1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا آسٹریلوی ماڈل اور یورپی چیلنجز

کشور مصطفیٰ ماٹ پیئرسن
1 مارچ 2026

یورپ میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کے باعث اس پر پابندی سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا آسٹریلیا کا سخت ماڈل یورپ کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے؟

اس تصویر میں ایک موبائل فون ہے جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام سے ایک پیغام دکھایا گیا ہے
9 دسمبر 2025 کو سڈنی میں عمر کی توثیق کے لیے اکاؤنٹ لاک کیے جانے کے بعد ایک نوجوان کے پاس ایک موبائل فون ہے جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام سے ایک پیغام دکھایا گیا ہےتصویر: Str/AFP/Getty Images

گزشتہ برس آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر دنیا کی پہلی جامع سوشل میڈیا پابندی نافذ کی۔ اگرچہ یورپ کے متعدد ممالک، جیسا کہ ناروے، برطانیہ ، ڈنمارک، اٹلی اورنیدرلینڈز  بھی کچھ ایسی ہی پابندیوں کی بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن اب تک اس بحث میں بچوں کی رائے کو تقریباً نظر انداز ہی کیا گیا ہے، جس پر ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

جرمنی  کے شہر ہیمبرگ کے لائبنٹس انسٹی ٹیوٹ فار میڈیا ریسرچ سے وابستہ ڈاکٹر اشٹیفان ڈرائیر کے مطابق یورپ کو آسٹریلیا جیسے سخت اقدامات کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں کہا کہ یورپی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پہلے ہی آن لائن سکیورٹی کے کئی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ یورپی قانون سازی کے ڈھانچے میں انفرادی ممالک کے ذریعے ایسی پابندیوں کو نافذ کروانا خاصا پیچیدہ عمل ہو گا۔

کیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جانی چاہیے؟

06:54

This browser does not support the video element.

ڈرائیر کے مطابق آسٹریلیا کا تجربہ یورپ کو محتاط رہنے کا پیغام دیتا ہے۔  ان کے بقول، ''آسٹریلیا کا ماڈل یہ دکھاتا ہے کہ مضبوط سیاسی فیصلے اور انہیں عملی یا قانونی طور پر نافذ کرنے کے درمیان ایک بڑا فرق موجود ہے۔ عمر کی تصدیق کرنا یا تو مکمل نگرانی پر مبنی انفراسٹرکچر مانگتی ہے یا پھر احتمالات پر مبنی پروفائلنگ، اور دونوں صورتیں صارفین کے بنیادی حقوق میں گہری مداخلت کے مترادف ہیں۔ یورپ کو، جو بنیادی حقوق کے مضبوط تحفظ جیسے قوانین رکھتا ہے، ان چیلنجز کا کہیں زیادہ شدت سے سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یورپ کے لیے اصل سبق آسٹریلیا کے تجربات سے سیکھنا ہے، نہ کہ انہیں جلد بازی میں دہرانا۔‘‘ یورپی ماہرین کا عمومی خیال یہی ہے کہ سخت پابندی کی بجائے متوازن ضابطہ سازی، شفافیت، اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بڑھانا زیادہ پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا کی پیروی میں بہت جلد بازی فائدہ مند؟

آسٹریلیا کے سب سے بڑے چائلڈ ہیلتھ ریسرچ سینٹر 'مرڈوک چِلڈرنز ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘  سے وابستہ پروفیسر سوزن سوئیر کے لیے حیران کن ہے کہ یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ  بھارت اور ملائیشیا جیسے دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے ماڈل پر  عمل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت اور ملائیشیا جیسے دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے ماڈل پر عمل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیںتصویر: Hollie Adams/REUTERS

انہوں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں کہا، ’’میں توقع کر رہی تھی کہ دیگر حکومتیں تیزی سے قدم اُٹھانے کی بجائے آسٹریلیا کے اس ماڈل کے نتائج کا بغور جائزہ لیں گی۔ ہمیں ابھی معلوم نہیں کہ اس پابندی کے اثرات کیا ہوں گے، اس لیے اسے بہت احتیاط سے جانچنے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کو یہ سوچنے سے گریز کرنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پابندی مسائل کا کوئی جادوئی حل ہے۔‘‘

اسی رائے سے آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں قائم کرٹن یونیورسٹی میں انٹرنیٹ اسٹڈیز کی پروفیسر ٹما لیور بھی اتفاق کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ  یورپ کے لیے اس وقت بہتر یہی ہے کہ وہ مشاہدہ کرے اور انتظار کرے۔

انہوں نے کہا، ’’کسی کو بھی واقعی معلوم نہیں کہ یہ پابندی کیا تبدیلی لائے گی، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ معاشرے پر پڑنے والے اس کے اثرات سامنے آنے میں مہینے نہیں، بلکہ برسوں لگیں گے ، اگر وہ کبھی ظاہر ہوئے تو۔ دوسرے ممالک کے لیے زیادہ دانش مندی اسی میں ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ عجلت میں تیار کی گئی اپنی اپنی غیر واضح قانون سازی نافذ کر دیں وہ پہلے یہ دیکھیں کہ آسٹریلیا سے کیا اسباق ملتے ہیں۔‘‘

خیبر پختونخوا کے نوجوان ٹک ٹاکرز مشکل میں

05:40

This browser does not support the video element.

 کیا سوشل میڈیا پابندی نے نوعمروں کو مزید الجھن میں ڈال دیا ہے؟

پروفیسر سوزن سوئیر  کی تحقیق، جسے پابندی نافذ کرنے سے قبل آسٹریلوی سینیٹ کمیٹی میں پیش کیا گیا تھا، سے یہ ظاہر ہوا کہ 10 سے 13 سال کی عمر کے بچے، خصوصاً لڑکیاں سوشل میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ  یورپی تجاویز میں عمر کی حدیں مختلف ہیں، لیکن کسی بھی تبدیلی کے اثرات ظاہر  ہونے میں وقت لگے گا۔

ان کے بقول، ’’اگلے چند برسوں میں موجودہ 6 سے 10 سال کی وہ نسل، جو ابھی اسمارٹ فون یا سوشل میڈیا تک رسائی نہیں رکھتی، جب بڑی ہو گی اور والدین انہیں پہلی بار اجازت دیں گے، تب یہ تبدیلی واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔ سماجی رویوں میں یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی۔‘‘

سوشل میڈیا پابندی کے نوعمروں کے اذہان پر اثرات کے موضوع پر بھی بحث چل رہی ہےتصویر: Gustavo Basso/DW

لائبنٹس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر اشٹیفان ڈرائیر کا بھی یہی خیال ہے کہ اگر کسی اور ملک میں پابندی نافذ کی جائے تو اسے بتدریج متعارف کرایا جائے، اور اس بارے میں بچوں سے زیادہ اور گہری سطح پر مشاورت کی جائے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’سب سے زیادہ الجھن کا شکار 13 سے 15 سال کے وہ نوجوان ہیں جن کے پاس پہلے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تھے، مگر پابندی کے بعد انہیں پلیٹ فارمز سے نکال دیا گیا اور 16 سال کی عمر میں آنے کے بعد انہیں ان کے استعمال کی اجازت ملے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ نئے قوانین پرانے صارفین پر لاگو نہ کیے جاتے۔ میرے خیال میں بہت سے 13 سے 15 سال تک کے نوجوانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ پابندی ان پر مسلط کی گئی ہے، نہ کہ ان کے ساتھ بات کر کے بنائی گئی ہے۔‘‘

ٹک ٹاک پر پابندی اظہار رائے پر پابندی ہے، نگہت داد

03:35

This browser does not support the video element.

 

واضح رہے کہآسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے دنیا کی پہلی سوشل میڈیا پابندی متعارف کرائی تھی۔ اس پالیسی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں خود اس پابندی کی نگرانی اور نفاذ کریں۔

 فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب اور ریڈٹ جیسی سائٹس، جن میں سے ریڈٹ اور یوٹیوب نے اس پابندی کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا ہے،  اب عمر کی ان پابندیوں کے تحت کام کر رہی ہیں، تاہم آن لائن گیمنگ اور میسجنگ پلیٹ فارمز، جیسے WhatsApp، اس دائرے میں شامل نہیں ہیں۔

ادارت: عدنان اسحاق

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں