کیا عراق کو بھی ایران جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے؟
3 اپریل 2026
چند روز قبل عراق سے ایران جانے والے ٹرکوں کے ایک بڑے قافلے کی ویڈیو سامنے آئی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایک ''انسانی امدادی مشن‘‘ پر ہے۔ تاہم اس قافلے میں ایران نواز عراقی نیم فوجی گروہوں کے ارکان کی موجودگی نے خدشات کو جنم دیا کہ آیا عراق اس جنگ میں مزید الجھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس امکان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ محقق حیدر الشکیری کا کہنا ہے، ''اگر اس قافلے میں جنگجو شامل بھی ہوں، تب بھی اس سے اس جنگ پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ جنگ فضائی حملوں، میزائلوں اور وسیع علاقائی حکمت عملیوں سے طے ہو رہی ہے۔‘‘
اسی طرح امریکی تنظیم Enabling Peace in Iraq Center (EPIC) سے وابستہ عمر النداوی نے کہا کہ ایران کو عراق سے زمینی جنگجوؤں کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا، ''درحقیقت میرا خیال ہے کہ یہ قافلہ زیادہ تر مرعوبیت پیدا کرنے کے لیے تھا۔ ایران کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی یہ رہی ہے کہ وہ جنگ کو پھیلانے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات بڑھانے کا تاثر دے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ ایک طاقت کا مظاہرہ ہے۔ پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ اگر ہم ایران کی مدد کے لیے سرحد پار جا سکتے ہیں تو ہم کویت یا شام میں بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘‘
عراق کا سکیورٹی بحران اور اندرونی خطرات
ماہرین کے مطابق اصل خطرہ ایران نہیں بلکہ عراق کے اندرونی حالات ہیں۔
اس قافلے میں شامل گروہ دراصل پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) یا حشد شعبی کا حصہ ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک طاقتور نیٹ ورک ہے۔ یہ گروہ 2014 میں شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے خلاف لڑنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے باضابطہ طور پر عراقی سکیورٹی ڈھانچے میں شامل کر لیا گیا۔
پی ایم ایف کے اندر کئی ایسے دھڑے موجود ہیں، جو ایرانی حکومت کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں اور تہران کے تخلیق کردہ ''محورِ مزاحمت‘‘ کا حصہ ہیں، جس میں لبنان کی حزب اللہ، غزہ کی حماس اور یمن کے حوثی باغی بھی شامل ہیں۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عراق میں موجود ان ملیشیاؤں نے امریکی اور اسرائیلی مفادات پر حملے شروع کر دیے۔ ان حملوں میں سفارتی و عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ تیل کے ذخائر اور ہوٹل بھی نشانہ بنے۔
حیدر الشکیری کے مطابق، ''چند چھوٹے گروہ بھی بڑا اثر ڈال سکتے ہیں اگر وہ عراقی سرزمین سے حملے کریں یا غیر ملکی مفادات کو نشانہ بنائیں۔ اس طرح وہ پورے ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں جسے زیادہ تر عراقی نہیں چاہتے۔‘‘
امریکہ کا ردعمل اور حکومتی تضاد
ان حملوں کے جواب میں امریکہ نے پی ایم ایف کے ٹھکانوں پر بمباری کی، حالانکہ ماضی میں وہ اس سے گریز کرتا رہا تھا۔
گزشتہ ہفتے عراقی حکومت نے ہنگامی اجلاس میں حکم دیا کہ سکیورٹی اداروں، شہری مقامات یا سفارتی مشنز پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ لیکن اسی اجلاس میں حکومت نے تمام عسکری یونٹس، بشمول پی ایم ایف، کو ''دفاعی کارروائی‘‘کے نام پر مزید اختیارات بھی دے دیے۔
امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محمد صالح کے مطابق، ''یہ فیصلہ عملاً عراق کو اس علاقائی جنگ کا فریق بنا دیتا ہے، کیونکہ پی ایم ایف کی کارروائیاں بھی ریاستی ذمہ داری تصور ہوں گی۔‘‘
صحافی کے اغوا نے خطرات بڑھا دیے
اسی دوران بغداد میں ایک امریکی صحافی شیلی کیٹلسن کے اغوا نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق انہیں اغوا کرنے والے کتائب حزب اللہ نامی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جو پی ایم ایف کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس فورس کو ان کی بازیابی کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ بھی اسی ریاستی سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عراق کے سکیورٹی اداروں کے مختلف حصے ایک دوسرے کے مدمقابل آ سکتے ہیں۔
ترک تھنک ٹینک سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹیڈیز کے ماہر سرجان چلیشکان کے مطابق، ''یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پی ایم ایف کی مبہم حیثیت ایک بڑا ساختی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک طرف یہ ریاستی ادارہ ہے، دوسری طرف اس کے کچھ حصے ریاستی اداروں پر ہی حملہ کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا، ''ملک اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں سکیورٹی نظام کے مختلف حصے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘‘
بڑھتا ہوا عدم استحکام اور کمزور ریاست
ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے عراق کے اندر پہلے سے موجود مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حیدر الشکیری کے مطابق، ''عراق کے سکیورٹی اور سیاسی نظام میں تقسیم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ مسلح گروہ زیادہ بے باک ہو گئے ہیں کیونکہ احتساب کا نظام کمزور ہے، جس سے اغوا، تشدد اور اداروں کو کمزور کرنے جیسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔‘‘
حل کیا ہے؟
عمر النداوی کے مطابق اس بحران کا کوئی آسان حل نہیں، ''ریاست پر قبضے کی یہ صورتحال ایک ایسے ٹرین حادثے کی طرح ہے جو 20 سال سے تیار ہو رہا تھا، اور اب اس کے اثرات ہر طرف پھیل رہے ہیں۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل ایران کے اثر و رسوخ میں کمی یا پی ایم ایف کے معتدل دھڑوں کے دباؤ میں ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
حیدر الشکیری کے مطابق فوری ترجیح صرف نقصان کو محدود کرنا ہے، ''فی الحال حکومت کی اولین ترجیح کشیدگی کو کم کرنا اور نئی حکومت کی تشکیل ہے۔ اس کے بعد ہی حقیقی اصلاحات کا کوئی امکان پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران جنگ نے نہ صرف خطے کو متاثر کیا ہے بلکہ عراق کے اندرونی سکیورٹی ڈھانچے کو بھی ایک نازک مرحلے پر پہنچا دیا ہے، جہاں ریاستی رٹ اور ملیشیاؤں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ادارت: جاوید اختر