1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایران

نئی امریکی پابندیاں چین کو ایران سے دور کر سکتی ہیں؟

جاوید اختر (ویسلی ریہن اور ایرننگ ژو)
31 اگست 2026

ٹرمپ انتظامیہ بیک وقت ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اور چین کے ساتھ سیاسی کشیدگی کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

14 مئی 2026 کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں استقبالیہ تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ ایک ساتھ چل رہے ہیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین ایران کے ساتھ اپنے بنیادی روابط برقرار رکھے گا اور اگر امریکی حکومت نے چینی کمپنیوں کو ثانوی پابندیوں کا نشانہ بنانا شروع کیا تو بیجنگ اپنے اقتصادی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہو گاتصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/picture alliance

امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایران کی آمدن کے تمام ممکنہ ذرائع بند کرنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیے جانے کے بعد چین نے ان اقدامات کو ''غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔

امریکہ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایرانی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی اقتصادی سرگرمی میں ملوث افراد کو امریکی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور تیل کی خریداری کے ذریعے تہران کو اہم معاشی سہارا فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کو بینکاری سہولیات، ٹیکنالوجی اور ایسی دوہرے استعمال کی اشیا بھی فراہم کرتا ہے، جنہیں شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا نئی پابندیوں کا دائرہ چینی بینکوں تک بھی بڑھایا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ ''کوئی بھی امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے، اس لیے واشنگٹن کو چین اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کو متاثر کرنے والے کسی بھی اقدام میں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق ان کے مطابق ایران چین کے لیے ایک مفید اور اہم شراکت دار ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کا متبادل نہ ہو۔تصویر: mehrnews

خلیجی علاقے میں بیجنگ کا کردار

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین اور ایران کے درمیان تعاون ''ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہا ہے اور اس میں مداخلت یا خلل نہیں ڈالا جانا چاہیے۔‘‘

چین ایران کے ساتھ مفادات پر مبنی تعلقات برقرار رکھتا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو امریکی پالیسی کی ناکامی کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بیجنگ خود کو ایک مستحکم اور ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان ممالک کے ساتھ خود کو شامل ہونے سے گریز کرتا ہے، جنہیں امریکہ ان ریاستوں کے طور پر پیش کرتا ہے جو مبینہ طور پر غیر ذمہ دار عناصر کی حمایت کرتی ہیں۔

چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اہم تجارتی تعلقات ہیں۔ اسی وجہ سے بیجنگ اپنے تعلقات میں محتاط توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ایران کے علاقائی حریف اس سے دور نہ ہوں۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے شمال مشرقی ایشیا کے سینیئر تجزیہ کار ولیم یانگ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین ''خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو گہرا کرنے اور تعلقات کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

ان کے مطابق، ''اس تناظر میں ایران چین کے لیے ایک مفید اور اہم شراکت دار ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کا متبادل نہ ہو۔‘‘

یانگ نے مزید کہا کہ بعض حوالوں سے چین کو علاقائی سلامتی اور دفاع میں واشنگٹن کی مسلسل موجودگی سے فائدہ ہوتا ہے اور بیجنگ اس حوالے سے امریکہ کی جگہ لینے کا خواہاں نہیں ہے۔

ہم مل کر ایک زبردست مستقبل بنانے جا رہے ہیں، ٹرمپ

02:20

This browser does not support the video element.

کیا مشرق وسطیٰ میں امریکی طاقت کمزور ہو رہی ہے؟

جرمنی کی یونیورسٹی آف بون کے سیاسی امور کے ماہر اور سینٹر فار گلوبل اسٹڈیز کے سربراہ گو شیوو کے مطابق ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی ناکامیوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فراہم کردہ سکیورٹی کی چھتری پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور خطے کے اسٹریٹیجک منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔

گو شیوو نے کہا، ''اس پس منظر میں بیجنگ ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات ختم کرنے یا مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔‘‘

فروری کے اواخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے چین تنازع کے سفارتی حل پر مسلسل زور دیتا رہا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کی ''اقتصادی گھٹن‘‘ کی حکمت عملی بحران حل کرنے میں ناکام رہے گی اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔

گو شیوو نے کہا کہ چین خطے میں امریکہ کے ''جارحانہ رویے‘‘ کو ناپسند کرتا ہے اور اس بات پر بھی ناراض ہے کہ امریکہ اپنے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے عرب ممالک اور چین کے درمیان توانائی، فوج، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو روکنے کی کوشش کرے۔

تاہم ان کے مطابق بیجنگ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے ساتھ ''فیصلہ کن جنگ‘‘ لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ گو شیوو نے کہا، '' براہِ راست مداخلت کیے بغیر امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں غلطیاں کرنے پر اکسانا اور اسے مزید غلطیاں کرنے دینا کافی ہے۔‘‘

چینی صدر شی جن پنگ کی ستمبر میں واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات موقع ہےتصویر: Evan Vucci/REUTERS

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی اہمیت

چینی صدر شی جن پنگ کا ستمبر میں واشنگٹن کا دورہ متوقع ہے۔ ولیم یانگ نے کہا، ''چونکہ بیجنگ اور واشنگٹن دونوں 24 ستمبر کو متوقع اہم سربراہی اجلاس کی راہ ہموار کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ دونوں ممالک ایران کے معاملے پر کوئی ایسا سخت اقدام کریں گے جس سے سربراہی اجلاس خطرے میں پڑ جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چین ایران کے ساتھ اپنے بنیادی روابط برقرار رکھے گا اور اگر امریکی حکومت نے چینی کمپنیوں کو ثانوی پابندیوں کا نشانہ بنانا شروع کیا تو بیجنگ اپنے اقتصادی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہوگا۔

پروفیسر گو شیوو کے مطابق اگر امریکہ بڑی چینی کمپنیوں اور بینکوں کو پابندیوں کا نشانہ بناتا ہے، تو یہ امکان موجود ہے کہ چین بھی اسی نوعیت کے جوابی اقدامات کرے گا جبکہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے گا۔

تاہم ان کے مطابق بیجنگ ''انتہائی محنت سے طے کیے گئے سربراہ اجلاس کے منصوبوں کو ترک نہیں کرے گا۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں