1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

ابراہیمی معاہدے میں شمولیت یا عدم شمولیت: پاکستان مخمصے میں

کشور مصطفیٰ شامل شمس
28 مئی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور کچھ دیگر مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائیں۔ اگرچہ ابراہیمی معاہدے سے اسلام آباد کو کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم ممکنہ نتائج دور رس ہوں گے۔

ستمبر 2020 وائٹ ہاؤس-اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نظر آ رہے ہیں
ان معاہدوں پر سب سے پہلے 15 ستمبر 2020 ء کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، اور اسرائیل اور بحرین  نے مشترکہ طور پر  دستخط کیے تھےتصویر: SAUL LOEB/AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے لیے دباؤ کے بعد پاکستان ایک اہم سفارتی دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے سے جڑے وسیع تر معاہدے کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال اٹھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت کئی ممالک اس معاہدے میں شامل ہوں، جس کے لیے ثالثی ٹرمپ نے 2020 میں اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران کی تھی۔ ٹرمپ نے پیر کو اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا،  ''اس نہایت پیچیدہ گتھی کو سلجھانے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی تمام کوششوں کے بعد یہ ضروری ہونا چاہیے کہ کم از کم یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کر دیں۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا، "جن ممالک کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے، ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (جو پہلے ہی رکن ہے)، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین (جو پہلے ہی رکن ہے) شامل ہیں۔‘‘

 تاہم پاکستان کے لیے یہ فیصلہ نہایت حساس اور دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور پر ان  معاہدوں پر دستخط کرنا چاہییں۔ ''اور باقی سب کو بھی ان کی پیروی کرنا چاہیے۔‘‘

ابراہیمی معاہدے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں کا ایک سلسلہ ہیں، جن کا مقصد اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ ان معاہدوں پر سب سے پہلے 15 ستمبر 2020 ء کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، اور اسرائیل اور بحرین  نے مشترکہ طور پر  دستخط کیے تھے۔

ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پاکستان کے لیے ایران جنگ میں ثالثی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگیتصویر: Evelyn Hockstein/REUTERS

پاکستان کے لیے فوائد اور نقصانات

پاکستان کے کچھ حکام نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے، تاہم حکومت یا ملک کی طاقت ور فوج کی جانب سے اب تک کوئی متفقہ یا واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

اسلام آباد اس وقتایران کے خلاف امریکہ اور اس رائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ثالث  کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اپریل میں اس نے امریکہ کو 28 فروری سے شروع ہونے والے حملے روکنے پر آمادہ کیا۔ وہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے معاہدہ کرانے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

بطور ثالث اس کردار کہ ٹرمپ کئی بار تعریف چکے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے  آرمی  چیف عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنے ''پسندیدہ‘‘ افراد قرار دیا ہے۔

امریکہ کی قربت کے باعث اسلام آباد اس وقت عالمی سطح پر ایک بہتر پوزیشن سے  لطف اندوز ہو رہا ہے، تاہم ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اس جنوبی ایشیائی ملک کے لیے ایران جنگ میں ثالثی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور پر ان معاہدوں پر دستخط کرنا چاہییںتصویر: WAM/AFP

سیاسی تجزیہ کار رضا رومی کے مطابق، ''ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے کے فوائد حقیقی تو ہیں مگر سیاسی طور پر انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو واشنگٹن اور چند خلیجی دارالحکومتوں میں سفارتی خیر سگالی حاصل ہو سکتی ہے، اور اس کے لیے نئے معاشی یا تکنیکی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘ رضا رومی نے تاہم یہ نشاندہی بھی کی کہ یہ اقدام پاکستان کے لیے نمایاں خطرات بھی لا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ''اس سے فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، ایران کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اندرونی عدم استحکام کو بھی ہوا مل سکتی ہے۔‘‘

اسلام آباد اسرائیل کو ابھی تک تسلیم نہیں کرتا اور تل ابیب کے ساتھ اس کے کوئی سفارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں، اگرچہ ماضی میں دونوں کے درمیان کچھ غیر رسمی رابطوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

رضا رومی کا مزید کہنا تھا، ''جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہوتی، تعلقات کو معمول پر لانا اسٹریٹیجک خود مختاری کے بجائے زیادہ تر پسپائی محسوس ہوگا۔ فی الحال یہ اقدام پاکستان کو بھاری پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ‘‘

ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت یا عدم شمولیت کے بارے میں پاکستان کے فیصلے کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ سعودی عرب اس معاملے میں کیا رخ اختیار کرتا ہےتصویر: Pakistan's Prime Minister Office/Handout/REUTERS

ریاض کا فیصلہ کلیدی ہوگا

ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت یا عدم شمولیت کے بارے میں پاکستان کے فیصلے کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ سعودی عرب اس معاملے میں کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان قریبی سفارتی، معاشی اور سکیورٹی تعلقات ہیں، جبکہ انتہائی مقدس اسلامی مقامات کا نگران ہونے کے باعث سعودی عرب کو پاکستانی عوام میں خاص قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

رضا رومی کے مطابق، ''اگر  سعودی عرب  پہلے قدم اٹھاتا ہے، تو پاکستان کے لیے اس موضوع پر گفتگو قدرے آسان ہو سکتی ہے، مگر یہ پھر بھی آسان نہیں ہوگی۔ اسلام آباد ریاض کے فیصلے کو سیاسی جواز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان اپنی مشرق وسطیٰ کی پالیسی عموماً سعودی اور خلیجی موقف کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔‘‘

تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ اقدام پھر بھی پاکستان کے لیے پیچیدہ ہی رہے گا۔

رضا رومی کے بقول، ''پاکستان کوئی عرب بادشاہت نہیں، اس کی داخلی سیاست، مذہبی جماعتیں، میڈیا کا ماحول اور فلسطین کے ساتھ عوامی وابستگی اس عمل کو کہیں زیادہ مشکل بنا دیتے ہیں۔ سعودی عرب کا پہلا قدم پاکستان کے لیے دروازہ تو کھول سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد فوری طور پر اس راستے پر چل بھی پڑے گا۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹرمپ  کے قریبی اتحادی ممالک سعودی عرب اور پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف بڑھتے بھی ہیں، تو یہ عمل فوری نہیں ہوگا بلکہ مختلف شرائط سے جڑا ہو گا۔

بین الاقوامی امور کی ماہر اور امریکہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی  نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد اس معاملے پر صرف اسی صورت میں غور کر سکتا ہے جب ''ایک آزاد اور جغرافیائی طور پر ملحقہ فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔‘‘

ابراہیمی معاہدے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں کا ایک سلسلہ ہیںتصویر: Pakistan Press Information Department/AP Photo/picture alliance

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ''پاکستان کا ایک واضح اور مضبوط موقف ہے، اور اس کا فیصلہ کسی دوسرے ملک کے اقدامات کا محتاج نہیں ہو گا۔‘‘

یاد رہے کہ 6 دسمبر 2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو باضابطہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے لیے نہایت مشکل فیصلہ

تجزیہ کار رضا رومی کے مطابق پاکستانی حکام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا ردعمل انتہائی شدید ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ''مذہبی جماعتیں، اسلام پسند گروہ، دائیں بازو کے میڈیا کے بعض حلقے حتیٰ کہ مرکزی سیاسی قوتیں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کو فلسطین اور پاکستان کے نظریاتی موقف سے غداری کے طور پر پیش کریں گے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''کوئی بھی حکومت اگر ایسا قدم اٹھاتی ہے تو اسے سڑکوں پر احتجاج، پارلیمانی تنقید، مذہبی حلقوں کی طرف سے مزاحمت اور امریکہ یا خلیجی دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ پٹی کی جنگ نے عوامی رائے کو معمول سازی کے خلاف مزید سخت کر دیا ہے۔‘‘

پاکستان آئندہ چاہے شمولیت کا فیصلہ کرے یا عدم شمولیت  کا، ابراہیمی معاہدوں کے حوالے سے اسلام آباد کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ نہایت اہم ہو گا اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ اس ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرے گا۔

سعودی عرب ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کو تیار، مگر!

02:16

This browser does not support the video element.

ادارت:  مقبول ملک

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں