1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتامریکہ

کیا امریکہ سامراجیت کے راستے پر واپس جا رہا ہے؟

امتیاز احمد اے پی کے ساتھ
6 جنوری 2026

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی گفتگو گزشتہ صدی میں امریکی سامراجیت کے اس دور کی یاد تازہ کرتی ہے، جب واشنگٹن کھلے عام علاقائی حکومتوں کے خاتمے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی مداخلت کا راستہ اختیار کرتا تھا۔

مونرو ڈاکٹرائن امریکہ کے پانچویں صدر کی تیار کردہ پالیسی تھی اور مغربی نصف کرہ میں یورپی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے
مونرو ڈاکٹرائن امریکہ کے پانچویں صدر کی تیار کردہ پالیسی تھی اور مغربی نصف کرہ میں یورپی مداخلت کی مخالفت کرتی ہےتصویر: Tuane Fernandes/REUTERS

وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی متنازع گرفتاری کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ سخت بیانات نے لاطینی امریکہ سمیت عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکہ منتقل کرنے کے امریکی فوجی آپریشن سے وہ دنیا کو ایک بڑا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

مادورو کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ''مغربی نصف کرہ میں امریکی غلبہ کبھی بھی سوال کی زد میں نہیں آئے گا۔‘‘

آپریشن کے بعد سے ٹرمپ اور ان کی ٹیم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مغربی نصف کرہ میں امریکی برتری پر توجہ ایک مستقل پالیسی ہے۔ ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کو پڑوسی ممالک کے لیے مثال بنا کر کہا کہ وہ لائن میں آ جائیں ورنہ نتائج کا سامنا کریں۔

امریکہ سامراجیت کے راستے پر؟

ٹرمپ کی گفتگو گزشتہ صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کی اُن سخت گیر بیانات کی یاد تازہ کراتی ہے، جب امریکی صدور علاقوں اور وسائل کی فتوحات کے لیے فوج استعمال کرتے تھے اور ایسا انہوں نے کیوبا، پورٹو ریکو، ہوائی، ہونڈوراس، پانامہ، نکاراگوا، میکسیکو، ہیٹی اور ڈومینیکن ریپبلک میں کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ سخت بیانات نے لاطینی امریکہ سمیت عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دیتصویر: Jim Watson/AFP/Getty Images

انڈیانا یونیورسٹی کے پروفیسر اور مؤرخ ایڈورڈ فرینٹز کا کہنا ہے، ''ویتنام اور عراق جیسے ادوار میں امریکی سامراجیت کی بازگشت کے سوال اٹھے لیکن ان ادوار میں امریکی رہنماؤں کے پیغامات جمہوریت کی آڑ میں چھپے ہوتے تھے۔ ٹرمپ کا ایسا اندازِ گفتگو بہت عرصے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔‘‘

آپریشن کے بعد ٹرمپ کی سخت گفتگو گرین لینڈ (جہاں انہوں نے قومی سلامتی کی بنیاد پر ڈنمارک سے علاقہ حاصل کرنے کے مطالبے کی تجدید کی) اور میکسیکو کے لیے بھی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے جنوبی پڑوسی کو منشیات کے کارٹلز سے نمٹنے کے لیے ''اپنا معاملہ درست کرنا ہو گا۔‘‘

ٹرمپ نے اپنے دیرینہ حریف کیوبا کو بھی خبردار کیا کہ اب وہ ''گرنے والا ہے‘‘ کیونکہ مادورو، جو ہوانا کو سستا تیل فراہم کرتا تھا، برطرف ہو چکا ہے۔ صدر نے وینزویلا کے پڑوسی کولمبیا میں فوجی آپریشن کے بارے میں صحافیوں سے کہا کہ ''یہ اچھا لگتا ہے‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ''وینزویلا کی پالیسی چلائے گی‘‘۔ انہوں نے ''صحیح کام‘‘ نہ کرنے کی صورت میں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو بھی بدتر انجام کی دھمکی دی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ کراکس اپنے وسیع تیل کے ذخائر امریکی توانائی کمپنیوں کے لیے کھول دے، جس سے امریکی غلبے کی قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئیں۔

ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کہا، ''ہم اپنی بہت بڑی امریکی تیل کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں بھیجیں گے، اربوں ڈالر خرچ کریں گے، خراب شدہ انفراسٹرکچر کو ٹھیک کریں گے اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گے۔‘‘

وینزویلا پر حملہ لاطینی امریکہ کو تقسیم کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے دائیں بازو کے حامی مادورو کی برطرفی پر خوش ہیں، جبکہ غیر جانبدار رہنما اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ اس سے یورپ میں گرین لینڈ کو ضم کرنے کی ٹرمپ کی خواہش کے بارے میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔

ٹرمپ کا مونرو ڈاکٹرائن پر انحصار

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے پیر کو خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کریں گے تو یہ ٹرانس اٹلانٹک فوجی اتحاد نیٹو کا خاتمہ ہو گا۔ یہ اتحاد، جس میں امریکہ اور ڈنمارک شامل ہیں، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپی سلامتی کا بنیادی ستون رہا ہے۔

فریڈرکسن نے ڈنمارک کے ٹی وی 2 کو بتایا، ''اگر امریکہ کسی نیٹو ملک پر فوجی حملہ کرے تو سب کچھ رک جائے گا۔‘‘

مادورو کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ''مغربی نصف کرہ میں امریکی غلبہ کبھی بھی سوال کی زد میں نہیں آئے گا۔‘‘تصویر: Handout/US President Donald Trump's TRUTH Social account/AFP

بیسویں صدی کے آغاز میں تمام امریکی رہنما مونرو ڈاکٹرائن پر انحصار کرتے تھے۔ مونرو ڈاکٹرائن امریکہ کے پانچویں صدر کی تیار کردہ پالیسی تھی اور مغربی نصف کرہ میں یورپی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔ اب ٹرمپ بھی اسی ڈاکٹرائن کا سہارا لے کر وینزویلا میں مداخلت اور نصف کرہ بھر میں کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

فرینٹز کا کہنا ہے، ''ٹرمپ کی گفتگو ٹیڈی روزویلٹ اور گن بوٹ ڈپلومیسی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے دور کی بازگشت ہے۔‘‘ وہ 26ویں امریکی صدر کی غیر مستحکم کیریبین اور وسطی امریکی معیشتوں میں مداخلت کے ساتھ ساتھ پانامہ کی کولمبیا سے علیحدگی کی حمایت کا حوالہ دے رہے تھے۔

مادورو کی برطرفی سے چند ہفتے پہلے ٹرمپ نے قومی سلامتی کی حکمت عملی جاری کی، جس میں متضاد عناصر تھے۔

ایک طرف ٹرمپ، جو غیر ملکی جنگوں سے گریز کرتے ہیں، نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ''دوسرے ملکوں میں مداخلت سے گریز‘‘ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن دستاویز میں یہ واضح تھا کہ مغربی نصف کرہ میں امریکی برتری بحال کی جائے گی۔

انتظامیہ نے دوسرے آپشن پر عمل کیا

امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے این بی سی کے پروگرام میں کہا، ''یہ مغربی نصف کرہ ہے، یہ ہمارا گھر ہے اور ہم اسے امریکہ کے حریفوں اور دشمنوں کے لیے آپریشن کی بیس نہیں بننے دیں گے۔‘‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غم و غصہ

مادورو کی گرفتاری اور ٹرمپ کی گفتگو عالمی رہنماؤں کے لیے ایک اہم لمحہ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ٹرمپ کے دوسرے دور کے آخری تین برسوں میں کیا ہو سکتا ہے، اس پر غور کر رہے ہیں۔

پیر کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کولمبیائی سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس نے کہا کہ وینزویلا میں حملہ ''ہمارے علاقے میں ماضی کی بدترین مداخلت کی یاد دلاتا ہے‘‘۔

زالاباتا ٹوریس نے مزید کہا، ''جمہوریت کا تشدد اور جبر سے دفاع یا فروغ نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے معاشی مفادات سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ڈیموکریٹس سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کے اقدامات نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن (جو یوکرین سے مزید علاقہ حاصل کرنا چاہتے ہیں) اور چینی صدر شی جن پنگ (جو تائیوان کو ضم کرنے کا عزم رکھتے ہیں) کو کُھلی اجازت دے دی ہے۔

روس نے وینزویلا میں ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ چین اور روس نے کہا ہے کہ ''امریکہ کو دنیا کا سپریم جج بننے کی اجازت نہیں‘‘ دی جا سکتی۔

ادارت: افسر اعوان

امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں