1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نازی دور کی تصاویر پر فوکس ویگن کے ڈیلر سے تعلقات منقطع

9 ستمبر 2020

جرمنی کی کار سازکمپنی فوکس ویگن نے میکسیکو کے ایک ڈسٹری بیوٹر کی طرف سے نازی دور کی چند تصاویر کے استعمال پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے۔

Mexiko Puebla | Coronavirus | Volkswagen
تصویر: Reuters/I. Medina

فوکس ویگن کا کہنا تھا، ’’ہم خود سے منسلک کسی بھی ادارے کی طرف سے نازی دور کی کسی بھی تصویر کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

لاس انجلیس میں قائم سیاسی طور پر سرگرم ایک یہودی این جی او''سائمن ویزنتھال سینٹر‘‘ نے مشہور زمانہ جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کے اس اقدام کی بہت تعریف کی جس کے تحت فوکس ویگن نے میکسیکو کے اپنے ایک ڈسٹری بیوٹر کی طرف سے نازی دور کی چند تصاویر کو اپنے تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر اس کی مذمت کی اور اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لینے کا فیصلہ کیا۔ یہودی این جی او نے فوکس ویگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ''نازی بربریت کے متاثرین کی یاد میں‘‘ اس جرمن موٹر ساز کمپنی نے یہ قدم اُٹھایا ہے۔

رواں ہفتے فوکس ویگن کے میکسیکو کے ڈسٹری بیوٹر کی طرف سے اپنے ہاں ایسی تصاویر آویزاں کی گئیں جن میں فوکس ویگن کی مشہور زمانہ کار بیٹل کے ساتھ نازی فوجی نظر آ رہے ہیں۔ یہ تصاویر غالباً تشہیری مقاصد کے لیے ڈسپلے پر لگائی گئی تھیں۔ اس پر فوکس ویگن انتظامیہ کی طرف سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا، ''ہم میکسییکو کے اس ڈسٹری بیوٹر کی طرف سے ایسی تصاویر کی تشہیر کی سخت مذمت کرتے ہیں جن میں نفرت اور امتیازی سلوک روا رکھنے والے نازی فوجیوں کو فولکس ویگن  کی بیٹلز ماڈل کے ساتھ، دکھایا گیا ہے۔ یہ جھلک ہے تاریخ  کے ایک ایسے دور کی جو خوش قسمتی سے اب ماضی میں کہیں غرق ہو چُکا ہے۔‘‘

میکسیکو سٹی میں فوکس ویگن کار شاپ۔تصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Jaramillo

یہ معاملہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب میکسیکو میں فوکس ویگن کے ایک ڈسٹری بیوٹر کے شو روم کا  دورہ کرنے والے ایک صارف نے وہاں کی تصاویر اتاریں اور سوشل میڈیا پر انہیں شیئر کر دیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان تصاویر کے رد عمل میں فوکس ویگن سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ میکسیکو میں اپنے اس ڈسٹری بیوٹر سے دوری اختیار کرے۔

فوکس ویگن کی طرف سے اپنے ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے اعلان سے قبل یہودی این جی او ''سائمن ویزنتھال سینٹر‘‘ نے جرمن موٹر ساز کمپنی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس ڈسٹری بیوٹر کے لیے ہر طرح کی مراعات کو مکمل طور پر ختم کردے اور اس طرح این جی او کے بقول، ''فوکس ویگن اپنے صارفین کو یہ واضح پیغام پہنچائے کہ اس نے اپنی تاریخ سے سبق حاصل کر لیا ہے۔‘‘

بیٹلز کی مختصر تاریخ

موٹر کار بیٹل کا تصور دراصل فرڈیننڈ پورشے نے نازی رہنما اڈولف ہٹلر کی سرپرستی میں ایک ''عوامی موٹر گاڑی‘‘ کے طور پر پیش کیا تھا۔ فوکس ویگن نامی کمپنی کی بنیاد نازی پارٹی کی مزدور تنظیم 'جرمن لیبر فرنٹ‘ نے ریاست کے زیر انتظام ایک ''عوامی کار کمپنی‘‘ کے طور پر رکھی تھی۔

فوکس ویگن کی بیٹل دنیا بھر میں مقبول ہے۔تصویر: Wafaa Al Badry

بیٹل کا شمار ہر دور میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پانچ مقبول ترین گاڑیوں میں ہوتا ہے۔ اسے جنگ کے بعد الائیڈ موٹر کار ساز کمپنیوں کی صف میں شامل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم اس پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا تھا۔ ایک برطانوی فوجی آفیسر آئیون ہرسٹ نے بالآخر بیٹل کے مستقبل کو بچا لیا اور یہ اقدام اس طرح جرمن شہر وولفسبرگ میں بیٹل کی پیداوار جاری رہنے کا سبب بنا۔  آئیون ہرسٹ  کو گرچہ اس کار فیکٹری کو بند کرنے کے اقدامات کا نگراں مقرر کیا گیا تھا تاہم اس نے اپنے ملٹری افسران کو راضی کیا کہ وہ بیٹل گاڑی کو اتحادی فوجیوں کے لیے ایک سستی گاڑی کے طور پر استعمال کرے جس سے نقل و حمل میں بھی بہت سہولت رہے گی۔

آئیکون کی حیثیت رکھنے والی فوکس ویگن گاڑی بیٹل کی تیاری جولائی 2019ء میں ختم ہو گئی۔ اس کی پیداوار کا سلسلہ بند ہونے سے پہلے دو اسپیشل ماڈلز تیار کیے گئے تھے۔ یہ اس کی اصلی ساخت والا ماڈل ''بگ‘‘ ہے جس سے اب بھی انگنت مداحوں کی یادیں وابستہ ہیں۔

ک م / ا ب ا (اے ایف پی، روئٹرز)    

  

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں