کُرد: چار ملکوں میں موجود بے ریاست لوگ
18 ستمبر 2017عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں آئندہ پیر یعنی پچیس ستمبر کو آزادی کے ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم کے مثبت نتیجے کی صورت میں کرد قوم کو فوری طور پر آزادی حاصل نہیں ہو گی بلکہ اُسے بغداد حکومت کے ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مذاکراتی عمل شروع کرنا ہو گا، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
کرد مسلمان لڑکی کی ایک مسیحی لڑکے کے ساتھ محبت کی حیرت انگیز کہانی
یزیدی لڑکی کی کہانی پر مبنی فلم بہترین قرار
عراقی کردستان کے صدر کوہ سنجار پہنچ گئے
خانہ جنگی کے باعث شمالی عراق کا نقشہ بدل رہا ہے
اس ریفرنڈم پر ترکی کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اُس نے ریفرنڈم کے تصور کو قطعاً پسند نہیں کیا ہے۔ ترکی کو کردوں کی علیحدگی پسندی کی ایک مضبوط تحریک کا سامنا ہے۔ اسی طرح شام میں بھی کرد مسلح باغیوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور ان کے عسکری گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری بھرپور عسکری کارروائیوں میں امریکی فضائی تعاون بھی حاصل ہے۔ ترکی کو اس صورت حال پر بھی تشویش ہے۔
کرد بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں کے مکین تصور کیے جاتے ہیں اور یہ تقریباً نصف ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر ان کی آبادی کا تناسب 100 فیصد کے قریب ہے۔ یہ جنوبی ترکی سے شمالی شام اور عراق کے علاوہ ایران تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ترکی میں مجموعی آبادی کا یہ بیس فیصد (بارہ سے پندرہ ملین) ہیں جب کہ عراق میں ملکی آبادی کا پندرہ فیصد سے زائد (سینتالیس لاکھ) ہیں۔ شام میں کل آبادی کا پندرہ فیصد (بیس لاکھ سے زائد) ہیں اور ایران میں یہ کل آبادی میں دس فیصد سے کم (ساٹھ لاکھ) ہیں۔ کردوں کی ایک بڑی آبادی آرمینیا، آذربائیجان، جرمنی اور لبنان میں بھی آباد ہے۔
آبادی کے اس تناظر میں کرد عوام کے اتحاد کو مختلف ممالک ایک بڑے خطرے کے طور پر لیتے ہیں۔ ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی کو خلاف قانون قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے لیڈر عبداللہ اوجلان ترکی کے ایک جزیرے پر قائم انتہائی سخت سکیورٹی کی جیل میں قید ہیں۔ اس پارٹی کو یورپی یونین اور امریکا بھی دہشت گرد گروپوں میں شمار کرتا ہے۔