمين کے ليے بھی انتہائی مضر ہے۔

 'آرگنائزيشن فار اکنامک کوآپريشن اينڈ ڈيولپمنٹ‘ کے اندازوں کے مطابق اگر اس وقت اقدامات نہ کيے گئے، تو سن 2060 تک پلاسٹک سے پيدا ہونے والا کوڑا کرکٹ تين گنا تک بڑھ سکتا ہے۔

چھ ماہ قبل يوراگوائے ميں منعقدہ مذاکرات کے پہلے دور ميں چند ممالک ايک گلوبل مينڈيٹ کے حق ميں تھے جبکہ ديگر قومی سطح کے معاہدوں کے حامی تھے۔

مندوبين کی کوشش ہے کہ سن 2040 تک پلاسٹک کی آلودگی ختم کی جائے کيونکہ يہ انسانی صحت اور ہمارے ماحول کے ليے لازمی ہے۔ امريکہ، سعودی عرب اور چين جيسے ممالک بھی ايسے کسی معاہدے کے متمنی ہيں۔

 يوراگوائے ميں گزشتہ دور ميں امريکی وفد کا موقف تھا کہ قومی سطح کے منصوبے ممالک کو يہ فيصلہ کرنے کا موقع ديں گے کہ کس قسم کے پلاسٹک سے کتنی جلدی نمٹا جائے۔

شیشیے اور پلاسٹک کی بوتلوں سے بنے ماحول دوست گھر

01:57

This browser does not support the video element.

 پلاسٹک اور کيميائی مادوں کی پيداوار ميں شامل بيشتر کمپنيوں کا مطالبہ ہے کہ معاہدہ اس طرز کا ہو۔ 'دا انٹرنيشنل کونسل آف کيميکل ايسوسی ايشنز‘، 'دا ورلڈ پلاسٹک کونسل اور 'امريکن پلاسٹک کونسل‘ چاہتے ہيں کہ پلاسٹک کی آلودگی کی اصطلاح ہٹا دی جائے تاکہ پلاسٹک کے مثبت فوائد کا حصول جاری رہے۔

بیون بیلر بین الاقوامی آلودگی کے خاتمے کے نیٹ ورک 'آئی پی ای این‘ کے کوآرڈینیٹر کے طور پر میٹنگ میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مندوبين کو اس ہفتے کے آخر تک منصوبے کا مسودہ تيار کر لينا چاہيے تاکہ تیسرے دور ميں اس پر بات چیت کی جا سکے۔ بیلر نے کہا کہ پلاسٹک کی پیداوار کی رفتار کو تبدیل کرنے کے لیے یہ بات چیت 'زندگی میں ایک بار آنے والا موقع‘ ہے۔

پاکستان میں پلاسٹک کی اچھائیاں اور برائیاں

02:39

This browser does not support the video element.

ع س / ا ا (اے پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں